سپریم کورٹ متنازع تو آتے کیوں ہو؟چیف جسٹس

0
61

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے مختلف کیسوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے، سپریم کورٹ متنازع ہور ہی ہے، سپریم کورٹ اگر متنازع ہوتی جارہی ہے تو پھر یہاں آتے ہی کیوں ہیں؟ اسپتال عوام کیلئے گئے کسی کی انتخابی مہم کیلئے نہیں، شیخ صاحب کی اپنی سیاست ہے، میرا کچھ لینا دینا نہیں، عدالت عظمیٰ نے این اے 66 ؍جہلم سےمسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلال اظہر کیانی کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے دوران انہیں آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجاز ت دیدی۔ جبکہ بلوچستان سے پیپلزپارٹی کے امیدوار امین عمرانی کی الیکشن لڑنے کی درخواست مسترد اور میر شعیب نوشیروانی کے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیل خارج کر دی۔ اوقاف اراضی کی غیرقانونی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم تو اوقاف اراضی بھی نہ سنبھال سکے، لاہور میں ٹرسٹ کی زمین پر

سرکاری دفاتربن گئے، معاوضہ کون دیگا ؟سپریم کورٹ نے تحصیل کی سطح پر الرجی سینٹرز کے قیام سے متعلق درخواست خارج کر دی۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ الرجی سیکڑوں قسم کی ہے کسی کو کیلے سے ہوتی ہے کسی کو مالٹے سے ، کچھ لوگوں کو بندوں سے بھی الرجی ہے ، اس لیے تحصیل سطح پر سنٹرز بنانے کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پیر کے روز بلال اظہر کیانی کی اپیل کی سماعت کی تو اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے پہلے ہی دہری شہریت چھوڑ دی تھی،اب یہ مقدمہ بعد از انتخابات سے متعلق ہے، میرے موکل کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انتخابات لڑنے سے قبل ووٹر کو بتانا ہوتاہے کہ امیدوار کہاں کا شہری ہے؟ صرف شہریت چھوڑنے کا کہہ دینا کافی نہیں ہوتا، دہری شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ سے اہلیت شروع ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہا جاتا ہے سپریم کورٹ متنازع ہوتی جارہی ہے، سپریم کورٹ اگر متنازع ہوتی جارہی ہے پھر یہاں آتے ہی کیوں ہیں؟بعدازاں عدالت نے بلال اظہر کیانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں این اے 66 جہلم سے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی، بلال اظہر کیانی راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ اظہر کیانی کے صاحبزادے ہیں۔ فاضل بنچ نے بلوچستان کے پی بی 12 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور نیب کے بدعنوانی کے ایک ریفرنس کے ملزم امین عمرانی کی الیکشن لڑنے کی اجازت کے حصول کیلئے درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انکا موکل پی بی 12سے الیکشن لڑنا چاہتا ہے اس لئے کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن لڑنے کی اجازت دے جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کس بنیاد پر آپ کے موکل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدیں؟آپکی تو نظر ثانی کی اپیل بھی میرٹ پر نہیں ۔بعدازاں عدالت نے درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے بلوچستان عوامی پارٹی کے میر شعیب نوشیروانی کی اپیل کی سماعت کی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے اپیل کنندہ کے وکیل کوکہا کہ یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی نے آپکے موکل کیخلاف فیصلہ دیا تھا جو آپ نے چیلنج نہیں کیا ہے ،ڈسپلنری کمیٹی نے آپکی ڈگری کو جعلی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے رائونڈ میں آپکی ڈگری جعلی ہونا حتمی ہوچکا ہے۔ فاضل وکیل نے کہا کہ حقائق اس سے مختلف ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یونیورسٹی کی خفیہ برانچ کے کنٹرولر کا بیان بھی آپکے خلاف ہے۔ بعدازاں عدالت نے میر شعیب نوشیروانی کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل مسترد کردی جبکہ راولپنڈی کے زچہ وبچہ اسپتال کی تعمیر میں تاخیرسے متعلق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے درخواست گزار شیخ رشید کی استدعا پر زچہ و بچہ اسپتال کے دورہ کے بعد سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر کئے جانے والے منفی تبصروں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرا درخواست گزارشیخ رشید سے کوئی سیاسی تعلق نہیں، ہم وہاں پر شہریوں کے ایک اہم ترین مسئلہ کو سمجھنےکیلئے گئے تھے ، کسی کی انتخابی مہم کیلئے نہیں گئے ، کل یہ تاثر دیا گیا کہ میں کسی کی سیاسی مہم پر گیا ہوں، لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے پیر کے روز سپریم کورٹ کے کمیٹی روم میں کیس کی سماعت کی تو درخواست گزارشیخ رشید، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اسپتال کی تعمیر کے حوالے سے کس نتیجے پر پہنچے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ ہم 18 ماہ کا وقت لیں گے، موبلائیزیشن ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹھیکیدار کہاں ہے ؟ تو انہوںنے کہا کہ وہ نہیں آسکا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی جائز طریقے سے کام کرے، کسی کیساتھ ناانصافی نہ ہو نے پائے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپتال کا کام 18 ماہ میں مکمل کیا جائیگااور اس معاملہ کیلئے ایک ڈاکٹر کی سربراہی میںکمیٹی دو روز میں تشکیل دی جائے گی، مجوزہ کمیٹی اسپتال کی مشینری کی خریدار ی سمیت دیگر معاملات کو دیکھے گی۔انہوںنے کہا کہ ہسپتال کا سارا کام ایک ساتھ ہی شروع ہو گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسپتال کی تکمیل کیلئے سارے فریقین نے تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، پی ڈبلیو ڈی حکام نے تجویز پیش کی کہ ہسپتال کی تعمیر کیلئے اعلیٰ سطح کی نگران کمیٹی بنائی جانی چاہئے ،جس میں دیگر اراکین کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کا بھی نمائندہ شامل ہو نا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ایڈیشنل رجسٹرار خواجہ داد کو کمیٹی میں شامل کرلیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اسپتا ل پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ 5 عشاریہ تین ارب ہے،اسپتال کی تکمیل کیلئے وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں پریشانی آسکتی ہے، اسلئے اسپتال کی تعمیر سے متعلق ماہانہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY