دوپہر کو کیا کھانا ہے ۔۔ ہر گھرکی طرح ہمارے گھر کا بھی سب سے مشکل سوال تھا۔
سب ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے ۔۔ نجیب میرے پاس آیا ۔۔ پیار سے گلے لگایا ۔۔ امی آج ہم سب کے لئے بریانی بنائیں گی
کیا ۔۔پاگل ہوئے ہو ۔۔ میں نے اسے خود سے علیحدہ کرتے ہوئے کہا
کم آن امی
(Come on Ammi )
۔۔ اب آپ اتنی بیمار بھی نہیں کہ مجھے بریانی پکانا نہ سکھا سکیں ۔۔۔ وہ باقاعدہ منتوں پر اتر آیا تھا
او مائی گوڈ ۔۔ نجیب ۔۔ انسان بنو ۔۔ آمنہ نے اسے ڈانٹا
تو کیا ہوا ۔۔ آپریشن تو کل ہے ۔۔ آج امی بالکل ٹھیک ہیں ۔۔ یار میری کتاب آپ کی بریانی کی ترکیب کے بغیر ادھوری ہے ۔۔ سمجھا کریں
نجیب اور ممی کا معاملہ ہے ۔۔ وہ جانیں ۔۔منیب نے اس مسلے پر اپنے ہاتھ اٹھا لیئے
خدا کو مان بیٹا ۔۔ بریانی بنانا اتنا آسان نہیں ہے ۔۔آدھے دن بعد سو کر اٹھے ہو اور اب بریانی بنانا سکھاؤں
اچھا آپریشن کے بعد جیسے ہی ٹھیک ہونگی سب سے پہلے اپنے بیٹے کو بریانی بنانا سکھاؤنگی ۔۔۔ وعدہ پکا والا
لیجئے دیکھئے آپ دونوں بھی ۔۔ آمنہ نے جیسیکا اور نیکول کو دکھایا ۔۔۔ نجیب مجھ سے اب بریانی کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سیھکنے کا وعدے لے رہا تھا ۔
تم لوگ نہ سیکھنا کچھ ۔۔ میں نے تینوں لڑکیوں کو ڈانٹا
نہیں آپ اپنے بیٹوں کوسکھایئے ۔۔ ہم کھانے کے ساتھ انصاف کرنے والوں میں سے ہیں ۔ ۔۔ تینوں ہم آواز تھیں ۔۔ بچوں کی رونقیں بھی عجب تھیں ۔۔ کمرے کے ہر کونے سے قہقہ نکل آتا تھا ۔
نظر بدور ۔۔ کتنی ہی بار آیت الکرسی اور چاروںقل پڑھ کر سب پر پھونک چکی تھی جسے آمنہ بچپن میں “گوڈ سٹف
( God Stuff)
“ کہتی تھی ۔
دوپہر کاکھانا جو اب رات کے کھانے میں بدل چکا تھا ۔۔ ایمیلیا چھ بجے سو جاتی تھی ۔۔ وہ مجھے گڈنائٹ کِس دے کر بائی بائی کہہ کر سو چکی تھی ۔۔سو منیب اور جیسیکا بھی سکون سے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ کبھی چائے کا دور چلتا تو کبھی مونگ پھلی کھائی جا رہی تھی ۔۔ میں نے صبح سات بجے سے کچھ نہیں کھانا تھا ۔
بچے بہانے بہانے سے مجھ سے پیار کر رہے تھے ۔۔ نجیب حسب معمول سب سے نزدیک لیٹا ہوا تھا اور بہانے بہانے سے میرے پاتھے پر پیار کرتا اور پوچھتا ۔۔آپ ٹھیک ہیں ناں ۔۔
بس ایسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا ۔۔
خبر گیر رہنے سے مشکلیںدم توڑ دیتی ہیں بیٹا ۔۔
ہم نے تم سب کو خبر گیری اور دلداری سکھائی ہے ۔۔اپنی زندگی ایسے ہی گزارانا ۔۔ تمہارا دامن شکرگزاری سے بھرا رہے گا ۔
میں انہیں بتا رہی تھی ۔۔ ایک دفعہ میںاوشو کا لیکچر سن رہی تھی ۔۔وہ بتا رہے تھے پرانے وقتوں کی بات ہے۔ کسی بزرگ نے بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے دعا دی “خدا تمہیں دس بیٹے عطا کرے اور گیارہواں بیٹا تمہارا شوہر ہو جائے ۔ “
بیٹی گھبرا گئی ۔۔ اس نے پوچھا بابا یہ کیسی دعا ہے ۔
بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا “ جس گھر میں ہر طرف پیار کی گھنی چھاؤں ہو وہاں پیار کی پاکیزگی اور گہرائی میں تمام افراد پرسکون اور شانت رہتے ہیں اورجو اس سکون اور شانتی کو پالیتے ہیں ان میں جنسی خواہشات نہ ہونے کے برابررہ جاتی ہیں ۔ کسی بھی بیوی کے لئے یہ اس کے پیار کی انتہا اورانتہائی فخر کا مقام ہے کہ وہ اپنے شوہر کو ماں جیسی لگے ۔دنیا میں جیسے جیسے پیار کم ہورہا ہے ویسے ویسے جنسی ہوس اور حیوانیت بڑھ رہی ہے ۔ ہر ناخوش اور بے چین عورت اور مرد کو اپنا اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ کیا ان کے پیار میں اتنی پاکیزگی اور گہرائی ہے جو چھاؤں کی صورت گھرکے ہر فرد کو پرسکون رکھ سکے۔

آپ ہمیں یہ کیوں بتا رہی ہیں ۔۔ نجیب نے میرے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے پوچھا
بیٹا آپ سب بالغ ہیں ۔۔ ہم سب ایک دوسرے سے ہر اچھی بری بات شیئر کرتے ہیں ۔۔ اس لیئے یہ بات بتائی ہے کہ تم سب اپنے اپنے رشتوں کوسنبھال کر رکھنا ۔۔ اس کی پاکیزگی بنائے رکھنا ۔ بیٹا گھر عورت مرد مل کربناتے ہیں ۔۔اور اس کی حفاطت بھی دونوں کی یکساں زمہ داری ہے ۔۔ ایک دوسرے کابہت خیال رکھنا ۔۔ یاد رکھنا دنیا میں ایساکوئی مسلہ نہیں ہے جسے مل بیٹھ کر بات کرنے سے سلجھایا نہ جا سکے ۔۔ شرط وہاں بھی خلوص کی ہوتی ہے ۔۔ کون نبھانا چاہتا ہے ۔۔ اور کون نہیں ۔ ۔۔اور جو کوئی نہ نبھانا چاہے تو اسے عزت سے رخصت کردینا ۔۔ کوئی تذلیل نہیں ۔۔ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کرنا ۔۔۔ ہم اپنے ہر عمل کے جوابدہ ہیں ۔
تم سب اپنی بہن آمنہ کا خیال رکھنا ۔۔ بہنوں کے لئے ان کے بھائی باپ جیسے ہوتے ہیں چاہے عمر میں چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں ۔
آمنہ تم سب سے بہت پیار کرتی ہے ۔۔ وہ میرے بعد تم سب کے لئے ماںجیسی ہے ۔۔ اس کا احترام کرنا ۔۔۔ تمہیں معلوم ہے تمہارے نانا ابو کبھی اپنی ماں کے سامنے پیچھا کر کے کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔۔ اور جب بھی کبھی سفر سے لوٹ کر آتے سب سے پہلے بہنوں کے گھر جاتے ۔۔۔ تمہیں یاد ہے جب ہم پاکستان میں تھے نانا ابو اور ماموں عید کی نماز کے بعد سیدھے ہمارے گھر آتے تھے ۔۔ اور اب نانا ابو کے جانے کے بعد ماموں یہی کرتے ہیں ۔۔ عید کی نماز کے بعد سب سے پہلے گڑیا خالہ کےگھر جاتے ہیں ۔۔ یہ سب پیار کی باتیں ہیں بچو جو حدیث جیسی لگتی ہیں ۔ تم دونوں اپنی بہن کا اس سے بھی زیادہ خیال رکھنا ۔ ۔۔ تم خیال رکھو گے تو جیسیکا اور نیکول بھی رکھے گی ۔ پیار سے پیار ہوتا ہے ناں ۔
اچھا بس اب امی آپ اٹھیں اور آرام کریں ۔۔ بہت رات ہو گئی ہے ۔۔ منیب ایسے وقتوں میںایک دم بزرگ بن جاتا تھا
اگر کچھ کھانا ہے تو لے کر آؤں ۔۔ آفتاب نے کچن جاتے ہوئے پوچھا
نہیں بس پانی لیتے آیئے ۔۔صبح اپنی ایمیلیا کے ساتھ چھ بجے ناشتہ کرونگی اور دوا کھاؤنگی ۔۔ پھر سات بجے سے کچھ نہیں کھانا ۔
اور ۔۔ ہم سب ساڑھے دس تک گھر سے ہوسپٹل کے لئے نکل جائیںگے ۔۔ منیب نے ایک اور حکم سنا دیا تھا
جی بھائی ۔۔ ہم سب تیار ہونگے ۔۔آمنہ نے یقین دلایا
تمہارا ہی مسلہ ہوتا ہے آمنہ ۔۔ اتنی دیر سے اٹھتی ہو ۔ اٹھ جاتی ہو تو دو گھنٹے تک موڈی رہتی ہو ۔۔ نجیب کو تو موقع چاہیئے تھا
نجیب ۔۔۔ بہن کو نہ تنگ کیا کرو ۔۔ اتنا کام کیا ہے اس نے آج ۔۔میں نے آمنہ کو گلے سے لگا لیا ۔
سب ایک ایک کر کے اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئے جا چکے تھے ۔۔ اور
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













