آفتاب کے چہرے پر فکرمندی میں پڑھ سکتی تھی لیکن انہیں بتانا نہیں چاہتی تھی کہ ۔۔۔ میں بھی فکرمند ہوں ۔
سنیئے تین ٹیسٹ تو آج ہو جایئں گے لیکن بون اسکین کے لئے وقت لینا پڑے گا ۔
کوئی بات نہیں ۔۔
پہلے سی ٹی سکین کے لیئے چلتے ہیں
پھر بلڈ ٹیسٹ اور ٹیومر مارکرز کے لئے ۔۔ اسی دوران بون اسکین کا وقت بھی لے لیں گے ۔
تم کہو تو آمنہ کو بلا لوں ۔۔آفتاب جانتے تھے کہ میں اس سے کتنی قریب ہوں اور وہ میرے لئے تسلی کا انمول خزانہ بھی ہے ۔
نہیں نہیں ابھی نہیں جب تک مائیکل برلنگ سے مل نہ لیں ۔۔ بچوں کو بھی اس مشکل وقت سے نمٹنے کی تدبیر کے لئے وقت چاہیئے۔
ہم دونوں سی ٹی اسکین کے لئے کاؤنٹر پر کھڑے تھے ۔۔ڈاکٹر مدحت سید پہلے ہی سے فون پر انہیں بتا چکی تھی ۔

فریڈ جس نے میرا فل باڈی اسکین کرنا تھا اس نے مجھے طریقہ کار سمجھایا ۔۔
تیس تیس منٹ پر آدھے گلاس پانی میں ریڈیائی کیمکل پینا ہے ۔۔ پھر کپڑے بدل کر آسمانی رنگ کا ڈھیلا سا گاؤن پہن کر سی ٹی اسکین کے لئے روم میں جانا ہے ۔
اور وہاں کچھ ایکسرے سادہ ہونگے گے اور کچھ ایکسرے کنٹراسٹ میڈیم ( بے رنگ ڈائی) جو انجیکشن کے زریعے لگائی جاتی ہے۔ یہ ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر کو جسم کے اندر اعضاء اور رگوں کو زیادہ واضح طور پر دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔۔ ۔۔۔۔ پھر ایک فارم پر سائن لیا کہ اگر ڈائی سے ری ایکشن ہو گیا تو میں ہی زمہ دار ہونگی۔

سی ٹی اسکین ، جسے کمپیوٹڈ ٹوموگرافی اسکین

( Computed Tomography) Scan )

بھی کہا جاتا ہے ، ایک اسکین آبجیکٹ کے مخصوص علاقوں کی کراس سیکشنیکل (ٹوموگرافک) امیجز (ورچوئل “سلائسس”) تیار کرنے کے لئے مختلف زاویوں سے لی گئی بہت سے ایکس رے ہیں جو پیمائشوں کے کمپیوٹر پروسیسڈ امتزاجوں کا استعمال کرتا ہے۔ جسم کو بغیر کاٹے اندر کی بابت بتاتا ہے ۔

سی ٹی کی بہت سی دوسری قسمیں موجود ہیں ، جیسے پوزیٹرن ایمیشن ٹوموگرافی

(PET Scan)

اور سنگل فوٹوون ایمیشن کمپیوٹیٹ ٹوموگرافی

(SPECT Scan)

۔ ایکس رے ٹوموگرافی ، سی ٹی کا پیش رو ہے ، ریڈیوگرافی کی ایک شکل ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ٹوموگرافک اور نان ٹاموگرافک ریڈیوگرافی کی بہت سی دوسری شکلیں ہیں جنہیں آثار قدیمہ کی جانچ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔

پچھلی دو دہائیوں سے سی ٹی اسکین کے استعمال میں بہت اضافہ ہوا تھا ۔ امریکہ میں 2007 میں کینسر کی تشخیص 0.4 فیصد اسی وجہ سے ہوئی تھی ۔ میڈیکل کے امتحانوں کے دوران میں نے ریڈیو لوجی پڑھتے ہوئے پڑھا تھا کہ انسانی دماغ کا پہلا سی ٹی سکین یا پوزیٹرن ایمیشن ٹوموگرافی

(PET Scan)

اور سنگل فوٹوون ایمیشن کمپیوٹیٹ ٹوموگرافی

(SPECT Scan)

آج سے 50 سال قبل یکم اکتوبر 1971 کو کیا گیا تھا۔

اس کا سہرا 1960 کی دہائی کے وسط میں برطانوی انجینیئر گاڈفری ہاؤنزفیلڈ کی محنت کو جاتا تھا جنہوں نے پہلے خیالی طور پر دماغ کو ٹکڑوں میں کاٹا جیسے ڈبل روٹی کے ایک ٹکڑے سے سلائس بنائے جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہر تہہ میں سے ایکس رے شعاعیں گزارنے کی منصوبہ بندی کی اس کے بعد انہوں نے ہر تہہ میں سے الگ الگ ایکس رے شعاعیں گزاریں، اور یہی عمل نصف دائرے کی ہر ڈگری کے لیے دہرایا (دائرے میں کل 360 ڈگریز ہوتی ہیں، اس لیے نصف دائرے میں 180 ڈگریز بنتی ہیں)۔

ہر شعاع جب دماغ کے مخالف سمت سے نکلتی تو اس کی طاقت کو ناپا جاتا۔ جو شعاع زیادہ طاقتور ہوتی، اس کا مطلب لیا جاتا کہ وہ کم ٹھوس مواد سے گزری ہے۔

لیکن سب سے زیادہ ذہانت ہاؤزفیلڈ نے وہ الگوردھم تیار کرنے میں دکھائی جس سے تمام دماغ کی تصویر ان چھوٹی چھوٹی تہوں کی مدد سے تیار کی جا سکتی تھی۔ اپنے دور کے طاقتور ترین کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے اور آگے سے پیچھے کی طرف کام کرتے ہوئے انہوں نے دماغ کی ہر تہہ کے ہر خانے کی قدر معلوم کر لی۔ یہ ارشمیدس کی طرح ان کے لیے کامیابی کا یوریکا لمحہ تھا!

اس دوران ہاؤنزفیلڈ کو ایسے مریضوں کی ضرورت پڑی جن پر وہ اپنی مشین آزما سکیں۔ انہی دنوں ان کی ملاقات ایک نیورولوجسٹ سے ہوئی جس نے ابتدا میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن پھر تعاون کے لیے تیار ہو گیا۔ ٹیم نے لندن کے ایٹکنز مورلے ہسپتال میں ایک بڑا سا سکینر نصب کر دیا اور یکم اکتوبر 1971 کو اپنے پہلے مریض کی سکینگ کر ڈالی۔ یہ درمیانی عمر کی ایک خاتون تھیں جنہیں برین ٹیومر کی علامات تھیں۔

 

لیکن آج ایسا وقت ہے کہ دنیا میں کروڑوں سی ٹی اسکین ہوتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ محنت کبھی رائگاں نہیں جاتی ۔۔۔ ہاؤنزفیلڈ کی ایجاد نے تو شعبہ طب کی دنیا بدل کر رکھ دی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ 1979 میں شعبہ طب میں انہیں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ 1981 میں ملکہ برطانیہ نے انہیں سر کا خطاب عطا کیا۔

سی ٹی اسکین سے ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کا پتہ لگاسکتے ہیں، جیسے ہڈیوں کے پیچیدہ فریکچر اور ٹیومر کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔ اگر کسی کو کینسر، دل کی بیماری، ایمفیسیما ( پھیپھڑوں کی بیماری ) ، یا جگر کے ٹیومر یا کینسر جیسی کوئی علامت ہو تو سی ٹی اسکین سے دیکھ سکتے ہیں یا ڈاکٹروں کو کسی بھی تبدیلی کو دیکھنے میں مدد مل جاتی ہے ۔ سی ٹی اسکین سے حادثات میں ہونے والی اندرونی چوٹوں اور خون بہنے کو بھی جان سکتے ہیں ۔۔

میرے ڈاکٹرز کو بھی جاننا تھا کہ میرا کینسر کہاں تک پہنچ چکا ہے ۔۔۔
کیا میرے پھیپھڑے ، جگر ، دماغ یا جسم کی غدود

( Lymph Nodes)

کینسر سے محفوظ ہے ۔۔۔ کہ نہیں ۔۔

میرے سارے سی ٹی اسکین ہو چکے تھے
پوزیٹرن ایمیشن ٹوموگرافی

(PET Scan)
سنگل فوٹوون ایمیشن کمپیوٹیٹ ٹوموگرافی

SPECT Scan
اور رزلٹ شام یا کل صبح نو بجے تک ملنا تھا ۔۔۔ دل تھا کہ ایک ہی ورد کر رہا تھا ۔

رَبَّ انِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ

چلیئے اب بلڈ ٹیسٹ اور ٹیومر مارکرز کروا لیتے ہیں ۔۔ میں نے سی ٹی اسکین روم سے نکلنے کے بعد آفتاب سے کہا جو انتظار گاہ میں بییٹھے ہوئے تھے۔۔۔
اگر آپ کو بھوک لگی ہے تو کھانا کھا لیجئے پلیز ۔۔ مجھے تو فاسٹنگ میں ٹیسٹ کروانے ہیں اور جانے کتنا وقت لگے ۔۔مجھے آفتاب کی شوگر کم ہونے کی فکر تھی لیکن شکر چلتے وقت وہ

Diabetic Candies

ساتھ لے کر آئے تھے۔۔
نہیں پہلے تمہارے ٹیسٹ ہو جایئں پھر ایک ساتھ ہی کھایئں گے
جی اچھا ۔۔
میں اپنے اسکینز کی رپورٹ کے بارے سوچ رہی تھی ۔۔ افف اگر کینسر بدن میں پھیل گیا ہوا تو ؟
میں اب تک حیران تھی کہ ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے ایسی بے خبری ۔۔ یا واقعی کینسر بے خبری ہی میں حملہ کرتا ہے ۔
بلڈ ٹیسٹ کے لئے انتظار کرتے ہوئے میں سوچ رہی تھی مشکل وقت میں دوسروں کی نہیں ہماری اپنی پہچان ہوتی ہے ۔۔ ہم کتنے مثبت اور ثابت قدم ہیں۔۔ اپنے خدا پر کتنا بھروسہ رکھتے ہیں۔۔ دعاؤں میں کتنی سچائی سے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اور سب سے اہم وقت کی پکار کو کتنا سمجھتے ہیں۔

ہم کو عادت سی ہو گئی اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈال دینا ۔۔ اپنی مشکلات اور بیماریوں کا سامنا کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں صبر اور رضا کے مقام سے نیچے نہیں آنا چاہیے۔
میں مسکرا رہی تھی ۔۔۔ اور بلڈ ٹیسٹ کے لئے نرس بھی مجھے کمرے میں لے جانے کے لئے آ چکی تھی ۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY