پانی کا بحران ایک سنگین مسئلہ۔پہلی قسط،محمد عبدالرحمن

0
88

خداوندتعالیٰ کی ہر نعمت کسی نہ کسی طرح کرشماتی ہے۔ کائنات می ہر ایک شے اپنی خصوصیات اور اہمیت میں کمالات الہی ظاہر کرتا ہے۔ دنیا میں ہرچیز کی اکائی مادہ ہے۔ مادہ کی تین صورتیں ہیں گیس مائع فیس اور ٹھوس پانی قدرت کا ایسا مادہ ہے جوان تینوں حالتوں میں پایہ جاتا ہے بڑے بڑے گلیشئر ہو یا سمندر یا پھر آسماں سے گرجتے برستے بادل سب پانی کی الگ الگ شکلیں ہیں کہتے ہیں دُنیا کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے لیکن دنیا مین سب سے بڑا مسئلہ بھی پانی ہے ۔ہمارے ملک میں اگردیکھیں تو سمندر کے کنارے واقع ہونے کے باوجوس کراچی کے عوام کیلئے سب سے بڑا مسئلہ پینے کے لئے صاف پانی ہے ۔

پانی ماحول کی خوب صورتی بڑھانے کے لئے ایک اہم جز ہے۔ گلیشئر پگھلتے اور بلند وبالا پہاڑوں سے گزرتا ہے تو یہ پانی کبھی شور مچاتے دریا بن جاتے ہیں اور کہیں یہ بلند وبالا پہاڑ سے گرتا ہے تو دیکھنے ولادھنگ رہ جاتا ہے جب یہ خوبصورت آبشار کا روپ دھار لیتا ہے قدرت کے یہ حسین نعمت جب زیر زمین سے نکلتا ہے تو اسے چشمہ کہا جاتا ہے جو کہ اتنا صاف ہوتا ہے اسکے آگے شیشہ کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی ، اس نعمت الہی کے بشمار فائدے ہیں کاشت کاری جہو ، جنگلات لگانا ہو ، صاف ستھراا اور خاص کر آجکل کے دور میں ن بجلی پیدا کرنا ہو تو یہ نعمت الہی ہی کام آتا ہے ۔ اگر پانی کا درست استعمال کیا جائے تو یقینی طور پر یہ انسانی زندگی کو آسان بنا دیتا ہے۔ جہاں پانی کے بیرونی فوائد ہے۔ وہاں جانداروں کے جسم کے اندر بھی اسکا بڑا اہم کردار ہے۔ کہتے ہیں انسانی جسم کا 60سے70فیصد پانی ہی ہوتا ہے۔

ایک نارمل شخص کو دن میں 2سے3 لٹر پانی استعمال کرنا چاہئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پانی کی جسم کے اندر بھی کتنی اہمیت ہے مختلف بیماریاں جن میں خاص کر جلدی بیماریاں جو کہ بڑا خطرناک ہوتا ہے وہ پانی کے کم استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل کو دیکھ کر مبصرین کا کہنا ہے ۔ کہ اب جو عالمی جنگ چھڑ جائے گی وہ پا نی پر ہوگی۔ ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کرنی چاہئے ۔ زیادہ سے زیادہ ڈیم بنانے کے ضرورت ہے۔ چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کا دارومدار زراعت پر ہی ہے ۔ پس اگر ہم نے بروقت فیصلہ نہ کیا تو ہمیں آنے والے وقت میں قحط سالی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

پانی کا بحران اصطلاح سے مراد دنیا کے پانی کے وسائل بمقابلہ انسانی مانگ ہے۔ اس اصطلاح کا اطلاق اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے کیا ہے۔ دینا کے بہت سے حصوں میں تازہ پانی (خاص طور پر پینے کے قابل پانی) کی قلت ہے۔ آبادی اور فی کس استعمال میں اضافے اور عالمی حدت کی وجہ سے بہت سے ممالک میں پانی کی شدید قلت ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق زمین کا درجہ حرارت لگاتار بڑھ رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے اٹھارہ سو اسی سے لیکر دوہزار پندرہ تک سولہ گرم ترین سالوں میں پندرہ موجودہ صدی کے سال ہیں یعنی اس صدی کا ہر سال گرم ترین سال رہاہے گلوبل وارمنگ کے تباہ کن خطرات اب بری طرح سے زمین کو گھیرے ہوئے ہیں ایسے میں دنیا میں بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں کہ اسی میں انسان کے بقا ہے ، لیکن ہمارے ہاں قصہ کچھ مختلف ہے ہمارے صرف چار فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جن کو ہم دن رات کم کرنے میں لگے ہیں تاکہ یہ درختوں کا قصہ ہی ختم ہو ، یہ دن رات زہر اگلتی فیکٹریاں اور گاڑیاں گرین ہاوس گیسز کے تناسب کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔

یہ زمین کو قدرتی طور پر گرم رکھنے کا ایک عمل ہے تاکہ زمین پر جاندار زندہ رہ سکیں لیکن اگر ان گیسز کا تناسب بدل جائے توزمین کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے ناصرف سخت قوانین بنائے گئے ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ہورہاہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد شاید ہی کبھی ہواور یہ فیکٹریاں دن رات زہراگل رہی ہیں ۔

(مضمون کی تیاری کے لیئے سائینسی کتب اور نیٹ کے مضامین سے استفادہ کیا گیا)

تحقیق؛محمد عبدالرحمن

SHARE

LEAVE A REPLY