احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نواز شریف کو تین دن کی حاضری سے استثنیٰ دے دیا ہے جبکہ خواجہ حارث نے جج بشیر پر مزید کیس سننے پر اعتراض کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت ہوئی، اس دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت کے جج پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرے موکل کے خلاف ایک ریفرنس میں فیصلہ سنا چکے ہیں اس لیے اب آپ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس نہیں سن سکتے۔

اس پر احتساب عدالت کے جج نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی بتا دیں کہ اب کیاکریں ؟ جس پر خواجہ حارث کا کہناتھا کہ آپ اس معاملے پر سپریم کورٹ کو خط لکھیں اور اس حوالے سے آگاہ کریں جبکہ ہائی کورٹ کو بھی آگاہ کردیں کہ آپ دیگر دو ریفرنس نہیں سن سکتے ۔

خواجہ حارث کا کہناتھا کہ چاہتے تھے کہ تمام ریفرنس کا فیصلہ ایک ساتھ دیا جائے ۔جج محمد بشیر کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ کو لکھنا میرا کام ہے اور وہ میں لکھ کر بھیج دوں گا ۔

دوران سماعت جج محمد بشیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے دن کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی،کمپیوٹر پر بھی غلطیاں درست کرنی پڑتی ہیں۔کیس کی سماعت کے دوران بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی اور نوازشریف کی حاضری سے پانچ دن کے استثنیٰ کی درخواست کی گئی۔

خواجہ حارث کا کا کہناتھا کہ نوازشریف اور مریم نواز جمعہ کو وطن واپس آ رہے ہیں اس لیے سماعت کو پیر تک ملتوی کر دیا جائے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد کارروائی کو آگے بڑھایا جائے ، جس پر حتساب عدالت نے خواجہ حارث کی درخواست منظور کر تے ہوئے تین دن کا استثنیٰ دے دیاہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY