مصری فوج کے بریگیڈیئر جنرل دارالحکومت قاہرہ کے نزدیک قتل

0
285

مصری فوج کے جزیرہ نما سیناء میں خدمات انجام دینے والے بریگیڈیئر جنرل عادل رجائی کو دارالحکومت قاہرہ کے نواح میں ان کے مکان کے باہر قتل کردیا گیا ہے۔
ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے جنرل عادل رجائی پر العبور شہر میں واقع ان کے مکان کے باہر فائرنگ کی ہے۔وہ اس وقت گھر سے کہیں باہر جانے کے لیے نکلے ہی تھے اور کار میں بیٹھنے لگے تھے۔
ان ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے آرمی جنرل پر متعدد گولیاں چلائی ہیں اور اس کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔مقتول کی خواہر نسبتی ہدیٰ زین العابدین نے بتایا ہے کہ ”حملہ آوروں نے ہفتے کی صبح چھے بجے فائرنگ کی تھی۔میں یہ نہیں بتاسکتی کہ انھیں چھے گولیاں ماری گئی ہیں یا بارہ۔ ان پر کار میں سوار ہونے سے قبل حملہ کیا گیا تھا”۔
واقعے کے بعد پولیس نے العبور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوائںٹس بنا دیے ہیں تاکہ حملہ آوروں کو فرار ہونے سے روکا جاسکے۔
واضح رہے کہ قاہرہ کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں اور شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں داعش اور دوسرے گروپوں سے وابستہ جنگجو گاہے گاہے فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ان جنگجو گروپوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے۔
مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی صوبے شمالی سیناء میں مختلف جنگجو گروپ مصری سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ان میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء ہے۔مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سیناء میں کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے لیکن ابھی تک وہ شورش پسندی پر مکمل طور پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY