پانی کا بحران ایک سنگین مسئلہ۔تیسری اور آخری قسط

0
77

پانی کے بحران کا حل اور ڈیمز بنانے کی ضرورت

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ آنے والے انتخابات اور سیاسی مسائل پر مر کوز ہے، ملک کے آبی ماہرین پانی کی قلت پر پریشان ہیں اور اس کے حل کے طریقے سوچ رہے ہیں۔کئی بین الاقوامی اداروں کے مطابق پاکستان تیزی سے ایک ایسی صورتِ حال کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں آنے والے وقتوں میں اسے شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کچھ ماہرین کے خیال میں پاکستان آنے والے سات برسوں میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔ کئی آبی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ توانائی اور آبی امور کے ماہرین کے مطابق اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہم تباہی سے دو چار ہو سکتے ہیں۔اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پانی کو ذخیرہ کرنے والے ڈیموں کی استعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ صرف ہم نے ایک ڈیم کی گنجائش کو بڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن ہم نئے ڈیموں کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔ کالا باغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی نظر کر دیا ہے جب کہ بھاشا ڈیم میں کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے اس کے باوجود بھی ہم اس ڈیم کو نہیں بنا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیم نہ بننے سے سب سے زیادہ نقصان سندھ اور جنوبی پنجاب کو ہوگا اور سندھ سے ہی سب سے زیادہ ڈیم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ہمیں اس مسئلے پر سب سے پہلے ایک بیانیہ تیار کرنے کی ضرور ت ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی دے سکیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بھی شروع کر سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں بلین ٹری جیسے کئی منصوبے شروع کرنے پڑیں گے لیکن ان منصوبوں کے نتائج فوری طور پر نہیں آئیں گے۔ فوری طور پر تو ہمیں ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اس لئے بنایا نہیں جارہا کیونکہ اس میں ممکنہ طور پر بارہ برس لگیں گے جب کہ کوئی بھی حکومت پانچ سال سے آگے سوچنا نہیں چاہتی۔ اس معاملے میں ہمیں قومی مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر سوچنا ہوگا۔“ آبی امور کے ماہرین کے خیال میں پاکستان میں بارش کا پیٹرن بہت مختلف ہے اور اب اس پیٹرن کے ساتھ گلوبل وارمنگ کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا، جس کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک متاثر ہو رہے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ یورپی ممالک کے برعکس ہمارے ہاں مختصر مدت کے لئے زیادہ بارش ہوتی ہے، جو صحیح طرح زیر زمین جذب نہیں ہوتی اور چونکہ ہمارے پانی جمع کرنے کے ذخائر بھی کم ہیں۔ اس لئے ہم اس پانی کا ذخیرہ بھی نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے یہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں بڑے ڈیموں کو تعمیر کرنے کے لئے پہلے ہمیں بہت سے سیاسی مسائل سے لڑنا پڑتا ہے۔ اس لئے ہمیں گوٹھ اور دیہات کی سطح پر چھوٹے اسٹوریج ٹینک بنانے چاہیں، جس سے نہ صرف پانی جمع ہوگا بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی، جو بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ ہمیں سیلابی نہریں بنانی چاہیں اور اگر مون سون کے دور میں بارش بہت زیادہ ہو اور سیلابی شکل اختیار کر لے تو ان سیلابی نہروں کے ذریعے ایک طرف ہم اپنی فصلوں کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں اور دوسری طرف ان نہروں کی بدولت بھی زیرِ زمین پانی کی سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔“ اس رین پیٹرن کو بہتر کرنے کے لئے شجر کاری بہت ضروری ہے۔

پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کئی ممالک میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کے تجربے ہوئے ہیں لیکن اب کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ان بڑے ڈیموں کا نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ اسی لئے دنیا کے کئی ممالک میں ان ڈیموں کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔ ڈیموں کے لئے ایک خطیر سرمایہ چاہیے ہوتا ہے جب کہ اس سے سیاسی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں مصنوعی جھیلیں بنا کر پانی کو ذخیرہ کرنا چاہیے، جس سے نیچرل اکوافر ریچارج ہوگا۔ اس کے علاوہ فیلڈ اریگیشن کو ختم کر کے ہمیں دوسرے طریقے اپنانے چاہیں۔ پانچ ملین ایکڑ فٹ (MAF)صرف ہم یہ طریقہ کاشت کو ختم کر کے بچا سکتے ہیں۔‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنگین مسلے پر صرف سیمنار منعقد اوع دن ہی نہ منائے جائیں بلکہ حکموتی سطع پر اس مسلے کو اولین اہمیت دی جانے چاہیے تاکہ ہم مسقتبل میں پانی کی قلت سے بچ سکیں پانی جو زندگی ہے اگر یہ نہ رہا تو زندگی کہاں ہو گی اس سوال کا جواب ہمارے ارباب بست و کشاد کو دینا چاہیے؟

(مضمون کی تیاری کے لیئے سائینسی کتب اور نیٹ کے مضامین سے استفادہ کیا گیا)
تحقیق ؛ محمد عبدالرحمن

SHARE

LEAVE A REPLY