ائیرپورٹ کےقریب اتوار کی رات غیرملکیوں کے قافلے پر ہونیوالے حملےکی تحقیقات میں اہم معلومات سامنے آگئیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ حملےمیں چھوٹی کار استعمال کی گئی جب کہ کارکی نمبرپلیٹ،انجن اور چیسز نمبرحاصل کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔
تفتیشی ذرائع کابتانا ہے کہ کار سوارخودکش حملہ آور قافلےکے نکلنےکا انتظارکررہا تھا اور قافلہ پہنچتے ہی کارسوار نے اپنی گاڑی غیر ملکیوں کی گاڑی سے ٹکرادی جب کہ کار میں ممکنہ طورپربارود تھاجس سےگاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہےکہ دھماکےکے بعد غیرملکیوں کی ایک گاڑی ریورس کرکے محفوظ کرنےکی کوشش کی گئی مگر دھماکے میں بھاری بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا جس سےگاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
تفتیشی ذرائع نے مزید بتایا کہ متاثرہ گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔
جناح اسپتال میں 2 غیر ملکیوں اور ایک مقامی شہری کی لاش لائی گئی
دوسری جانب اسپتال حکام کا بتانا ہے کہ دھماکے بعد جناح اسپتال میں 2 غیر ملکیوں سمیت3 افرادکی لاشیں لائی گئیں جن میں سے ایک لاش مقامی باشندے کی ہے جس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل
علاوہ ازیں ائیرپورٹ کے قریب دھماکے سے متعلق تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس میں بم ڈسپوزل ایسٹ، ساؤتھ اور ویسٹ کی ٹیمیں تفتیش کریں گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہےکہ آئی جی سندھ کے احکامات پر خصوصی ٹیم بنائی گئی ہے۔
واضح رہے اتوار کی رات کراچی ائیرپورٹ سگنل کے قریب ہونے والے دھماکے میں 2 چینی شہریوں سمیت 3 غیر ملکی ہلاک ہوئے جب کہ 17 افراد زخمی ہیں۔
……………….
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے میں دو چینی باشندوں سمیت تین افراد ہلاک جبکہ 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کی ذمہ داری بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔
سندھ کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کا نشانہ غیر ملکی تھے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور دور تک سنی گئی۔
دھماکہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے باہر جانے والی سڑک پر اس مقام پر ہوا جہاں ہوئی اڈے آنے والوں کے سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں پارک ہوتی ہیں۔ عام طور پر وی آئی پیز کی سیکیورٹی پر مامور گاڑیاں ہی یہاں موجود ہوتی ہیں۔ دھماکے کے بعد وقوعہ پر متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق آٹھ گاڑیاں جل گئی ہیں۔
صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس مقام سے غیر ملکی قافلہ گزر چکا تھا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔
ان کے مطابق دھماکے میں سیکیورٹی پر مامور متعدد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں سمیت عام شہری بھی زخمی ہوئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس متعلق کوئی تھریٹ الرٹ پہلے سے نہیں تھا۔
سول ایوی ایشن (سی اے اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ایئرپورٹ کی تمام تنصیبات محفوظ رہی ہیں۔ انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا جب کہ فلائٹ آپریشن بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔
دوسری جانب پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ زون کراچی غلام اظفر مہیسر نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے عنصر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ان کے مطابق دھماکے سے آگ زیادہ پھیلی اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ راستے کو مکمل طور پر سیل کرکے تحقیقات جاری ہیں۔













