ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں میں تیزی آگئی ہے اور اس سلسلے میں امریکی حکام نے پہلی مرتبہ طالبان کے سابق اراکین سے ملاقاتیں کیں۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے کابل، پشاور اور واشنگٹن میں موجود نمائندوں کی مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام اور طالبان اراکین کے درمیان افغانستان، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور قطر میں خفیہ مقامات پر ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں طالبان کے 3 سینئر کمانڈر اور امریکا کے کم از کم 5 اعلیٰ حکام شریک ہوئے تھے۔

این بی سی نیوز کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان اس مقصد کے لیے اپنے سابق کمانڈروں اور سیاسی رہنماؤں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا جو طالبان رہنما یا کمانڈر ان ملاقاتوں میں حصہ لیتے ہیں وہ ماضی میں امریکا یا پھر افغانستان کی جیلوں میں قید رہے ہیں، اور حال میں ان کا طالبان کے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

این بی سی نے اپنی رپورٹ میں افغانستان میں جاری امریکی جنگ کی تفصیلات کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن کے 2001 سے اب تک خطے میں 2 ہزار 4 سو سے زائد فوجی مارے جاچکے ہیں۔

تاہم دوحہ میں ہونے والی اس ملاقات میں موجود ’ایک فرد‘ نے این بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات ہلکے پھلکے ناشتے کے ساتھ بہت ہی دوستانہ ماحول میں ہوئی۔

اس فرد نے مزید بتایا کہ جس ہوٹل میں یہ ملاقاتیں منعقد ہوئی تھیں اس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ہوٹل ملازمین کو بھی مخصوص کمروں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان نے بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا مطالبہ کیا تھا اور وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ انہیں روسی، چینی یا پھر عرب ممالک کے خفیہ ادارے پہچان لیں۔

ملاقات میں شریک ’فرد‘ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ طالبان گروپ کے شکل میں سفر نہیں کیا تاہم جیسے ہی امریکی ملاقات کے مقام پر پہنچے تو طالبان ایک ایک کرکے وہاں پہنچ گئے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دوحہ کے ہوٹل کو ملاقات کے مقام کے طور پر اس لیے منتخب کیا گیا تھا کیونکہ امریکی اور طالبان دونوں ہی ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

جب این بی سی نیوز نے امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان سے رابطہ کیا تو حکام نے اس ملاقات کے حوالے سے تصدیق نہیں کی، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ افغان مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ برائے دفاع کے ترجمان نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ کابل کی سربراہی میں افغان امن عمل کی حمایت کرنے اور اس میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ افغان مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم یہ افغانستان کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی سے مشروط ہے کہ کیا افغان حکومت امریکی و اتحادی فوج کے انخلاء کے بعد جانبر ہوسکتی ہے؟

رپورٹ میں امریکی حکام کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگر عسکریت پسند افغان حکومت کو بات چیت کے عمل میں شامل کرنے کی اجازت دیں تو واشنگٹن براہِ راست افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY