چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ یہاں پوسٹمارٹم کرنے والے بھی نااہل اور کرپٹ ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سرداراعجازاسحاق خان نے کی۔
مرکزی مجرم ظاہرجعفر کے وکیل نے مقتولہ نورمقدم کا پوسٹمارٹم کرنے والوں کے مؤقف میں تضادات کا نکتہ اٹھایا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس بنیادی چیزوں کو کیوں اور کیسے نظرانداز کر سکتی ہے، اسی لیے ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ یہ نا اہلی کی انتہا ہے، نجانے تھراپی ورکس کو ملزم بنانے کی لاجک اور کیا منطق تھی۔
ناقص تفتیش اور پوسٹ مارٹم کرنے والوں سے متعلق اہم ریمارکس میں چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا پتہ نہیں پولیس کب سیکھے گی، سمجھ نہیں آئی 14 ملزم بنانے کی ضرورت کیا تھی، یہاں پوسٹمارٹم کرنے والے بھی نااہل اور کرپٹ ہیں ۔
وکیل عثمان کھوسہ نے مؤقف پیش کیا کہ نظر آرہا ہے کہ قتل کا کوئی پہلے سے پلان نہیں تھا۔
وکیل کی دلیل پر عدالت نے قرار دیا کہ قتل کے لئے پلان ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔











