میدان ادب میں جنسی استحصال۔علی شاذف

3
504

میرے اس بلاگ کا مقصد کسی شخص کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ہرگز نہیں بلکہ ایک ایسے سماجی مسئلے کی طرف عوام کی توجہ مبذول کروانا ہے جس کو ہمارے سماج میں ایک ٹیبو سمجھا جاتا ہے. جنسی استحصال چاہے بالغ یا نیم بالغ مرد یا عورت کی جانب سے بچوں کے ساتھ ہو، مرد کے ہاتھوں عورت کا ہو، عورت کی طرف سے مرد کے ساتھ ہو یا مرد کے ذریعے مرد کا ہو، انتہائی قابل مذمت ہے. اس کے باوجود اس کا ذکر کرنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے. میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان شاعر اور مصنف جناب ثمر محمد علی کو خراج تحسین پیش کرتا کہ انہوں نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کر کے دو سال قبل ایک معروف شاعر ادریس بابر کی طرف سے ان کے ساتھ کی جانے والی جنسی دست درازی کے بارے میں سوشل میڈیا پر اسٹیٹس لگایا.

میری ثمر سے ملاقات ڈیڑھ سال قبل کچھ شعراء کی محفل میں ہوئی. پہلی ملاقات میں میں ان کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کا قائل ہو گیا. لیکن ساتھ ہی مجھے وہ شدید ذہنی دباؤ اور کرب میں بھی دکھائی دیے. بعد کی ملاقاتوں میں انہوں نے اپنے بچپن میں سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے خاندان کے افراد کق زندہ جلائے جانے سمیت دوسرے پرتشدد واقعات بتائے جو ان کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑ گئے. وہ طبی زبان میں کرانک پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس سنڈروم کا شکار ہو چکے تھے. ان سانحات کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس جنسی دست درازی کا بھی ذکر کیا جو ادریس بابر نامی شاعر نے ایک سے زیادہ مرتبہ ان کے ساتھ کی تھی. ان دنوں ثمر اس قدر مایوس ہو گئے کہ وہ اکثر دوستو‌ں سے خودکشی کی خواہش کا ذکر کرنے لگے. وہ کہتے تھے کہ میری خواہش ہے میرے دوست وسیم عون نقوی مرحوم کی جگہ وہ اس دنیا سے سے چلے جائیں کیونکہ عون جینا اور وہ مرنا چاہتے تھے. وہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید وہ بہت جلد خودکشی کر لیں گے. اس لیے انہوں نے بعد از مرگ اپنے تمام اعضا ایس آئی یو ٹی کراچی کو عطیہ کردیئے.

ثمر کی پیچیدہ زندگی میں ایک بڑا مسئلہ ان کی ادھوری تعلیم تھی. وہ اپنی دن بدن بگڑتی ذہنی حالت کی وجہ سے اپنا تھیسس مکمل کرنے کے قابل نہیں رہے تھے. اس دوران میں نے انہیں سائیکاٹرسٹ سے مدد لینے کا مشورہ دیا. نفسیاتی علاج شروع ہونے کے بعد رفتہ رفتہ ان کا اعتماد بحال ہوا اور وہ زندگی کی طرف لوٹ آئے. کچھ ہی دنوں میں انہوں نے ایم فل کا امتحان بآسانی پاس کر لیا.

ادریس بابر کے خلاف لگائے گئے اسٹیٹس کی خبر مجھے ثمر نے فون پر دی. انہوں نے مجھے بتایا کہ لوگوں کی بڑی تعداد نے ان کا کھل کر ساتھ دیا ہے. ساتھ ہی انہوں نے کچھ شعراء کا ذکر جنہوں نے اسے ادریس بابر کے خلاف مخالف ادبی گروہ کی سازش قرار دیا. ادریس کے کچھ دوستوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو ایک درویش صفت انسان ہے اور ایسا کر ہی نہیں سکتا. کچھ نے کہا کہ وہ ایک ترقی پسند انقلابی ہے اور استحصال کے خلاف جنگ کرنے والا کسی کے ساتھ ایسا کیوں کر سکتا ہے؟ کچھ نے کہا کہ اس طریقے سے عوام میں غصہ پیدا کر کے ادریس بابر کو ایک اور مشال خان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ اسے کچھ لوگوں کی طرف سے ایسی دھمکیاں بھی ملی ہیں.

اس سلسلے میں میں نے ثمر سے بات کی تو انہوں نے مجھے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ ان کا اس وقت کسی بھی ادبی یا سیاسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں. ادریس بابر جیسے ہم جنس پرست جنسی بھیڑیے کی حرکات کو عوام کے سامنے ظاہر کرنے کا مقصد ان کا کتھارسس تھا کیونکہ وہ دو سال سے یہ کرب اپنے اندر پال رہے تھے. دوسری اہم وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ وہ نوجوان شعراء کو خبردار کریں کہ وہ اس شخص سے فاصلہ رکھیں. انہوں نے بہت سے دوسرے نوجوانوں سے جو اسی نوعیت کے حادثات سے گزر چکے ہیں، سے بھی درخواست کی کہ وہ سامنے آ کر ان کا ساتھ دیں اور اس کی دست درازیوں کو سامنے لائیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کریں. مزید یہ کہ وہ ادریس بابر کو مشال خان سے بے انتہا کم تر سمجھتے ہیں اور اس کی بری حرکات کے باوجود اس کے خلاف کسی بھی قسم کے جسمانی تشدد کے مخالف ہیں.

کل مجھے اٹلی سے معروف ترقی پسند شاعر، بین الاقوامی سطح کے سوشلسٹ سیاستدان اور انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈینسی اور ریڈ ورکرز فرنٹ کے سرگرم کارکن کامریڈ پارس جان کا فون آیا اور انہوں نے ثمر کے ساتھ ہونے والے والے واقعات پر ان کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا. اس سلسلے میں میری ملاقات کامریڈز راشد خالد، ولید اور وقار سے ہوئی اور ہم سب نے ان افواہوں کو بالکل مسترد کر دیا جن میں کہا جارہا ہے کہ ادریس بابر کا آئی ایم ٹی سے کوئی تعلق ہے یا کبھی رہا ہے. اور اگر اس کا تعلق ہم سے ہوتا بھی تو ہم اس کے خلاف اور ثمر محمد علی کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے. کیونکہ ایک سوشلسٹ ہمیشہ ہر طرح کے سیاسی اور سماجی جبر اور استحصال کے خلاف کسی بھی ذاتی تعلق کو پس پشت ڈال کر علم بغاوت بلند کرتا ہے.

علی شاذف

SHARE

3 COMMENTS

  1. دلسوز اور فکر انگیز تحریر جو ہر انسان دوست کے دل کی آواز ہے استحصال کی کوئی بھی صورت ہو ناقابل برداشت

  2. یہ واقعی ایک دلیر انسان کی تحریر ہے اور ایک سماجی برائی کی درست نشاندہی کی گئی ہے ۔اس منافق معاشرے میں عیوب کی نشاندھی کی بجائے ان کی پردہ پوشی کا رواج ہے ۔۔علاج تو بعید از قیاس ہے بہر یہ کاوش لائق تحسین ہے

  3. اس سے بہت آگے کی باتیں سوچنے کی ضرورت ھے۔ یہ سب مہذب ترین معاشروں میں بھی جاری ھے۔ کون سے ایسے عوامل ھنوز انسانی سماج میں ناپید ھیں جو ھم انسان ایسی بھوک کآ مظاہرہ کرنے سے باز نہیں رھتے؟ مظلوم کی چیخ و پکار سے پہلے اس سے سوال کیا جانا چاھیئے کہ اس نے پنجہ ظالم کو کیوں اتنے ماہ برداشت کیا؟ کیوں اسے ابتدا میں ھی توڑ نہ دیا؟ کیوں اس کا نفس کاٹ کر اس کے منہ میں نہ دیا اور نشان عبرت نہ بنایا؟ خیر یہ ابد لا ابد سے چل رھا ھے۔۔۔اور ھم نے تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھے ۔ اب بھی سماجی رویوں کے پروان چڑھنے اور جنسی آسودگی یا نا آسودگی کی گھمبیرتا کو سمجھنے میں کوئی کڑی ھاتھ نیئں آ رھی۔ تب تک یہ مشرق سے مغرب تک یہ ھوتا آیا ھے اور ھوتا رھے گا۔
    پچھلے 3 ماہ کے اندر پاکستان کے مختلف شہروں میں 4 یا 3 ڈانس گرلز کو تقریبات کے عین درمیان تماشائیوں کے سامنے قتل کیا گیا۔ ابھی تک کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ شاید وھ بیچاریاں قبروں سے اٹھ کر آ کر اس ثمر صاحب کی طرح ایف آئی آر کٹوانے کی بجائے سوشل میڈیا پر بیان نیئں دے سکتین۔
    کم سے کم میشا شفیع کی جرات کو سلام پر ھی کچھ لکھ دیجیئے جس نے اس بے ھنگم سوسائٹی میں علی ظفر کے خلاف دعوی تو دائر کیا۔۔۔اور اب الٹا تضحیک کآ نشانہ بن رھی ھے۔ ماہرین سماجیات اور ماہرین نفسیات اس کڑی کو ڈھونڈیں جس کارن اس beastly رویہ کی مستقل بیخ کنی ھو سکے۔
    وما علینا الا البلاغ المبین!

LEAVE A REPLY