گاتا جائے بنجارہ.۔آفتاب احمد‎

0
89

گاتا جائے بنجارہ

ساحر لدھیانوی شخصیت شاعری

دنیا نے تجربات اور حوادث کی شکل میں

جو کچھ دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں

اُردو شاعری میں انسان دوستی کی رویت بہت قدیم ہے ۔تصوف کے حوالے سے زیادہ ترقی پسند شاعروں نے صوفی ازم سے مارکس ازم کا سفر طے کیا ۔اور اپنے نئے جلال و جمال کیف وکم کے ساتھ منصوبہ بندطریقہ سے ایک محاز کی شکل میں پیش کیا ۔ساحر کے سامنے یہ مشکل تھی کہ وہ بیشتر ترقی پسندشاعروں جن کی شہرت و مقبولیت کا سورج چمک رہا تھا وہ اُن سے چھوٹے اور جونئیر تھے ۔جب محاز کی آہنگ شائع ہوئی تو وہ انٹر میڈیٹ کے طالب علم تھے ۔اقبال اور حضرت جوش ملیح آبادی مشرق کے افق پر چھائے ہوئے تھے ۔جن سے ہر ترقی پسند شاعر متاثر ہی نہیں مرغوب بھی ہور ہا تھا ۔غزل میں حسرت ،فراق ،جگر کا جادو چل رہا تھا ۔ایسے میں کسی نوجوان جونئیر شاعر کا اپنی راہ تلاش کرنا اور منفرد پہچان بنانا کس قدر مشکل کام تھا ۔ساحر بچپن کا ماحول اورزندگی جو گزار کر آئے تھے وہ اِس قدر بنجر اور خار دار تھی کہ اُس سے نغمگی اوردلکشی کا دور دور تک کا کوئی واسطہ نہ تھا ۔شاعری اور فنکاری کے معاملات بڑے عجیب و غریب ہوا کرتے ہیں وہ اکثر نا ہموار ماحول میں نمو پاتے ہیں ۔

ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر۔ 8 مارچ 1921ء کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ خالصہ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے میں داخلہ لیا۔ کالج کے زمانے سے ہی انہوں نے شاعری کا آغاز کر دیا۔ امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالے گئے اور لاہور آ گئے۔ یہاں ترقی پسند نظریات کی بدولت قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں ان کے وارنٹ جاری ہوئے جس کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے۔

لدھیانہ کے ایک بڑے جاگیر دار کے چشم وچراغ تھے ابتدائی تعلیم کے مراحل طے کر کے جب لدھیانہ کالج پہونچے تو دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی ۔کالج سے جب باہر نکلے تو ضرورت کی تمام چیزیں چور بازار میں پہنچ چکی تھیں اور ہندوستان کے پوربی حصے میں اِتنا بڑا کال پڑا کہ تیس لاکھ انسان ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مرگئے ان حالات میں زندگی جو شکل قبول کرتی ہے وہ ہمارے لئے اجنبی نہیں ،مگر ساحر کی داستان میں ایک باب بھی ہے ۔ساحر کے والد نے گیارہ شادیاں کیں تھیں ساحر ابھی کمسن ہی تھے اُنکی ماں اور باپ کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی کہ ساحر ماں کے پاس رہیں گے یا باپ کے پاس ساحر کے علاوہ کوئی دوسری اولاد بھی نہیں تھی گھر کا جھگڑا کورٹ میں آگیا ساحر مجسڑیٹ کے سامنے پیش ہوئے اور ساحر نے ماں کے ساتھ رہنے کی درخواست کی ،خونی رشتوں میں دوریاں بڑھتی گئیں ۔

والد کو یہ بھی غصہ تھا کہ انکا بیٹا اسکول میں پڑھنے لگا ہے ۔اُنکا ولی عہد شاعر ہوگیا ہے اور لدھیانہ کا مجسٹریٹ ساحر کی شاعری کا دیوانہ ہے ۔ساحر باپ کی شفقت اور دولت کی چمک سے دور ہوتے گئے ۔ساحر کی ماں اور ماموں جان نے ساحر لو تعلیم دلوائی ۔اسکول میں مولانا فیاض ہریانوی کی تربیت میں انہوں نے اردو فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔پنجابی علاقائی اور مادری زبان تھی انگریزی زبان و ادب اسکول میں لازمی تھا اس طرح بیک وقت چار زبانوں کی ادبیات کا علم حاصل ہوا مطالعہ کا شوق بچپن ہی سے تھا چوتھی جماعت میں علامہ اقبال کی بالِ جبریل اپنے ماموں کے وسیلے سے پوری پڑھ لی تھی ۔

جاگیردارانہ ماحول سے متنفر چودھری عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی تاریخِ ادب کا ناقابلِ فراموش حصہ بن گئے ۔لدھیانہ کالج میں اگر چہ انہوں نے فلسفہ اور فارسی مضامین منتخب کئے تھے لیکن ان کی توجہ کے مرکز علمِ سیاست و معاشیات ہی رہی ۔وہ بائیں بازوں کی طلبہ تنظیم سے جڑ گئے ۔اس طرح گویا انہے اپنے خیالات و جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ مل گیا ۔جو سامراجی استعماریت کے ساتھ ساتھ خود ان کے ماحول کے پیدا کردہ تھے ۔چنانچہ انہوں نے جذباتی تقریریں اور نظموں کے ذریعے مزدوروں اور کسانوں کوانگریزی حکومت کے خلاف آمادہ کیا وہ بہت جلد ہی مشہور ہوگئے سیاسی حلقوں میں اپنا ایک منفرد انداز بیاں رکھنے والا یہ نوجوان اپنے علاقائی سرحدوں کو پھلانگ کر پورے برصغیر میں پہچانے جانے لگے ۔اٹھارہ سال کی کم عمری میں بحثیت شاعر اتنی مقبولیت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے لیکن شاعری بحرحال سن وسال کی محتاج نہیں ہوتی اور ساحر بلا شبہ ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی شاعری ان کی کم سنی کے باوجود قبولِ عام کی سند حاصل کر سکی ۔

تقسیم برصغیر کے بعد چوہدری فضل محمد گوجر فیصل آباد جا بسے اور یہاں پر چھوٹی اناسی میں زمینیں الاٹ کرا لیں۔ کچھ زمین ضلع جھنگ میں بھی الاٹ کروائی۔ ساحر جب 1948ءمیں والدہ کو تلاش کرتے لاہور آئے تو باپ نے پیغام بھیجا کہ جاگیر سنبھال لو اور میرے پاس آ جاﺅ۔ ساحر نے جواب بھیجا میری ماں ہی میری جاگیر ہے۔

اپنی شعری زندگی کے ابتدائی دور میں ساحر نے اے ۔ایچ ۔ساحر کے نام سے لکھنا شروع کیا اور ان کے اول اول کالج اوربیرونِ کالج کے مشاعروں اورعوامی جلسوں میں سنانے کے بعد یہ غرض اشاعت مختلف رسائل کو بھیجا لیکن اس انقلابی دور میں انگریز سرکار کی طرف سے پریس پر شدت کے ساتھ پابندی لگائی جا رہی تھی ایسی صورت میں ساحر جیسے جذباتی انقلابی شاعر کے کلام کو بھلا کون شایع کرتا ۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل سے اُردو ادب میں مغرب کے اثرات رونما ہونے لگے اور ادب کے لئے نئے اصول و ضوابط بھی وضع لئے گئے ۔پہلی جنگ عظیم اور انقلابِ روس کے بعد اردو شاعری میں فکرو فلسفے کا عنصر بھی ابھرا اور معاشی و معاشرتی اور سیاسی موضوعات بھی نمایاں ہوئے ۔اسی زمانے میں رومانوی رجحان بھی پروان چڑھا جو صرف عاشقانہ رویوں رامش و رنگ سے آراستہ نہیں تھا بلکہ مناظرِ فطرت کی رنگینیوں اور رعنائیوں سے بھی پیراستہ تھا ۔

جذبہ حریت قومی وطنی شاعری ،عظمتِ انسان ،غربت کی لکیر پر تڑپتے انسان ،اقتصادی بد حالی ،سماجی نا انصافی ،خواتین کو فقط جنسی تسکین کا آلہ سمجھنا ،کھیتوں کھلیانوں میں کسانوں کی مچلتی بھوک ،اظہارِ رائے کی آزادی ،طبقاتی روابط اور سماجی تعلقات کا شعور گہرا ہوا ۔بلکہ انقلاب آفریں نغمات نے ملک گیر شہرت پائی اور قوم میں بیداری کا جذبہ پیدا ہوا۔ان ہی شعرا میں ایک نام ہمیں ساحر لدھیانوی صاحب کا ملتا ہے جو شہرت اور مقبولیت انکے حصے میں آئی کوئی اور اسکا حقدار ہو نہ سکا۔اسی خاص وجہ انکی فلموں سے وابستگی بھی تھی ۔حالانکہ فلموں سے آنے سے پہلے ان کا اولین مجموعہ کلام تلخیاں شائع ہوکر ملک گیر شہرت پا چکا تھا عوامی حلقوں میں دادو تحسین حاصل کر چکا تھا ۔ساحر لہجہ باغیانہ تھا شعاع فردا ،اشعار ،کسی کو اُداس دیکھ کر ،صبح نو روز،آوازِ آدم ،اور شرط استواری کے علاوہ اوربہت سا کلام ان کا انسانی زہن کو جھنجھوڑدیتا ہے فکر کی آس کو اس چوکھٹ پر لیجاتا ہے جہاں انسان بغاوت کے نقارے بجانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

ساحر لا ہور آگئے جہاں انہوں نے دیال سنکھ کالج میں داخلہ لیا ۔اس زمانے میں لاہور کوئی صنعتی شہر نہیں تھا ۔لیکن علمی ادبی اور سیاسی و تہذیبی سرگرمیوں کے لحاظ سے ملک کا اہم ترین مرکز ضرور تھا ۔لدھیانہ میں کامریڈ مدن لال دویدی ،حافظ لدھیانوی ،ہرکشن لال آرٹسٹ ،عجائب چتر کار،حمید اختر ،فیض احمد فیض جیسے مخلص دوستوں کی رفاقت حاصل ہوئی ۔یہی زمانہ پنجابی کی مشہور شاعرہ اور ادیبہ امرتا پریتم سے رفاقت کا بھی ہے ۔ساحر امرتا پریتم کی پنجابی نظموں کا اردو میں ترجمہ کرکے اپنے تعریفی نوٹ کے ساتھ شائع کرتے اس طرح ساحر اور امرتا پریتم کا رفاقتی سلسلہ دراز ہوا ۔اس سلسلے کو امرتا نے ایک خط میں محفوظ کیا ہے اور اپنی رفاقت اور محبت کا برملا اظہاراپنی خود نوشت سوانح حیات رسیدی ٹکٹ میں کیا ہے ۔ساحرکی نظم ایک تصویر رنگ اسی قربت کی ترجمان ہے ۔

وہ ایک ایسا شاعر تھا جو اپنی زندگی میں ایک افسانوی حیثیت اختیار کر گیا اس کی شاعری محض اس کے افکارکا پرتو نہ تھی بلکہ خود اس کی زندگی کی کہانی تھی۔ جس متاثر ہو کر اداکار گرودت نے فلم ’’ پیاسا‘‘ بنا ئی تھی۔

ساحر کی بین الاقوامی شہرت کا سبب اس کی نظم تاج محل ہے۔یہ تاج محل کے بارے میں ایک نیا انداز فکر تھا نئی سوچ تھی،جو نوجوانوں کے طبقہ میں بہت مقبول ہوئی‘‘ یہ نظم ساحر کے شاعری کاتعارف ثابت ہوئی ،پوری دنیا کے ارود حلقہ میں ساحر کے فن کو سراہا گیا۔جب ساحر گورمینٹ کالج لدھیانہ کے مشاعرہ میں اپنی نظم تاج محل پڑھتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کے اس باغی شاعر نے شاہجہاں کے محبت کی سب سے قیمتی یادگارتاج محل کو ڈائنا مائٹ لگا کر اڑا دیا ہو،اور اسی مشاعرہ کی فضاؤں میں ایک اور تاج محل بلند ہوا جو ساحر لدھیانوی کا تھا۔شاہجہاں کا تاج تو صرف آگرہ میں دریائے جمنا میں ہی اپنا عکس دیکھتا رہاجب کہ ساحر کا تاج درۂ خیبر سے لیکر کنیا کماری تک پھیل گیا۔ظاہر سی بات ہے کہ ایک طرف اک شہنشاہ نے عورت کی محبت کا تاج محل بنایا تو اک شاعر نے اردو کی عظمت کا تاج محل بنایا اور دنیا دونوں کو لاثانی اور لافانی سمجھتی ہے۔مثال کے طور پر ایک بند حاضر ہے۔

یہ چمن زار ہے یہ جمنا کا کنارہ یہ محل

یہ منقش درودیواریہ محراب یہ طاق

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لیکر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

یہ نظم ایک تہی دست عاشق کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے ایک ایسا عاشق جس کے پاس اپنی محبوبہ کو دینے کے لئے سوائے خلوص کے سچائیوں کے کچھ بھی نہیں ہے۔نظم سے نظریاتی طور پر تو اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن جذبوں کی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ صداقت ہی نظم کو عام انسان کی نفسیات سے قریب کرتی ہے۔

وہ دنیا میں امن چاہتا تھا وہ آنے والے حادثات سے خوفزدہ تھا ، اسی لئے پریم کی جوت جگانا چاہتا تھا۔اس نے انسانیت اور محبت کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا،اس کی عکاسی ہم ساحر کی اس نظم میں دیکھ سکتے ہیں جس میں عالمگیر امن کا پیغام ہے۔

خون اپنا ہو یا پرایا ہو

نسل آدم کا خون ہے آخر

جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں

امن عالم کا خون ہے آخر

اس لئے اے شریف انسانوں

جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں

شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

بیسویں صدی کے آ غاز میں پریم چند اور بعد ازاں ترقی پسند مصنفین نے نہ صرف اسے بڑھاوا دیا بلکہ اس کے تصور اور عمل میں وسعت بھی پیدا کی ۔اس دور میں جہاں اردو ادب میں نثر کے تخلیق کاروں نے انگریز حکومت اور مقتدر طبقات کے خلاف اپنا ردِ عمل ظاہر کیا وہاں شعرانے بھی مزاحمتی شاعری میں کوئی فرو گزاشت نہیں کی ۔صنعتی انقلاب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نو آبادیاتی نظام ،جس نے جبر و استبداد کی نئی تاریخ رقم کی ہے ،

یہاں کے ادبا ء نے اپنا احتجاج قلم بند کروایا ۔اس سلسلے میں افسانے میں کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی ،عصمت چغتائی ،خدیجہ مستور اور احمد ندیم قاسمی اور شعرا میں جوش ملیح آبادی ، علی سردار جعفری ، فیض احمد فیض ، اسرار الحق مجاز کے ناموں کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔مزاحمتی شعرا کی طویل فہرست میں سا حر لدھیانوی کا نام ایک ایسا نام ہے جو نو آبادیاتی نظام اور استحصالی رویوں پر ہمہ وقت نو حہ کنا ں نظر آ تا ہے ۔

نہ منہ چھپا کر جئے ہم ،نہ سر جھکا کر جئے

ستمگروں کی نظر سے نظر ملا کر جئے

اب ایک رات اگر کم جئے ،تو کم ہی سہی

یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کر جئے

ساحر نے نظمیں بھی کہی ہیں اور غزلیں بھی مرثیہ ،مثنوی اور سہرے بھی ۔فلمی سطح پر ان اصناف کے علاوہ گیت ،بھجن ،حمد ،رخصتی ،قصیدے اور دوہے ایسی اصناف میں مستعل رہی ہیں لیکن ان تمام اصناف پر طبع آزمائی کے باوصف انہوں نے ہیستی سطح پر کسی طرح کا اجتہاد نہیں کیا بلکہ مروجہ ہستیوں میں ہی اپنے افکار اور نظریات پیش کئے مزیدبرآں ان کی فلمی شاعر ی کا بھی اپنا ایک مقام ہے ۔بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ فلمی نغموں کو معیار و مقبولیت اور سحر انگیز ی کا رنگ ساحر ہی کی ایجاد ہے ۔

ساحر کی شاعری میں عورتوں کے تقدس کی پامالی کا جو اس قدر احساس ملتا ہے وہ اسی سماجی وتاریخی اور استحصالی رویہ سے عبارت ہے ۔چکلے ،صبح نوروزاورسر زمینِ یاس کے علاوہ ایسی کتنی نظمیں ہیں جن میں عورتوں کی نسائیت اور حرمت ،اور جھوٹے سماجی وقار اور تمدنی فریب کی نذرہوئی ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساحر کی اپنی شخصیت کے سارے رنگ اُنکی شاعری میں رچ بس گئے ۔اور شاعری کی ساری جادوئیت خط و خال میں جذب کرلی آئینہ سے آئینہ گر کا اُبھرنا لطیفہ ہی سہی لیکن ساحرکی تلخیاں کا مطالعہ کیجئے تو ساحر کی روح بولتی نظر آئے گی سچائی جذبہ ،ہمت ،محبت انکی شاعری کا میدان ہیں ۔ہر چیز کے اچھے برے پہلو پر انکی نظر عقاب کی طرح پہنچ جاتی ہے ۔ساحر کی زندگی میں انکے دوستوں کا بڑا دخل ہے وہ ایک دن بھی تنہا نہیں رہے ۔دوستوں کی محفلیں ان کی جان تھیں ۔

مشہور شعر ساحر لدھیانوی صاحب پر پورا صادق آتا ہے ۔

ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کرلی

اسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کرلی

ساحر کی طبعیت کا رجحان اشتراکیت کے فلسفے پر تھا ۔تاج محل کو اس لئے عمر بھر نا پسند کیا کہ لوگ سڑ کوں پر سوتے ہیں ایک جھونپڑا تک کسی کے پاس نہیں ہے ۔ساحر نے عمر بھر مارکسی فلسفے پر زندگی گزاری اپنے گیتوں میں مارکسی رچاؤ کے ڈھنگ ملتے ہے ہیں ۔

ساحرؔ جس دور میں پیدا ہوئے وہ اس لحاظ سے زبردست ادبی اور سیاسی بیداری کا دور تھا۔ ساری دنیا میں سامراجواد اور فاشزم کے خلاف صرف ایشائی سطح پر نہیں بلکہ عالمی بیداری کا زمانہ تھا۔شعراء کی اس کہکشاں میں ساحر لدھیانوی اردو شاعری کے افق پر اس طرح ابھر کر آتے ہیں کہ نہ صرف پورے ادبی منظر نامے پر اپنی چھاپ چھوڑتے ہیں بلکہ ملک کے ہر حساس قاری کے دل کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔

ساحر کے دوستوں کا خیال تھا زندگی کا نظم وضبط ساحر کے یہاں نہیں ہے اگر وہ شادی کر لیتے تو نظم و ضبط آجاتا پچیس برس کی عمر میں تین چار حادثے تو ایسے آئے شادیاں اُن پر منڈلائیں ،منڈلاتی رہیں اور منڈلا کے رہ گئیں مگر ہر بار ساحر بچ نکلے ۔انکی زندگی کی محرمیوں کے درد اور غم شکستوں اور الجھنوں نے انہے پگھلا کے رکھ دیا تھا ۔صر ف ایک احساس ہی تھا جس کے تار کسی مدھم سی تحریک سے آ آ کے ٹکراتے ہیں ۔پھر انکا قلم چپ رہ نہیں سکتا ہر بے انصافی کے خلاف ایک احتیجاج کی تحریک ملتی ہے ۔گدا گروں کی بھوک سے کوئی لطف اندوز ہوتا ہے مگر ساحر کا قلم خون اگلنے لگتا ہے قدم قد م پر چکلے ساحر کی آنکھوں میں سرخیاں پیدا کر دیتے ہیں ۔ساحر نے ثنا خوانِ تقدیس مشرق کو جس شدت میں نفرت سے اور جس خلوص سے جھنجھوڑا ہے اسکی مثال کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ملتی ۔

چکلے میں ساحر کی غیرت اس کی روح کے احساس کی تلملاہٹ بلندی کے انتہائی نقطے پر نظر آتی ہے ۔

میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے

آج اُن گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں

آج دوکان پہ نیلام اٹھے گا اُن کا

تونے جن گیتوں پہ رکھی تھی محبت کی اساس

آج چاندی کے ترازومیں تُلے گی ہرچیز

مرے افکار ،میری شاعری،مرا احساس

ساحر لدھیانوی کے شعری مجموعوں میں تلخیاں، گاتا جائے بنجارہ اور آﺅ کہ کوئی خواب بنیں کے نام شامل ہیں۔

قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے ترقی پسند ناقدین بھی اس الزام کے تلے دب کراحساس کمتری کا شکار ہوتے نظر آئے، جبکہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی ساحر کی شاعری میں وہی تازگی محسوس کی جا سکتی ہے جو آج سے ستّر، اسّی سال پہلے تھی۔

ساحر کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے فلمی میدان میں بھی ادبی میعار سے سمجھوتا نہیں کیا اور عوام کے ادبی ذوق کی تربیت کی۔ ان کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ شروعاتی دور میں ہندوستانی فلموں میں شاعر کو اس کی تخلیق کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا تھا۔ ساحر نے فلم انڈسٹری کو اس بات کے لئے مجبور کیا اور شاعر کی ادبی حیثیت کا اعتراف کیا جانے لگا۔

سا حر لدھیانوی کی ’’پر چھائیاں‘‘رومانویت کے پردے میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف روِ عمل اور انقلابی رویوں کی حامل نظم کے طور پر سامنے آتی ہے۔سا دہ کہانی اور سہل الفاظ کے استعمال نے اس نظم کوعام آدمی میں مقبول بنا دیاہے۔کلاسیکیت اور روایت کا سہارا لے کر روایتی شعرا کی طرح ساحر نے غیر مانوس الفاظ سے اسے ثقیل نہیں ہونے دیا۔اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی بات عام آدمی تک پہچانا چاہتا ہے اور وہ ہی زبان اس نے اس نظم کے لیے منتخب کی ہے تا کہ خیالات کی ترسیل میں ابہام یا ثقالت محسوس نہ ہو۔

رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پر

ندی کے ساز پر ملاح گیت گاتا ہے

تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے

مری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے

ساحر لدھیانوی کی شہرت اورعظمت اس کے فلمی گیتوں ہی کی مرہون منت نہیں تھی بلکہ ساحرکی نظموں نے بھی ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا تھا۔اس کا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ ایک ایسی کتاب تھی جس کے یکے بعد دیگرے ایڈیشن کے ایڈیشن چھپتے رہتے تھے،اس کی ایک نظم نے ہمارے متعفن معاشرے کوآئینہ اس طرح دکھایا تھا کہ کوئی شاعر اس سے پہلے ایسی جرأت نہ کرسکا تھا اور یہ جرأت صرف ساحرکی شخصیت ہی کا حصہ تھی اور وہ نظم تھی۔

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسئلہ کچلا، جب جی چاہا دھتکار دیا

مردوںنے بنائیں جو رسمیں ان کو حق کا فرمان کہا

عورت کے زندہ جلنے کو، قربانی اور بلیدان کہا

اس بد نما ماحول کے خلاف بغاوت کا جذبہ ساحر کی تمام شاعری میں ابھر کر سامنے آتا ہے ۔اس حوالے سے ا ن کی نظمیں ’’ چکلے ‘‘ ، ’’ تاج محل ‘‘ ، طلوعِ اشتراکیت ‘‘ اور ’’قحطِ بنگال ‘‘ اہمیت کی حامل ہیں جس میں طنزیہ پیرایہ اختیار کرتے ہوئے ساحر نے یہاں کے ماحول پر صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ سا حر کا یہ رویہ ’’ پر چھائیاں ‘‘ میں بھی نمودار ہوا ہے ۔ جہاں اس کے لہجے کی کھنک نو آبادتی اثرات کاپر دہ چاک کرتی دکھائی دیتی ہے ۔اس حوالے سے نظم کا اقتباس ملا حظہ ہو۔

افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے ،کھلیان بکے

جینے کی تمنا کے ہاتھوں ، جینے کے سب سامان بکے

کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو ، جسموں کی تجارت ہونے لگی

خلوت میں جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

انھوں نے متعدد فلموں کے لیے نغمات بھی لکھے تھے جن میں نوجوان، بازی، جال، ٹیکسی ڈرائیور، دیوداس، گھر نمبر 44، منعم جی، انگارے، جورو کا بھائی، تاج محل،ریلوے پلیٹ فارم، میرین ڈرائیو، نیا دور، پیاسا، پھر صبح ہوگی اور کبھی کبھی کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ساحر نے اپنی شاعری اور نغمہ نگاری پربے شمار انعامات اور اعزازات حاصل کیے جن میں لینن امن انعام، دو فلم فیئر ایوارڈز اور پدم شری کے خطابات سرفہرست ہیں۔ ساحر لدھیانوی نے جن نغمات پر فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے ان میں فلم تاج محل کا نغمہ جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا اور فلم کبھی کبھی کا نغمہ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے،شامل تھے۔

ہندوستان میں وہ سیدھے بمبئی میں وارد ہوئے۔ ان کا قول مشہور ہے کہ بمبئی کو میری ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں ساحر اور دوسرے ترقی پسند شعرا نے بھانپ لیا تھا کہ فلم ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے اپنی بات عوام تک جس قوت اور شدت سے پہنچائی جا سکتی ہے، وہ کسی اور میڈیم میں ممکن نہیں ہے۔ چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساحر ایک مشن کے تحت بمبئی گئے اگرچہ 1949ء میں ان کی پہلی فلم “آزادی کی راہ پر” قابلِ اعتنا نہ ٹھہری، لیکن موسیقار سچن دیو برمن کے ساتھ 1950ء میں فلم “نوجوان” میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو ایسی مقبولیت نصیب ہوئی

۔ ان میں سے ایک گانے “ٹھنڈی ہوائیں” کی دھن تو ایسی ہٹ ہوئی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔

پہلے تو موسیقار روشن نے 1954ء میں فلم “چاندنی چوک” میں اس دھن پر ہاتھ صاف کیا، پھر اس سے تسلی نہ ہوئی تو 1960ء میں “ممتا” فلم میں اسی طرز میں ایک اور گانا بنا ڈالا۔ جب دوسروں کا یہ حال ہو تو بیٹا کسی سے کیوں پیچھے رہتا، چناں چہ آر ڈی برمن نے 1970ء میں “ٹھنڈی ہوائیں” سے استفادہ کرتے ہوئے ایک اور گانا بنا ڈالا۔ فلم نوجوان کے بعد ایس ڈی برمن اور ساحر کی شراکت پکی ہو گئی اور اس جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا جو آج بھی یادگار ہے۔ ان فلموں میں “بازی”، “جال”،”ٹیکسی ڈرائیور”، “ہاؤس نمبر 44″،”منیم جی” اور “پیاسا” وغیرہ شامل ہیں۔ ساحر کی دوسری سب سے تخلیقی شراکت روشن کے ساتھ تھی اور ان دونوں نے “چترلیکھا”، “بہو بیگم”، “دل ہی تو ہے”، “برسات کی رات”، “تاج محل”، “بابر”اور “بھیگی رات” جیسی فلموں میں جادو جگایا۔ روشن اور ایس ڈی برمن کے علاوہ ساحر نے او پی نیر، این دتا، خیام، روی، مدن موہن، جے دیو اور کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔

ساحر کے علاوہ بھی کئی اچھے شاعروں نے فلمی دنیا میں اپنے فن کا جادو جگایا، لیکن ساحر کے علاوہ کسی اور کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ اور اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو ان کی ادبی شاعری کی مقبولیت کی ہے، یعنی شاعری عوامی لیکن ادبی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔ ایک زمانے میں اردو ادب میں بڑے لیکن ترقی پسند شاعر اس بات کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ شاعری کے ذریعے معاشرے میں انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے۔ ترقی پسند شعرا کی جوق در جوق فلمی دنیا سے وابستگی ان کی عوام تک پہنچنے کی اسی خواہش کی آئینہ دار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ساحر فلمی دنیا میں اپنی آئیڈیالوجی ساتھ لے کر آئے اور دوسرے ترقی پسندنغمہ نگاروں کے مقابلے میں انھیں اپنی آئیڈیالوجی کو عوام تک پہنچانے کے مواقع بھی زیادہ ملے، جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انھوں نے جن فلم سازوں کے ساتھ زیادہ کام کیا وہ خود ترقی پسندانہ خیالات کے مالک تھے۔ اس سلسلے میں گرودت، بی آر چوپڑا اور یش راج چوپڑا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ میں صرف ایک مثال دوں گا۔

ساحر کتنے بااثر فلمی شاعر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی پیاسا اور یش راج کی کبھی کبھی شامل ہیں۔ پیاسا کے گانے تو درجہ اول کی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

اور یہ گانا

جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا

اسی طرح کبھی کبھی میں “کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے” کے علاوہ “میں پل دو پل کا شاعر ہوں” ایسے گانے ہیں جو صرف ساحر ہی لکھ سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کسی اور فلمی شاعر کو یہ چھوٹ نہیں ملی کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی پر مبنی نغمے لکھے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آ غاز میں ادب اور ادبی روایات نے شعوری اور لاشعوری طور پر مزاحمتی رویہ اختیار کیا ۔ پریم چند ، کرشن چندر،راجندر سنگھ بیدی ،احمد ندیم قاسمی ، جوش ملیح آ بادی ، علی سردار جعفری ، فیض احمد فیض اور سا حر لدھیانوی ایسے ادیب ہیں جنھوں نے سامراجی رویوں اور نو آبادیاتی نظام کی کج رویوں اور بے اعتدالیوں کو اپنی تخلیقات کا مو ضوع بنایا۔ سا حر لدھیانوی نے اپنی شاعری میں اس نظام کے خلاف نعرۂ مستانہ بلند کیا اور مساوات ، امنِ عالم ، آزادی اور زندگی کی وہ دوامی قدریں جو تمام نوعِ انسانی کی بہتری کی داعویدار ہیں ، سا حر کی شاعری میں جلوہ افروز ہوئیں ۔ سا حر کے ہاں جو نو آبادیات کے خلاف ردِ عمل اوربنیادی انسانی اقدار کی بحالی کی خواہشات ابھر کر سامنے آ ئی ہیں ، وہ غیر ارادی نہیں بلکہ ساحرکے عمیق سماجی شعورکی آ ئینہ دار ہیں اور سطحی ہیجانات کی بجائے گہرے احساسات سے وابستہ ہیں۔درج ذیل اشعار ان کے اس رویے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں ۔

کلامِ ساحر

چلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیں

کہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے

جسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئے

ہمیں حیات کے اس پیراہن سے نفرت ہے

کہو کہ اب کوئی قاتل اگرادھر آ یا

تو ہر قدم پر زمیں تنگ ہوتی جائے گی

ہر ایک موجِ ہوا رخ بدل کے جھپٹے گی

ہر ایک شا خ رگِ سنگ ہوتی جائے گی

ساحر کی نظمیں نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔ ان کی آوازایک ایسے ناکام عاشق کی آوازتھی جسے آزادی اور انصاف کی قدریں بھی دل وجان سے عزیزتھیں۔

کثرتِ مے نوشی کے باعث ساحر لدھیانوی صاحب دل کے عارضے میں مبتلا ہوگئے ،25 اکتوبر 1980 کو ہارٹ اٹیک کے باعث انتیقال ہوگیا ۔

لیکن جاتے جاتے وہ سینکڑوں گیت ،نظمیں ،غزلیں چھوڑ گئے جو ساحر صاحب کا نام زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں ۔

ساحر لدھیانوی کا کلام

چلو ایک بارپھر سے اجنبی بن جا ئیں ہم دونوں

نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کی

نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتو ں سے

نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے

تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے

مجھے بھی لو گ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں

میرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی

تمہاری ساتھ گزری ہو ئی راتوں کے سائے ہیں

تعارف روگ بن جا ئے تو اس کا بھولنا بہتر

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا

وہ افسانہ جسے انجام تک لا نا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

ساحر لدھیا نوی کی مجرد زندگی۔ناکام عشق اور مے نوشی سب کچھ اس کی اپنی شاعری کے لیے ہی تھا۔ اس نے محبت کو ہی اپنا مو ضوع نہیں بنا یا تھا بلکہ غیر منصفانہ نظام زندگی میں استحصال کا شکا ر انسانوں کے شب وروز بھی اس کی شاعری کا مو ضوع تھے جیسا کہ اس کی نظم ’چکلے‘ تھی۔ وہ یقیناایک رومانی اور باغی شاعر تھا۔ جو اس نظام زیست کوبدلنے کی سعی کر تا رہا۔ لیکن اسے اپنے خواب کی تعبیر زندگی میں نہ مل سکی۔ ساحر کی شاعری کی مقبولیت کسی

بھی دور میں کم نہ ہو ئی۔

جہاں ساحرکی شاعری میں یاس، نا اُمیدی، معاشرے کی بے رحمی، عورت کی بے توقیری کا تذکرہ کیا گیا تھا وہاں ساحر کی شاعری، امن، سلامتی اور محبت کے بھرپور جذبوں کی عکاسی بھی کرتی تھی جیسے ان کی ایک نظم کے یہ چند اشعار

چلو اِک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

نہ میں تم سے کوئی اُمید رکھوں دلنوازی کی

نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے

ساحر لدھیانوی کی دوسری فلم ’’نوجوان‘‘ تھی جس میں پہلی بار مدھر دھنوں کے خالق ایس ڈی برمن کا ساحر لدھیانوی کے ساتھ ملن ہوا اور نوجوان کے لیے جو پہلا گیت لکھا تھا اس کے بول تھے

ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں

رت ہے جواں تم ہو یہاں

کیسے بھلائیں۔ ٹھنڈی ہوائیں

اس گیت کو بڑی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار مہیش کول تھے یہ گیت لتا منگیشکر نے گایا تھا اور اس گیت کو اداکارہ نلنی جیونت پر فلمایاگیا تھا۔بطور نغمہ نگار اور شاعر جو مقبولیت ساحر کے حصے میں آئی اس کی نظیر نہیں ملتی.ساحر نے کبھی کہا تھا کہ بمبئی کو اس کی ضرورت ہے. اس وقت اپنی بات کو عوام و خواص تک پہنچا نے کے لئے فلم کو ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے تھا. یہی وجہ ہے کہ ساحر نے اپنی آواز و آئیڈیالوجی کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اس فلم کے ذریعہ کا بھرپور فائدہ اٹھایا.

ساحر کو دو فلم فیئر ایوارڈ 1964 اور 1977 کے ساتھ سرفراز کیا گیا جبکہ ان کی فلمی و ادبی خدمات کی قدر کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے 1971 میں انھیں پدم شری سے بھی نوازا گیا.

ساحر لدھیانوی نے جن نغمات پر فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے وہ فلم تاج محل کا نغمہ ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘ اور فلم کبھی کبھی کا نغمہ ’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘، تھے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ ساحر نے اپنی شاعری کے جوہر کو دیگر شعراء کی طرح عورت کی زلف کے پیچ و خم ہے کو سجانے سنوارنے پہ صرف کیا اور نہ ہی عورت کے سراپائے حسن کی بے جا تعریف کرنے کا ذریعہ بنایا. بلکہ ساحر نے سماج کی ان عورتوں پر قلم اٹھایا ہے، جو معاشرے میں کوئی عزت یا مقام نہیں رکھتی یا جنھیں سماج کے چند ٹھیکیداروں نے بازار کی زینت بنا رکھا ہے اور جنھیں معاشرہ اچھوت سمجھتے ہوئے ان کے بیچ جانے سے قطراتا ہے یا انھیں کھلے طور پر اپنانے سے پرہیز کرتا ہے .

ساحر لدھیانوی کے شعری مجموعوں میں تلخیاں، گاتا جائے بنجارہ اور آؤ کہ کوئی خواب بنیں کے نام شامل ہیں۔ساحر نے اپنی شاعری اور نغمہ نگاری پربے شمار انعامات اور اعزازات حاصل کیے، جن میں لینن امن انعام، دو فلم فیئر ایوارڈز اور پدم شری کے خطابات سرفہرست ہیں۔

کلامِ ساحر

چند کلیاں نشاط کی چن کر

مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں

تیراملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

کلامِ ساحر

ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جیے

ا ب ایک رات اگر کم جیے، تو کم ہی سہی

یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلاکے جیے

بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم

خاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہم

کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا

مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم

ساحر شاعری کی فطرت صلاحیت اور بے دریغ قوت لے کر دنیا میں آئے تھے ۔وہ چاہے غزل کا میدان سجا ہو ،چاہے نظم نما غزل ،نظم وہ ہر صورت شاعر ی کا پورا حق ادا کرنے کی قابلیت فہم وادراک رکھتے تھے۔وہ خارجی عوارض اور داخلی تاثرات کو سلیقے کے ساتھ سمو کر ایک آہنگ بنانے کا فن جانتے تھے ۔وہ شائد برصغیر کے پہلے شاعر ہیں جن کے نام پر پھول کا نام بھی رکھا گیا گلِ ساحر لدھیانہ کی زراعتی یونیورسٹی جب ایک پھول تخلیق کیا تو اُسکا نام گلِ ساحر رکھا لدھیانہ میں ایک سڑک اور جلسہ گاہ کا نام بھی ساحر کے نام پر رکھا گیا ۔ساحر صاحب نے ادب کے ساتھ ساتھ فلم کے میدان میں جو کارنامے سر انجام دئے اُنہیں بالی وڈ کی تاریخ کبھی بھلا نہ سکے گی ۔انہوں نے بے تکے لفظوں کے جنگلوں میں با مقصد شاعر ی کے گلاب کھلائے ۔اور اپنے فلمی نغموں کو ایک نرالہ اور پُر وقار انداز عطا کیا تھا ۔ساحر صاحب کے گیتوں میں ترقی پسندانہ مواد لازمی ملے گا اُنہوں نے بڑی جرات اورقوت استقامت کے ساتھ آواز اُٹھائی وہ ہمارے ناحق اور غیر مساوی سماج کے کڑ مخالف تھے ۔اسی لئے انہوں نے یہ نظم تحریر کی تھی۔

کلامِ ساحر

وہ صبح کبھی تو آئے گی ،وہ صبح کبھی تو آئے گی

دولت کے لئے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گا

چاہت کو نہ کچلا جائے گا ،غیرت کو نہ بیچا جائے گا

اپنے کالے کرتوتوں پر جب دنیا شرمائے گی

وہ صبح کبھی تو آئے گی ،وہ صبح کبھی تو آئے گی

۔ساحرلدھیانوی ہمیں جس صبح کی امید دلاتے رہے

وہ صبح ابھی آئی تو نہیں لیکن آئے گی ضرور۔

تحریر ۔۔۔آفتاب احمد
کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY