الیکشن 2018ء: قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے کتنے امیدوار میدان میں؟

0
76

الیکشن 2018ء میں ملک بھر سے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے تقریبا بارہ ہزار سے زائد سیاسی پہلوان آمنے سامنے ہونگے۔ قومی اسمبلی کے لیے 3 ہزار 675 امیدوار اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تمام نشستوں کے لیے 8 ہزار 895 امیدوار مدِمقابل ہونگے۔

پنجاب سے قومی اسمبلی کے لیے ایک ہزار 696 امیدوار اور سندھ سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے امیدواروں کی تعداد 872 ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے لیے 760 اور بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے 303 امیدوار الیکشن کا حصہ بنیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے لیے 4 ہزار 242 امیدوار مدِمقابل ہوں گے، جبکہ اس کے برعکس سندھ اسمبلی کے لیے یہ تعداد قدرے کم ہے جس کے لیے 2 ہزار 382 امیدوار میدان میں ہیں۔

ملک کی تیسری صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے لیے ایک ہزار 264 امیدوار اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے لیے 1007 امیدوار انتخابی دنگل کا حصہ ہونگے۔

ان تمام امیدواروں میں الیکشن 2018ء میں کئی نئی سیاسی انٹریاں ہونے جا رہی ہیں جن کے لیے بھی عام انتخابات کسی امتحان سے کم نہیں ہونگے۔ نئی سیاسی انٹریوں میں بینظیر بھٹو شہید کے فرزند بلاول بھٹو اپنی زندگی کا پہلا انتخاب لڑیں گے جو این اے 200 لاڑکانہ، این اے 246 کراچی سے انتخابات میں زور آزمائی کریں گے۔ بلاول بھٹو کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اسد محمود بھی این اے 37 ٹانک ڈی آئی خان سے میدان میں اترے ہیں۔

اسی طرح تحریکِ انصاف کے شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین حسین قریشی اور حافظ سعید کے بیٹے طلحہ سعید بھی سیاستدانوں کی فہرست میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔

انتخابات 2018ء میں شوبز سٹارز بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں جو الیکشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں، ان میں سرفہرست گلوکار ابرار الحق ہیں جو نارووال سے پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر این اے 78 سے احسن اقبال کے مدِمقابل ہونگے۔

اس کے علاوہ گلوکار جواد احمد تو وزارتِ عظمیٰ کے تین امیدواروں سے ٹکرا رہے ہیں جو لاہور کے حلقہ این اے 131 اور 132 پر عمران خان اور شہباز شریف جبکہ کراچی کے حلقہ این 146 پر بلاول کا مقابلہ کریں گے۔

کراچی میں پیپلز پارٹی نے بھی تین اداکاروں کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ این اے 256 سے ساجد حسن، پی ایس 101 سے ایوب کھوسو اور پی ایس 94 سے گل رعنا تیر کے نشان پر انتخاب لڑیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY