رزق کی عزت احادیث کی روشنی میں۔۔۔۔ شمس جیلانی

حضورﷺ نے کھانا ضائع کرنے کوبہت ہی سختی سے منع کیا ہے اور اس سلسلہ میں بہت سی احادیث ہیں ان میں ہم چند کا ذکر یہاں کر رہے ہیں۔جبکہ مسلمان اس سے نا بلد اس لیئے ہیں کہ وہ حضور ﷺکی سیرت پڑھتے ہی نہیں ہیں۔اور سب سے زیادہ رزق ضا ئع کرتے ہیں۔ آج کے دور میں اس کی اور بھی زیا دہ اہمیت ہے اس لیئے کہ بہت سے لوگوں کو ایک وقت کا کھانا پورا نہیں ملتا ہے؟ اسلام نے چودہ سو سال پہلے اس کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ روٹی کے علاوہ پانی کی بھی اہمیت کے بارے میں بہت زور دیا تھا کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ آگے چل کر کیا ہونے والا ہے۔ حضور ﷺ کا فرما ن ہے کہ اے عائشہ ؓ رزق کی عزت کرو جس قوم سے یہ چھن جاتا ہے تو واپس نہیں آتا ًاگر نیچے کوئی کھانے کی چیز گر جا ئے تو اور وہاں گندگی نہ ہو تو اٹھاکرصاف کر کے کھالو اس کا بہت ثواب ہے حضورﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے یہ بھی فرمایا کہ دسترخوان پر پڑے روٹی تکڑوں کو اٹھا کے کھالو اس کا بھی بہت ہی ثواب بتایا ہے۔روٹی کے ٹکڑو ں کے سلسلہ میں نے آنکھوں کے ایک ماہر کو دسترخوان سے اپنے علاوہ دوسروں کے بھی سامنے سے تکڑے چن چن کر کھاتے دیکھا جو کے پکے مسلمان تھے؟ تو میں نے پوچھاآپ ایسا کیوں کر تے ہیں؟ انہوں نے وجہ بتا ئی کہ اس سے آنکھوں کی بینائی تیز ہو جاتی ہے اور اس کے حق میں حضور ﷺکی حدیث ہے۔ یہ میں اپنے مریضوں کو بھی بتاتا ہو اور ان لو گوں کو بھی اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن مسلمان اپنے نبی ﷺکی سیرت سے نا واقفیت کی بنا پر سب سے زیادہ کھانا ضائع کرتے ہیں؟ بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تم گھر میں دو فرد ہوتو تین کا کھانا پکاؤ، چار کا نہیں کہ ایک مہمان آجا ئے تو اس کوبھی کھلا سکو۔کھانا خراب کر کے پھینکنے سے بچو۔ ہمارے ہاں لوگ اول تو پکاتے وقت خیال نہیں رکھتے ہیں عموماً بہت زیادہ پکا لیتے ہیں جو پھنکتا ہے۔باسی کھانا کسر شان سمجھتے ہیں جبکہ اتباع حضورﷺمیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب خلیفہ تھے اس وقت بھی سوکھی روٹی کے تکڑے پانی میں بھگوکر تناول فر ماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس سے زیادہ مزہ کسی کھانے میں مجھے نہیں آتا ہے۔۔ کھاتے ہوئے تھوڑا بر تنوں میں چھوڑ دینا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔جبکہ اپنے سامنے کے بر تنوں کو صاف کر نے کا حکم ہے۔ کھانے کی چیزیں بلا ضرورت لے آتے ہیں ان میں سے ایک آدھ حصہ کھا یا باقی وہ فرج میں پڑا رہایا گھر میں ادھر ادھر پڑا رہتا ہے خراب ہونے پرپھینکنا پڑتاہے۔چونکہ ماں باپ میں سے کوئی خود نہیں عمل کرتے تو بچوں کو وہ کیا سکھا ئیں گے وہ بھی وہی سیکھتے ہیں جو ماں باپ کوکرتے ہیں۔ جو سراسر اسلام کے خلاف ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ قر آن میں فر ما رہا ہے کہ ً اے نبی ﷺ ان سے کہدو کہ اگر میری محبت چا ہیئے ہے تو آپ کی اطا عت کریں اللہ تمہیں بخش دیگا اور تم سے محبت کرنے لگا ً مسلمان حضورﷺ کی محبت کا دم تو بھر تے ہیں مگر ان کا اتباع کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں،جو کہ صراط مستقیم ہے۔ہر عمل کا ثواب زیادہ ہے جو انﷺ کے طریقہ سے کیا جا ئے اللہ کو انہیں کا دین پسند ہے۔اور کسی کا نہیں۔ اور حضور ﷺنے فرمایاکہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں میرے راستے پر چلنا ایسا ہوگا جیسا کہ کسی نے انگارہ مٹھی میں دبالیا ہو۔اس دور میں میرے راستے پر چلنے والوں کو ایک حدیث میں تین سو حج اور عمروں کے برابرابر ثواب ملے گا، دوسری حدیث میں ایک سو حج اور عمرے کے برابر ثواب ہے؟ اس دورمیں ہم اب چل رہے ہیں چونکہ اتباع رسولﷺ نہیں کر رہے ہیں لہذااب ہما رے اوپر اللہ کی رحمتیں بھی ویسی نہیں برس رہی ہیں،ساری دنیا میں خوار ہورہے ہیں۔ حضورﷺ کے دور کے ایک واقعہ کوجوکہ تاریخ میں بہت مشہورہے پیش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ۔ حضورﷺکاایک وفد شاہ روم کے دربارمیں گیا تو اس نے اس کی ضیافت کی وہ شاہ روم کے ساتھ کھانا کھارہے تھے ان میں سے ایک کے ہا تھ سے کچھ دستر خوان پر گر گیا انہوں ؓ نے اٹھا کر کھانا چاہا تو شاہ کے درباری نے ان سے کہا کہ یہ شاہی آداب کے خلاف ہے۔ تو انہوں ؓ نے جواب دیا کہ میں اپنے نبی ﷺکے حکم کی خلاف وزری نہیں کرسکتا۔ ہم وہی کرتے ہیں جو ہمارا سماج کرتا ہے؟روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ لوگ دعوتوں میں جا تے ہیں تو ایسے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے کبھی ملا ہی نہیں اور پلیٹوں میں بھر لیتے ہیں آدھا کھاتے ہیں آدھا اسی میں چھوڑدیتے ہیں جو بعد میں پھینک دیا جاتا ہے۔کبھی موقع ملے تو کسی شادی ہال میں جاکر ڈرموں میں سڑتا ہوا دیکھ لیجئے۔ کھانے کے دوران میزبان زور دیتے ہیں کہ اور لیجئے جو سرو کر رہے ہوتے ہیں، وہ بھی لینا ضروری سمجھتے ہیں۔یہ موجودہ صورت ِ حال میں لا پرواہی کی عالم ہے کہ ایک طرف تو غریبوں کے بچے کچرے کے ڈھیروں میں کھانے کی چیزیں تلاش کر کے کھا رہے ہوتے ہیں جبکہ امیروں بچے کھانا پھینک رہے ہوتے ہیں۔یہ حال تو کھانے کا ہے۔ اب پانی کے لیئے حضور ﷺ کا حکم ہے کہ پانی ضائع مت کرو کم سے کم استعمال کرو چاہیں دریا کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو؟ ہم جس بیدردی سے ضائع کرتے ہیں اس کو گھروں میں دیکھ لیجئے۔ سڑکوں پربہتے ہوئے دیکھ لیجئے کس طرح پانی بہاتے ہیں ہر دفعہ ایک نیا گلاس پانی پینے کے لیئے چاہیئے ہوتا ہے۔اسلام میں مسلمان کا جھوٹا، جھوٹا نہیں سمجھا جاتا سب ایک بڑے سے برتن کے چاروں طرف بیٹھ کر کھاناکھا تے تھے۔ حکم ہے اپنی سامنے سے کھاؤاور بس بوٹیاں ٹٹلولتے مت پھرو،مگر ہم کرتے یہ نہیں ہیں دوسری قوموں کا تشبہ کرتے ہیں جو اسلام منع کرتا ہے۔سب سے زییادہ پانی ضائع مسلمان کرتے ہیں ان کی مسجد کے وضو خانوں میں چلے جا ئیں چاروں طرف پانی ہی پانی ملے گاچھپا چھپ ہورہے ہوتے ہیں؟جب کہ حکم تھوڑے سے پانی سے اچھی طرح مل کر وضو کرنے کا ہے تاکہ مسام میں پسینہ آنے کی وجہ سے جو نمک یات وغیرہ جمع ہو کر جم جاتے دھل جا ئیں اور مسام بلاک نہ رہیں۔ کیونکہ اسلام دین ِحکمت ہے جو خالق جانتا ہے۔ مخلوق نہیں جانتی ہے۔ وہ اتنا ہی جانتی ہے جنتا اس کی طرف سے ان کو علم عطا ہوتا ہے حضورﷺ اس میں بھی کامل تھے۔ لہذا انہوں جو ہدا یتیں دیں وہ اس کے متابق تھیں اس لیئے انکا ماننا لازم ہے۔ہم اس نکتے کو جس دن سمجھ جا ئیں گے ہمارے اچھے دن واپس آجائیں گے اللہ انﷺ کے اسو حسنہ پر عمل کر نے کی تو فیق عطا فر مائے۔ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY