اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست ترمیم کے ساتھ دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ کیپٹن صفدر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 174 صفحات کے عدالتی فیصلے میں ان کے موکل کے خلاف صرف ایک لائن لکھی گئی اور اس میں سزا سنائی گئی ہے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت نے ان کے موکل سمیت تمام ملزمان کو کرپشن سے متعلق نیب آرڈی نینس کی سیکشن نائن اے فور سے بری کرتے ہوئے دیگر دفعات کے تحت سزا سنائی۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کے الزام پر ایک سال کی سزا فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کی گواہی کی روشنی میں دی گئی۔ فرانزک ایکسپرٹ نے خود تسلیم کیا کہ 2005ء میں کیلبری فونٹ موجود تھا اور وہ بھی ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کر چکا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فی الحال کیس کے میرٹس پر بات نہ کریں تو بہتر ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے اعتراض کیا کہ اپیل سماعت کیلئے مقرر ہونے پر سزا معطلی کی درخواست غیر موثر ہو جاتی ہے۔

عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل کو بتایا کہ درخواست میں احتساب عدالت کو تو فریق ہی نہیں بنایا گیا جبکہ آپ کی بنیادی استدعا ہی احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرنے کی ہے۔ درخواست درست کر کے دوبارہ جمع کرائیں، پھر کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY