نندی پور پاور کیس کی سماعت آج ہوگی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے گذشتہ روز نندی پور پاور کیس ری اوپن کرتے ہوئے اس کی سماعت آج کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے لئے عدالت نے وفاق، پیپکو اور واپڈا سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
کل ہونے والی سماعت کے موقع پر سابق وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
چیف جسٹس نے خواجہ آصف کو مخاطب کرکے کہا کہ خواجہ صاحب جب آپ وزیر تھے تو مسائل حل کیوں نہیں کیے، آپ کے پاس اتھارٹی تھی، مسئلے حل کراتے، جس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ مجھےکیس سے الگ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کیس سے الگ کیا گیا تھا لیکن تحقیقات تو کرا سکتے تھے،خواجہ آصف نے کہا کہ ایک کمیشن رحمت علی جعفری کی سربراہی میں بنا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کمیشن نے ذمہ داری بھی طے کردی تھی۔
خواجہ آصف نے جواب دیا کہ اس میں حکم تھا کہ نندی پور اور چیچوں کی ملیاں پر کام مکمل کریں،اس موقع پر جسٹس اعجازلاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دوہزار گیارہ میں درخواست دائر کی ،اب سات سال ہوچکے، آپ بتائیں اب اس درخواست میں کیا رہ گیا کہ اسے سنیں۔
خواجہ آصف نے جواب دیا کہ نندی پور منصوبہ اب پانچ سال سے کام کر رہا ہے، منصوبہ ٹھیکے پر نہیں، اونر شپ حکومت کی ہے، دوران سماعت جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی درخواست میں وزارت قانون کی اعلیٰ شخصیت کا ذکر ہے، آپ نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے تاخیر کی۔خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جی اس شخصیت نے روکا تھا اور کمیشن نے بھی مان لیا تھا کہ تاخیر سے منصوبےکی لاگت بڑھی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس دور میں جہاں بھی گڑبڑ ہوئی اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے،اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے نندی پور منصوبے سے متعلق کیس ری اوپن کرتے ہوئے وفاق، پیپکو اور واپڈا سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔












