الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کے ووٹ کی رازداری ظاہر کر نے پر از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی معافی قبول کرلی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عمران خان کی قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53سے کامیابی کا نوٹی فیکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

چیف الیکشن کمشنر سردارمحمد رضا خان نے کہا کہ ووٹ کی حرمت پامال کرنے سے متعلق شواہد کا ریکارڈ ہونا چاہیے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے عمران خان کا جواب اور بیان حلفی جمع کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے چیف الیکشن کمشنر کو نوٹس واپس لینے کی رائےدی۔

عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے پر ازخودنوٹس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سردارمحمد رضا خان کی سربراہی میں 4رکنی کمیشن کر رہا تھا جس نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل بابر اعوان کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، بابر اعوان کے معاون وکیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بابر اعوان کچھ دیر تک پہنچ رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ڈاکٹربابراعوان سے زیادہ ہمیں یہاں جواب چاہیے تھا، عمران خان سے دستخط شدہ معافی نامہ اوربیان حلفی طلب کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز الیکشن کمیشن نےعمران خان سے دستخط شدہ معافی نامہ اور بیان حلفی طلب کیا تھا جس پر بابر اعوان نے اپنے دستخط سے عمران خان کا معافی نامہ جمع کرایا تھا۔

الیکشن کمیشن نےبابراعوان کےدستخط والامعافی نامہ مستردکردیاتھا،تاہم آج چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دیا گیا جواب اور بیان حلفی جمع کرلیا۔

عمران خان پرحلقہ این اے53 میں ووٹ ڈالتے ہوئے رازداری برقرار نہ رکھنےکا الزام تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY