اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما نعیم بخاری نے کہا کہ ’اس میں کئی ایسی چیزیں ہیں جس سے ہم متفق نہیں اور یہ احکامات ہمیں سنے بغیر جاری کیے گئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ان احکامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان احکامات کو چیلنج کرنے پر غور کررہے ہیں کیوں کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ احکامات دائرہ اختیار سے باہر نکل کر جاری کیے گئے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ ’ہائیکورٹ کے حکم کو چیلنج کریں گے،ہمیں سنے بغیر حکم جاری کیاگیا، ہوسکتا ہے کہ اسے انٹرا کورٹ اپیل میں چیلنج کریں یا پھر سپریم کورٹ میں‘۔

نعیم بخاری نے کہا کہ ’آیا عمران خان کو 31اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہونا چاہیے یا نہیں اس حوالے سے ہم 30 تاریخ کو عدالت کو بتادیں گے‘۔

اس موقع پر معروف قانون دان بابر اعوان نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام عدالتوں پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے، آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت کسی فریق کو سنے بغیر کوئی فیصلہ یا حکم نہیں دیا جاسکتا‘۔

بابر اعوان نے کہا کہ ’آئندہ 24 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم چیلنج کردیں گے‘۔

واضح رہے کہ قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتطامیہ کو 2 نومبر کو کنٹینرز لگاکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو دھرنوں سے شہر بند کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے 2 نومبر کو عمران خان کو اسلام آباد بند کرنے سے روکنے کے حوالے سے دائر عام شہریوں کی 4 درخواستوں کی سماعت کی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ 2 نومبر کو دھرنے کے دن اسلام آباد میں نہ تو کوئی کنٹینر لگے گا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوں گی۔

علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر دفعہ 144 کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کے تحت جلسے جلوس پر مکمل پابندی ہوگی۔

دفعہ 144 کے تحت اسلام آباد میں اسلحہ لے کر چلنے اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی گئی جبکہ اس حوالے سے نوٹیفکیشن اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن (ر) مشتاق احمد نے جاری کیا.

اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اگلے ماہ 2 نومبر کو پاناما لیکس اور کرپشن کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے جارہی ہے اور عمران خان کا مطالبہ کہ وزیراعظم نواز شریف یا تو استعفیٰ دیں یا پھر خود کو احتساب کے لیے پیش کردیں۔

اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت دونوں ہی تیاریوں میں مصروف ہیں، ایک طرف پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو دھرنے کی تیاریوں کا کہہ رکھا ہے وہیں پولیس کی اسپیشل برانچ نے حکومت کو ان افراد کی فہرستیں فراہم کردی ہیں، جنھیں اسلام آباد کے محاصرے سے قبل گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY