لندن میں پارلیمان کی عمارت کے باہر نصب رکاوٹوں سے ایک گاڑی کی ٹکر کے نتیجے میں کئی راہ گیر زخمی ہو گئے ہیں جب کہ پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے تمام افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تفتیش کر رہی ہے اور تاحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی یا نہیں۔

لندن کے اسسٹنٹ کمشنر نیل باسو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یقینی طور پر یہ ایک جان بوجھ کر کی جانے والی کارروائی تھی۔

باسو کا کہنا تھا کہ گرفتار کیا جانے والا مشکوک شخص اپنی شناخت اور نیت کے حوالے سے پولیس سے تعاون نہیں کر رہا۔

اس سے قبل لندن کی پولیس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ رکاوٹوں سے ٹکرانے والی گاڑی کے مرد ڈرائیور کو موقع پر موجود اہل کاروں نے حراست میں لے لیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں کئی راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن تاحال پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود اہلکار تحقیقات کر رہے ہیں اور واقعے کی مزید تفصیلات جیسے ہی ملیں گی، انہیں عوام کے لیے جاری کردیا جائے گا۔

لندن پولیس کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس کے تفتیشی افسران واقعے کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

موقع پر موجود بعض افراد کی جانب سے بنائی جانے والی واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھاری اسلحے سے لیس پولیس اہلکار ایک شخص کو ہتھکڑی باندھ کر اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔

ایک عینی شاہد جیسن ولیمز نے برطانوی نشریاتی ادارے ‘اسکائی نیوز’ کو بتایا ہے کہ پارلیمان کی طرف آنے والی گاڑی کی رفتار خاصی تیزی تھی جو خاصی غیر معمولی بات ہے۔

عینی شاہد نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ یہ کوئی ٹریفک حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی کارروائی تھی۔

ٹی وی پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک گاڑی کی جانب بندوقیں تان رکھی ہیں جو پارلیمان کی عمارت کے اندر جانے والے راستے پر موجود ایک بیریئر سے ٹکرانے کے بعد کھڑی ہوئی ہے۔

واقعے کے بعد لندن کی انتظامیہ نے پارلیمان کی عمارت کے نزدیک واقع زیرِ زمین ٹرین اسٹیشن ‘ویسٹ منسٹر’ کو بند کردیا ہے۔

واقعے کے بعد پارلیمان کی عمارت کو بھی بند کردیا گیا ہے اور کسی کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

SHARE

LEAVE A REPLY