قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کا کردار شہباز شریف ادا کریں گے

0
84

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اورسابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ملک کی 15 ویں منتخب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کریں گے۔

111 نومنتخب اراکین اسمبلی کی جانب سے شہباز شریف کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔

گزشتہ روز ہونے والے ایوانِ زیریں کے دوسرے اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر نے ایوان کو بتایا کہ انہیں قائد حزبِ اختلاف کےلیے شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی موصول ہوئے جس پر ایک سو 11 اراکینِ قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔

واضح رہے کہ قائد ح

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اورسابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ملک کی 15 ویں منتخب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کریں گے۔

111 نومنتخب اراکین اسمبلی کی جانب سے شہباز شریف کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔

گزشتہ روز ہونے والے ایوانِ زیریں کے دوسرے اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر نے ایوان کو بتایا کہ انہیں قائد حزبِ اختلاف کےلیے شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی موصول ہوئے جس پر ایک سو 11 اراکینِ قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن بنایا جائے، شہباز شریف

واضح رہے کہ قائد حزب اختلاف کا باضابطہ اعلان پیر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ جہاں ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اراکینِ اسمبلی نے قائدِ ایوان کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے گریز کیا اور وزیر اعظم کی رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔

وہاں پی پی پی کے ہی کچھ اراکین کی جانب سے شہباز شریف کی بطورِ قائد حزب اختلاف نامزدگی کی حمایت کی گئی۔

یاد رہے کہ حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ایوانِ زیریں کی 43 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر، قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر منتخب

دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کے نو منتخب اراکینِ اسمبلی کی تعداد 82 جبکہ متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے اراکینِ اسمبلی کی تعداد 15 اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا صرف ایک رکن ممبر قومی اسمبلی ہے۔

یوں مجموعی طور پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 98 ہے، چناچہ شہباز شریف کو قائد حزب ِاختلاف کے لیے 111 اراکین کی حمایت حاصل ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی اس عہدے پر نامزدگی میں پیپلز پارٹی کے چند اراکین کی حمایت بھی شامل ہے۔

زب اختلاف کا باضابطہ اعلان پیر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ جہاں ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اراکینِ اسمبلی نے قائدِ ایوان کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے گریز کیا اور وزیر اعظم کی رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔

وہاں پی پی پی کے ہی کچھ اراکین کی جانب سے شہباز شریف کی بطورِ قائد حزب اختلاف نامزدگی کی حمایت کی گئی۔

یاد رہے کہ حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ایوانِ زیریں کی 43 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کے نو منتخب اراکینِ اسمبلی کی تعداد 82 جبکہ متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے اراکینِ اسمبلی کی تعداد 15 اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا صرف ایک رکن ممبر قومی اسمبلی ہے۔

یوں مجموعی طور پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 98 ہے، چناچہ شہباز شریف کو قائد حزب ِاختلاف کے لیے 111 اراکین کی حمایت حاصل ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی اس عہدے پر نامزدگی میں پیپلز پارٹی کے چند اراکین کی حمایت بھی شامل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY