امریکی پابندیوں کےخلاف ایران نےاقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹادیا، ایران نےعالمی عدالت انصاف سےمطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکاکوپابندیاں واپس لینےکاحکم دیاجائے۔
ایران نے عالمی عدالت انصاف سے درخواست کی ہے کہ وہ امریکہ کے 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد لگائی جانے والی پابندیاں ختم کرے۔
ایران نے عالمی عدالت انصاف میں اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا1955کےمعاہدےکی خلاف ورزی کررہاہے۔
ایرانی مندوب نے عدالت کو بتایا کہ ایران نےتنازع کاسفارتی حل تلاش کرنےکی کوشش کی جسےردکردیاگیا۔
اس پر صدرعالمی عدالت انصاف کے صدر کا کہنا ہے کہ جوبھی فیصلہ آئے،امریکااس کااحترام کرے۔
دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ا س پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کےموقف کاہیگ میں بھرپوردفاع کریں گے،مقدمہ عالمی عدالت انصاف لےجاناامریکاکےمعاملات میں مداخلت ہے۔
واضح رہے کہ 2015 میں امریکہ سمیت چھ ممالک نے ایران سے جوہری معاہدہ کیا تھا لیکن اس سال صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘امریکہ اس معاہدے سے نکل رہا ہے کیونکہ اس کے مرکزی مقاصد پورے نہیں ہوئے جو کہ ایران کو جوہری بم تیار کرنے سے روکنے کے بارے میں تھا۔ ‘












