ستر سال سے ہماری جتنی نظامِ حکومتوں میں قومی خزا نے کو قومی لٹیروں اور قومی چوروں نے اپنے اللے تللے کے لئے لوٹ مار کرکے خالی کیا اور مُلک میں کرپشن کے کلچرسے اقتصادی و معاشی ڈھانچہ تباہ و برباد کیااورجس طرح مُلک میں ا میری اور غریبی کے توازن کوبگاڑاہے۔ اَب یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے ؛ اِس عرصے میں جو بھی (سِول یا آمر) حکمران آیاہے۔ سب نے قومی خزا نے کو بہتی گنگا سمجھ کر اِس میں غسلِ کرپشن کیا ہے۔ اپنا پیٹ بھرا ہے؛ اور چلتا بنا ہے۔ کسی نے پلٹ کر بھی دیکھنا گوارہ نہ کیا کہ اِس کی لوٹ مار کے بعد مُلک اور قوم کا کیا بنے گا؟ قومی خزا نے سے اِن کی لوٹ مار اور اللے تللے سے مُلک اور قوم کی خوشحالی کا کیا حال ہوگا؟ مگراقتدار ملتے ہی سب کے ہاتھ تو جیسے سُونے کا انڈادینے والی مرغی ہاتھ لگ جاتی تھی ،آج قومی لیٹروں اور چوروں کی لوٹ مار کی وجہ سے قومی خزانہ خالی پڑاہواہے، مُلک میں معاشی اور اقتصادی ترقی رک گئی ہے؛ قوم کے چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی ہے ۔
آج اِسی مُلک کی رکی معاشی اور اقتصادی ترقی کو پھر سے چلانے اور قوم کے چہروں پر چھائی اُداسی کو ختم کرنے اورماضی کے لوٹ مار کرنے والے نظامِ حکومت کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے اپنے کفایت شعاری اور خود انحصاری مشن سے درست کرنے کی ٹھان لی ہے ؛ عالمی مالیاتی اداروں سے بیجا قرض نہ لینے اور اپنی ضرورتوں کواپنے کفایت شعاری اور خود انحصاری مشن سے پوراکرنے کا بیٹرا بھی عمران خان نے اپنی کابینہ کے قابل و باصلاحیت اور قابلِ بھروسہ اراکین کے ہمراہ اپنے کاندھوں پر اُٹھا لیاہے ۔ ائیر پورٹ پر وی آئی پی پروٹوکول ختم کردیاگیاہے،ریلوے اور اسٹیل ملزسمیت دیگر خسارے والے قومی اداروں میں ملازمین کو نکالنے بغیر کفایت شعاری اور خود انحصاری اعلان کے تحت اپنے وسائل بروئے کار لا کر چلانے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ۔جس کے عنقریب مثبت نتائج سامنے آئیںگے۔گزشتہ دِنوں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کا بینہ کا ہونے والا اجلاس اِس سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا ،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک پر یس کانفرنس میں جس کی تفصیل کچھ یوں بتا ئی کہ ؛ اجلاس میں وزیراعظم اور وفاقی وزراءکے صوابدیدی فنڈزختم کرنے کا فیصلہ کرنے سمیت کا بینہ نے میٹروبس اور اورنج ٹرین منصوبوں کی چھان بین اور آڈٹ کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اِس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ تاریخی اعلان بھی کیا کہ وہ وزیراعظم کے لئے مختص جہاز استعمال نہیں کریں گے ،اور کابینہ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ وزیراعظم فرسٹ کلاس کی بجائے کلب کلاس استعمال کریں گے، اِس طرح چیف جسٹس، چیئر مین سینیٹ اور وزیرخارجہ سمیت وہ شخصیات جو فرسٹ کلاس میں سفر کرتی ہیں؛ بشمول آرمی چیف وہ بھی کلب کلاس استعمال کریں گے، اجلاس میں مُلک بھر میں صفائی فہم چلانے کے لئے ٹاسک فورس بھی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا،سی پیک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے اسے مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ۔
جبکہ اپنی نوعیت کے کابینہ کے اِس اہم ترین اجلاس میں وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے وفاقی /سرکاری اداروں اور اِن کے دفتری اوقات کار میں تبدیلی اور حاضری کو یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ؛جس میں واضح کیا گیاہے کہ ہفتہ وار دوچھٹیاں ختم کرنے کا فیصلہ اتفاقِ رائے سے تو نہ ہوسکا؛البتہ! دفتری اوقات صبح 8سے 4کے بجائے صبح 9سے 5بجے تک کرنے فیصلہ ہوااور ساتھ ہی اِس بات کو بھی یقینی بنایاگیا کہ جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد جو اسٹاف غیر حاضر ہوجاتا تھا۔ اَب وہ دفتری اسٹاف جمعہ کے دن شام 5 بجے تک دفتر میں حاضر رہے گا؛دفتری اوقا ت کاربڑھانے سے جہاں اداروں اور اسٹاف کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ تو وہیں دودن کی ہفتہ وار چھٹی سے بجلی کی بھی بچت ہوگی،کا بینہ میں پانچ سال میں دس ارب بالخصوص کراچی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے اور مُلک بھر میں صفائی مہم چلانے کے لئے ٹاسک فورس بھی قائم کردی گئی ہے،سرکاری پی ٹی وی کو سنسر شپ سے آزاد کرنے کے فیصلہ کرنے سمیت اِس میں عوامی سطح میں دیگر نجی ٹی وی چینلز کی طرز پر پذیرائی کے لئے اقدامات کرنے کے لئے بھی ضروری فیصلے اور اقداما ت کرنے کا ارادہ ظاہر کیاگیا ہے ۔علاہ ازیں اجلاس میں خارجہ پالیسی کو مثبت انداز سے بہتر بنانے خطے کے پڑوسی ممالک سمیت امریکا اور دیگر یورپی ممالک سے بھی برابری کی سطح پر دیر پابنیادوں پرخیر سگالی کے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔آج جس طرح عمران خان کی حکومت کے کفایت شعاری اور خودانحصاری اعلان پراپوزیشن جماعتوں کے خود ساختہ تحفظات ہیں۔ اِس سے یہ ثابت ہورہاہے کہ اپوزیشن جماعتیں ہار کر بھی نہیں چاہتی ہیں کہ اِن کی عیاشیاں ختم ہوں۔ یہ سب عمران خان کے کفایت شعاری اور خودانحصاری اعلان و اقدامات پر اِس لئے بھی اپنے تحفظات کے ساتھ سخت نالاں ہیں ،کیوں کہ ابھی تک یہ سمجھتیں ہیں کہ آئندہ جب کبھی اِن کی حکومت آئی(اَب جس کی برسوں اور کئی انتخابات تک اُمید نہیںہے)تو پھر اِنہیں بھی اِس پر عمل کرنا پڑے گا۔آج جن پر عمران خان عمل کررہاہے، اور تب یہ کام اُن کے لئے کانٹوں پر سونے سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا، کیوں کہ ماضی میں اپوزیشن کی جماعتوں ن لیگ اور پی پی پی نے جب بھی اقتدار سنبھالاہے۔ اِنہوں نے اپنے حلیفوں اور حواریوں کے ہمراہ قومی خزا نے کو لوٹا ہی ہے۔ مگر اَب عمران خان اپنی حکومت میں کفایت شعاری اور خود انحصاری کے اقدامات سے جو کچھ کررہاہے؛ یہ اپوزیشن جماعتوں کے لئے گلے کی ہڈ ی ثابت ہوگا۔
بیشک مُلک میں جس تبدیلی کا نعرہ پی ٹی آئی والوں اور نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے لہک لہک کر لگایاتھا آج اِس پر عمل کرنے کا موقعہ اِن کے ہاتھ لگ گیاہے اور تبدیلی کے ثمرات عوام الناس تک پہنچانے کے لئے نئی حکومت متحرک دکھائی دیتی ہے؛ جس کے لئے رفتہ رفتہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔اَب تبدیلی کے نام پر جادوکی چھری تو عمران خان کے ہاتھ لگی نہیں ہے کہ سب کچھ ہی یکدم سے پلک جھپکتے ہی ہو جائے ، تبدیلی کے منتظر عوام اور ہارے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے سیاست دان صبرو برداشت سے کام لیں ؛سب کچھ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ عمران خان نے اپنے اقتدار سے پہلے اقتدار ملنے کی صورت میں عوام اور شکست خوردہ عناصر سے وعدے اور دعوے کئے تھے۔ بس سب ذراانتظار کریں ،اور شیطان کے چیلے چانٹے بننے کے بجائے عمران خان کی حکومت اور تبدیلی کی وعدوں اور دعووں پر تنقیدوں کے نشتر چلا کر نہ تو عمران خان کو گھائل کریں؛ اور نہ ہی نئی حکومت اور اِس میں شامل کابینہ کے اراکین کے حوصلے پست کریں

SHARE

LEAVE A REPLY