بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی۔۔۔۔شمس جیلانی

0
821

یہ بھی علامہ اقبال ؒ کا شعر ہے جس کا مصرع ثانی ہم نے طوالت کی وجہ سے چھوڑدیا ہے کہ عنوان بہت بڑا ہوجا ئے گا جس کی اجازت ہمارا پیشہ نہیں دیتا۔ جنہیں تشنگی محسوس ہو وہ گوگل میں جاکر پوچھ لیں؟۔کیونکہ آجکل ہر بات انہیں سے پوچھنے کا رواج بڑھ رہا ہے اب تو عالم یہ ہوگیا ہے کہ سوال لکھنا بھی نہیں پڑتاصرف پوچھنا ہوتا ہے اور سیکنڈوں میں جواب مل جاتا ہے؟خاص طور پر گوگل سے طلباء کی امیدیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کی قابلیت بتدریج گھٹتی جارہی ہے؟ ہمارے دوست نے اپنے ایک صاحبزادے کاقصہ سنا یا مگر ہم تفصیل میں نہیں گئے؟ لہذا ہمارا خیال ہے کہ اباّ حضورکو غالباً اس مطالبے کے جواب میں صاحبزادے نے مشورہ دیا ہوگاکہ بجائے مجھے سبق یاد کرنے کاحکم دینے آپ گوگل کوہی کیوں نہیں کہدیتے کہ سبق بھی وہی یاد کرلے،اس مشورے کی روشنی ہم کو یقینِ کامل ہے کہ ترقی کی اگلی سیڑھی یہ ہی ہوگی۔ پھر کیا ہوگا اس کا جواب ہمارے پاس توکیا وہ اب کسی کے پاس بھی نہیں ہے؟
اب آتے ہیں اپنے کالم کی طرف کہ عمران خان کی حکومت چومکھی لڑائی لڑرہی ہے۔تازہ خبر یہ ہے کہ وہ الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہی ہے کہ انہوں نے دونئے ممبروں سے حلف کیوں نہیں لیا؟دوسرے طرف کراچی میں کچرے کی لڑائی اتنی بڑھی کہ مرکز مداخلت کرنے جارہا ہے۔ جبکہ ہم نے اپنے گذشہ کالم میں یہ لکھا تھا کہ پورا ملک قلم چھوڑ ہڑتال جیسی پوزیشن میں ہے۔ دوسری طرف جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں؟آج ہم نے بلاول بھٹو صاحب کا بیان بھی ٹی وی پرسنا کہ “اب اسلام آباد براہ راست کراچی پر حکومت کریگا؟ جبکہ بنگلہ دیش بن سکتا ہے، توسندھو دیش اور کراچی دیش کیوں نہیں بن سکتا“ ہمیں کوئی آثار اچھے نظرنہیں آرہے ہیں؟ کیونکہ زرداری صاحب اپنی صدارت کے دوران سندھو دیش کی بنیاد ڈال کر آئے ہیں۔ اس وقت اسے کوئی محسوس نہیں کرسکا سب نے ان کے ساتھ واہ واہ کی انہوں نے اپنے اختیارات رضاکارانہ طور پر کمی کرکے آنے والے صدر کو بے اختیار کردیا ہے اور وہ سندھ کو اپنی دائمی باد شاہت میں لینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔ یعنی یا تو ہم رہیں گے نہیں تو کوئی بھی نہیں رہے گا۔رہے عمران خان توان سے لوگوں نے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلیں تھیں اس میں اس نعرے کوبڑا دخل تھا کہ وہ مدینہ جیسی ریاست بنا ئیں گے؟چونکہ ہر قسم کی معافیہ ہمیشہ سے بہت طاقتور تھی وہ اب اپنی بقا کے لیئے ہاتھ پیر مار رہی ہے۔ “تاکہ پھر وہی دور لوٹ آئے کہ کوئی دوسرے حکمرانوں کی طرح دو داڑھ رکھنے والا ہو جو کھائے بھی اور کھلائے بھی“
نتیجہ یہ ہوا کہ اس حکومت سے سب ہی ناراض ہیں۔ کیونکہ نہ ہی احتساب ہوسکا،نہ ہی مدینے جیسی ریاست کی طرف کوئی قدم بڑھا سکے؟ اور نہ ہی اس طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ کو مناسکے جیسا اسکو منانے کا حق تھا؟ جیسے ہی وہ آئے تھے اگر وہ تمام قوم سے اپیل کرتے کہ آؤ میرے ساتھ ملک کر اجتماعی توبہ کرو! تو وہ بلا چوں چراں توبہ کرلیتی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ معاف کردیتا تو صورت ِ حال کچھ اور ہوتی؟ یہ موقع انہوں نے کھودیا کہ لوگ قدامت پسند کہیں گے؟ اور وہ وقت تھا جوکہ نکل گیا؟ کیونکہ وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا ہے۔
البتہ یہ ماننا پڑیگا کہ انہوں نے اوروں کے مقابلے میں خود سادگی ضرور اختیار کی ،مگر کسی بھی نیک کام کو اگر اسلام کے دائرے سے باہر جاکر کریں تو وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے؟ کیونکہ وہاں پہلے ایمان، پھر عمل اس کے بعد تقویٰ، توکل اور خلو ص ہونا لازمی ہیں۔ یہ چیز یں وہ خود میں پیدا نہیں کرسکے لہذا انقلاب آتا ہوا نظر نہیں آیا، نہ ہی انصاف ہوتا ہوا کہیں نظر نہیں آیا؟
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ آتے ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ جو کہ پاکستان کے دستور کا لازمی جز ہے اس کا نفاذ فوراً کردیتے ،تو لوگ روکھی سوکھی کھا لیتے مگر سمت بتاتی کہ وہ درست ہے تو عوام ہ بھی ہم نوا ہوتے اس صورت میں اگر اپوزیشن ساتھ نہ دیتی اس کے خلاف جاتی تو وہ بھی اپنی اہمیت کھودیتی؟ مگر جو پہلا قدم اٹھا وہ تھا مزید قرضہ لینا اور اغیار کے شکنجوں میں پھنسنا؟ جس کی وجہ سے تیزی سے مہنگائی بڑھی عمران خان کی مقبولیت روز بروز رو بہ زوال ہوتی گئی؟حزب ِ اختلاف جو پہلے ہی تاک میں تھی؟ جس کے پروردہ لوگ چاروں طرف موجود تھے؟ وہ حکومت کے لیئے مزید پریشانیوں کا باعث بن گئے۔ اب کیا ہوگا اللہ ہی بہتر جانتا ہے؟ بس دعا کیجئے کہ وہ راضی ہوجا ئے اور بگڑے کام سدھر جائیں۔(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY