عمران علی شاہ تشدد ازخود نوٹس کیس کی آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے عمران شاہ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’ شہری کو تھپٹر کیوں مارا، انسان تھا یا جانور؟
دو ہفتے قبل تحریک انصاف کے نو منتخب رکن اسمبلی عمران علی شاہ نے اسٹیڈیم روڈ کے قریب ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تھا۔
سپریم کورٹ میں عمران علی شاہ تشدد ازخود نوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس نے عمران شاہ کو اپنے رو برو بلایا اور سخت الفاظ میں سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’آپ نے کیا سوچ کر شہری کو تھیٹر مارا؟کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں مارتا۔‘
چیف جسٹس نے عمران شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے،نہیں چھوڑیں گے،آپ عوام کے نمائندے ہیں،اس طرح تشدد کریں گے؟میں باہرآتا ہوں،مجھے مار کردکھائیں۔
اس پر عمران شاہ نے اظہار ندامت کرتے ہوئے کہا کہ سوری سر،میں شرمندہ ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کیا سوری؟میں نے بچپن میں ملازم کوبیلٹ سے مارا تھا،میرے والد نے بھی مجھےدوبارسبق سکھانے کے لیے مارا تھا۔
چیف جسٹس نے عدالت میں موجودمتاثرہ شہری داؤد چوہان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ معاوضہ لے کربیٹھ گئے،کیوں معاف کیا،عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا۔
داؤد چوہان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نامزد گورنر میرے گھر پر چل کرآئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران شاہ نے کتنے تھپٹرمارے تھے؟عمران شاہ نے چیف جسٹس کے سوال پر جواب دیا کہ 3 سے 4 تھپٹر مارے تھے جس پرچیف جسٹس نے برہم ہوتے ہوئےکہا کہ آپ کوبھی سر عام اسی طرح 4 تھپٹرمارے جائیں گے،ابھی وہ کلپ چلاتے ہیں سب کو عدالت میں دکھاتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ویڈیو چلانے کے لئےآلات منگواتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی۔












