ستائیس مارچ کو ایک سعودی عدالت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی مقید خواتین کے مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ یہ خواتین گزشتہ آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں۔

ان خواتین میں انسانی حقوق کی کارکن لجین الھذلول، یونیورسٹی پروفیسر ھتون الفاسی اور بلاگر ایمان النفجان نمایاں ہیں۔ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ان خواتین کو سعودی سائبر قوانین کے تحت پانچ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ عدالت میں غیر ملکی صحافیوں اور سفارت کاروں کا داخلہ ممنوع رکھا گیا ہے۔

مغربی اقوام ان خواتین کی گرفتاریوں کے تناظر میں سعودی عرب پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اِن کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY