پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی ویب سائٹ پر شائع کردہ فارم 45 کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پی پی پی کی جانب سے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آرٹی ایس) کی ’ناکامی‘ سے متعلق تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

واضح رہے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے آر ٹی ایس بنایا جسے 25 جولائی کے انتخابات میں استعمال کیا گیا۔

پی پی پی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے نادرا پر ’سسٹم میں چھڑ چھاڑ‘ کا الزام نئے حالات اختیار کر گئے، متعلقہ اتھارٹی خود مسترد کررہی اس لیے فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ آرٹی ایس کا تنازع حل نہیں کیا گیا تو مسائل جنم لیں گے اور بحران پیدا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں اور اب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ان کے جوابات دینا پڑیں گے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’کیا یہ حقیقت نہیں کہ ای سی پی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جانے والے فارم 45 پر پزیز ائیڈنگ افسر کے دستخط موجود نہیں ہیں جو ایک قانونی تقاضہ ہے اور اگر ایسا ہے تو کیوں؟، یہ ٹھیک ہے کہ 90 فیصد فارم 45 میں پولنگ ایجنڈوں کے دستخط نہیں جو ایک قانونی تقاضہ ہے‘۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ اپوزیشن جاننا چاہتی ہے کہ ’قانون کے خلاف قطعی ورزی کا ذمہ دار کون ہے‘۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت نے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ہے ۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ’سسٹم میں چھڑ چھاڑ‘ میں نادرا کے اعلیٰ افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی لیکن ’نادرا نے جان بوجھ کر نتائج کی ترسیل میں تاخیر برتی‘۔

کانفرنس کے ایک گھنٹے بعد ہی نادرا نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے پیش کردہ خیال ٹھیک نہیں اور آر ٹی ایس مکمل طور پر فعال تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY