پاکستان کے 13ویں صدر کا انتخاب: پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

0
47

ملک کے 13ویں صدر کے انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا جس میں سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، تاہم ابھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

انتخاب میں ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر جبکہ ملک کے پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ طور پر جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا جہاں اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

پارلیمنٹ میں سسی پلیجو اعتزاز احسن اور شاہدہ اختر مولانا فضل الرحمٰن کی پولنگ ایجنٹس مقرر کی گئیں، جبکہ پولنگ عملے نے انہی کی موجودگی میں انتخابی مواد کھولا اور بیلٹ پیپرز دکھائے۔

دیگر اراکین کی طرح وزیرِاعظم عمران خان بھی صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

سندھ اسمبلی میں نتائج سب سے پہلے سامنے آئے جہاں 158 ووٹ ڈالے گئے جس میں پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کو 100 وٹ ملے، تحریک انصاف کے عارف علوی کو 56 ووٹ ملے اور مولانا فضل الرحمٰن کو ایک ووٹ مل سکا جبکہ ایک ووٹ مسترد ہوگیا۔

بلوچستان اسمبلی میں کل 61 ووٹ ڈالے گئے جس میں پی ٹی آئی کے عارف علوی کو 45 ووٹ حاصل ہوئے، مولانا فضل الرحمٰن کو 15 ووٹ ملے اور ایک ووٹ مسترد ہوا، جبکہ اس ایوان میں اعتزاز احسن کو ایک بھی ووٹ نہیں مل سکا۔

……………

پاکستان کے تیرہویں صدر کے انتخاب کے لئے سینیٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ  جاری ہے، سندھ اور پنجاب اسمبلی میں پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی۔

صدارتی انتخاب کے لئےایک ہزار ایک سو اکیس ووٹر شام چار بجے تک خفیہ رائے شماری کے تحت اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ ووٹ ڈالتے وقت موبائل فون ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے تین امیدوار میدان میں ہیں اور بیلٹ پیپر پر پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کا نام پہلے نمبر پر موجود ہے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی دوسرے اور 5 اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمان کا نام تیسرے نمبر پر درج ہے۔

ذرائع کے مطابق شاہدہ اخترعلی صدارتی امیدوارمولانا فضل الرحمان کے ،عمران خٹک صدارتی امیدوارڈاکڑ عارف علوی کےاور سسی پلیجو صدارتی امیدواراعتزاز احسن کی پولنگ ایجنٹ مقرر کئے گئے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرنگ آفیسر ہیں جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور سینیٹ و قومی اسمبلی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں پولنگ کا آغاز ہوا جب کہ بلوچستان اسمبلی میں بھی چیف جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر کی نگرانی میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔

پولنگ کا عمل مکمل ہونے پر پریذائڈنگ افسران پول ووٹ کی تفصیلات کا اعلان کریں گے اور حتمی نتیجے کا اعلان چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خود کریں گے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 10 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک جاری رہے گی اور ووٹنگ کے لیے اراکین کو قومی اسمبلی کا کارڈ ساتھ لانا لازمی ہوگا۔

صدارتی الیکشن میں قومی اسمبلی ، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ایک ووٹ ہے،صدر کے الیکٹورل کالج میں ہر صوبائی اسمبلی کے ووٹ 65 ،، 65 ہیں ۔ الیکٹورل ووٹس کی مجموعی تعداد 706 بنتی ہے ،زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار صدر منتخب ہوجائے گا ۔

صدارتی انتخاب کا طریقہ کار

آئین کے آرٹیکل 41 کی شق 3 کےتحت پارلیمان، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔

104 سینیٹرز، قومی اسمبلی کے 342 اور صوبائی اسمبلی کے 260 ممبران سمیت 706 قانون ساز پاکستان کے تیرہویں صدر کا انتخاب کریں گے۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں کو یکساں 65 ووٹ دیے جاتے ہیں تاکہ سب کی نمائندگی برابر رہے۔

صدارتی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عارف علوی کو پنجاب اسمبلی کے 188، قومی اسمبلی کے 176 امیدواروں ووٹ دیں گے ۔ اسی طرح مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار فضل الرحمٰن کو سب سے زیادہ پنجاب اسمبلی کے 159 اراکین اور پھر قومی اسمبلی کے96 اراکین کے ووٹ مل سکیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو سب سے زیادہ سندھ اسمبلی سے ووٹ ملیں گے جہاں پی پی پی کے امیدواروں کی تعداد 97 ہے۔

آئین میں درج فارمولے کے تحت پنجاب کے 188 امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد 32.98 بنتی ہے جو کہ عارف علوی کو ملیں گے۔ قومی اسمبلی کے 176 اور بلوچستان کے 42 ووٹ ملا کر عارف علوی کی سبقت دلوانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان کو ووٹ دینے والے اراکین کی مجموعی تعداد 343 ہے اس لیے فارمولے کے تحت ایڈجسمنٹ کے بعد کل ووٹوں کی تعداد 199 بنتی ہے۔ جب کہ اعتزاز احسن کے پاس صرف 115 ووٹ ہیں۔

عارف علوی کو سب سے زیادہ ان کی اپنی جماعت کے 279 اراکین کے ووٹ ملیں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایم کیو ایم کے 32 اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے 29 اراکین کی بھی حمایت حاصل ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو سب سے زیادہ مسلم لیگ ن کے 279 اراکین کی حمایت دستیاب ہے جب کہ اعتزاز احسن کو صرف اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے 183 اراکین ووٹ کریں گے۔

لیکن آئینی فارمولے کے تحت اپنی جماعت کے بعد عارف علوی کی جیت میں باپ کے 29 ووٹ انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ عارف علوی کے حق میں ایم کیو ایم کے 32 اراکین کے ووٹوں کی تعداد فارمولے کے تحت19 اعشاریہ 75 بنتی ہے۔

اس طرح عارف علوی کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 337 بنتی ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان کے ووٹ کی تعداد 199 اور اعتزاز احسن کی 11 ہے۔

صدارتی الیکشن میں اپوزیشن جماعتیں تقسیم کا شکار

وزیراعظم کے انتخاب کے بعد صدارتی الیکشن میں بھی اپوزیشن جماعتیں تقسیم کا شکار ہیں،پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کے مقابلے میں مسلم لیگ نون اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان صدارتی امیدوار ہیں۔ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے عارف علوی کے لیے ایوان صدر کا راستہ ہوگیا آسان ہو گیا۔

صدارتی انتخاب سے قبل عارف علوی کا کہنا تھا کہ وہ بھاری اکثریت سے جیتیں گے، کسی ایک سیاسی جماعت نہیں، پورے پاکستان کے صدر ہوں گے۔کامیابی کےبعد آئین کےدائرہ کارمیں مسائل کےحل کیلیے بھرپور کوشش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ کامیابی کے بعد آئین کےدائرہ کار میں مسائل کےحل کیلیے بھرپور کوشش کروں گا، ملکی ترقی کے لیے حکومت اگلے چند برس کے دوران شارٹ ٹرم ،مڈٹرم اور لانگ ٹرم اقدامات کرے گی۔

,,,,,,,,,,,,

ملک کے 13ویں صدر کے انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع کیا جاچکا ہے جس کی تیاریاں کل ہی مکمل کر لی گئیں تھی

صدارتی انتخاب میں سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

انتخاب میں ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر جبکہ ملک کے پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پانچوں پریزائیڈنگ افسران کو رائے دہندگان کی فہرستیں فراہم کی گئیں، جبکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کر کے بیلٹ پیپرز بھی پہنچادیے گئے۔

خیال رہے کہ تمام ایوانوں میں اراکین کی کل تعداد 11 سو 74 ہے تاہم کچھ حلقوں میں انتخابات ملتوی ہونے یا حلف نہ لینے کی وجہ سے صرف 11 سو 21 ارکین حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔

آئندہ 5 سال کے لیے صدرِ مملکت کے انتخاب کا عمل آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت عمل میں لایا جائے گا، جبکہ صدارتی امیدوار کی کم سے کم عمر 45 سال ہونا بھی ضروری ہے۔

بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں موجودہ ووٹوں کی تعداد 62 ہے، 124 رکنی خیبر پختونخوا اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 112 ہے۔

اسی طرح 168 رکنی سندھ اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 163 جبکہ 371 رکنی پنجاب اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 354 ہے۔

قومی اسمبلی اور سینٹ کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے باہر رائے دہندگان کے لیے ہدایت نامہ بھی آویزاں کردیا گیا ہے جبکہ اراکینِ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اپنا ووٹ ڈالیں سکیں گے۔

صدارتی امیدواروں کی صورتحال
صدارتی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی کو نامزد کیا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر تقسیم کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سینئر رہنما اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو منانے کی کوششیں کیں، تاہم دونوں ہی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

مزید پڑھیں: صدارتی انتخاب:عارف علوی کو بی اے پی،جے ڈبلیو پی،ایچ ڈی پی کی حمایت حاصل

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل نے صدر کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے پی ٹی آئی کے وفد سے ملاقات میں یقین دہائی کرائی ہے کہ ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی کی حمایت کرے گی۔

واضح رہے کہ ملک کے 12ویں صدر مملکت ممنون حسین کے عہدے کی میعاد رواں ماہ 9 ستمبر کو ختم ہورہی ہے تاہم نئے صدر کے لیے انتخاب 4 سمتبر کو منعقد کیے جارہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY