اسلام اور والدین کے حقوق۔(51)۔۔۔ شمس جیلانی

0
157

ہم گزشتہ مضمون میں والدین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے یہاں تک پہونچے تھے۔ حضور (ص) نے ایک بیٹے کی شکایت پر فرمایا کہ“ تیری ہر چیز تیری باپ کی ہے اور تو بھی اسی کا ہے “ یہاں یہ بات ہر ایک کو اپنے ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ حکم صرف مسلمان والدین اور مسلمان اولاد کے لیے ہے۔ جبکہ اگر وہ غیر مسلم ہوں تو بھی ان کے ساتھ سلوک کر نے کاحکم تو ہے مگر دوسری مراعات انہیں حاصل نہیں ہیں؟ مثلاً غیر مسلم کے لیے نہ دعا کرنے کا حکم ہے نہ بیٹے کے مال پر متصرف ہونے کی اجازت ہے ، نہ بیٹے کےترکہ میں باپ یا ماں حقدار ہے۔ نہ ہی ا ن کی اولاد وراثت کی مالک ہے۔ یہاں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ اگر والدین مسلمان ہیں تو وہ اپنے حقوق کی حدود بھی جانتے ہونگے اور بیٹے کی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوق کو بھی جانتے ہوں جو بیٹے پر ہیں؟ اور یہ بھی جانتے ہونگے کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اس صورت میں ہر ایک اپنے حدود میں رہے گا اورکوئی بھی کام کرتے وقت بے انصافی نہیں کریگا؟ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ ہمارے یہاں یہ روش عام ہے کہ ذراسی بات ہوئی اور ماں باپ نے حکم دیدیا کہ بیوی کو طلاق دیدو ورنہ میں تمہیں اپنی جائداد میں سے کچھ نہیں دونگا؟ یاماں کہدیتی ہے کہ میں تیری شکل نہیں دیکھونگی تیرا دودھ نہیں بخشونگی۔ یہاں والدین یہ بالکل خیال نہیں کرتے کہ بیٹے نے بھی ایک معاہدہ اسی اللہ کے نام پر جس نے ان کے حقوق بیٹے پر متعین کیئے ہیں اس کااپنی بیوی سے بھی سے ایک معاہدہ کیا ہوا ہے جس کا وہ پابند ہے۔ یعنی وہ بھی بیوی کو بچوں کو نان و نفقہ رہائش وغیرہ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے اور انہیں قوانیں تحت جن کے تحت والدین کو اس پر حقوق حاصل ہیں بیوی کو بھی حاصل ہیں۔ جبکہ ا سلام میں بیوی کو طلاق دینے کی بدرجہ مجبوری اجازت ہے جبکہ کسی کوبد قسمتی سے بیوی یاشوہر ایسا مل جا ئے جس سے کسی حالت میں نباہ نہ ہوسکے پھر بھی اس کے بہت سے مراحل اللہ سبحانہ تعالیٰ نے درمیان میں رکھے ہیں جس میں صلح کے مواقع فراہم فرما ئے ہیں، اگر وہ سب اور ثالث وغیرہ بھی ناکام ہو جائیں؟ تب کہیں جا کر با کراہیت طلاق دینے کی اجازت ہے پھر بھی پورے حسنِ سلوک کے ساتھ؟ جبکہ ہمارے یہاں جہالت نے اسے کھیل بنا یا ہوا؟میرے کہنے کا مقصد ہے کہ جہاں لوگ اپنے حقوق جتائیں وہیں ایمانداری سے دوسرے افراد کے جو حقوق ہیں ا ن کو بھی مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے معاملات طے کریں ۔ یہاں پر وہ مشہور حدیث رہنما ہے کہ“ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی چاہو “ یعنی جب کچھ لے رہے ہوں تو کم لیں اور کسی کو دے رہے ہوں تو ترازو کاپلڑا س کی طرف جھکا رکھیں ۔ اگر سب لوگ اس کا خیال رکھیں تو زندگی انشا اللہ بہت اچھی گزرے گی ۔ خرابی وہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہر ایک اپنے حقوق جتاتا ہے لیکن دوسروں کے حقوق بھول جا تاہے۔ بے انصافی ایک برائی ہے جس سے تمام برا ئیاں جنم لیتی ہیں ۔ باپ بیٹے کا دشمن ہوجاتا ہے ، بھائی بھائی کا دشمن ہوجاتا ہے۔ ماں بیٹے کی دشمن ہو جاتی ہے اور بیٹاماں کا؟
دوسرے جو ایک چیز ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔ وہ ہے یتیموں کے ساتھ نا انصافی؟ کوئی شخص بچے چھوٹے چھوڑ جا ئے تو بڑے قابض ہو جا تے ہیں؟جب کہ ایک مشہور حدیث ہے جو کہ ابنِ کثیر ؒ انہیں آیت کی تفسیر میں لا ئے ہیں ۔ جس کسی نے باپ کی(بھائی بہن) اولاد کو اچھی طرح پرورش کرکے جوانی تک پہنچا دیا تو اس کے بدلے میں پرورش کرنے والے کا ایک ایک پور تک جنت میں میں جائے گا؟ جب کہ قرآن میں آیات ہے کہ “مالِ یتیم قریب بھی مت جا ؤ اور جب وہ جوان ہو جا ئے اس کے حوالے کردو؟ اسے بڑھانے کی کوشش کرو گھٹانے کی نہیں البتہ کوئی ضرورت مند ہے تو وہ اپنے گزارے کی حد تک اس میں لے سکتا ہے۔ ورنہ نہیں۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث ہیں ۔ جن میں ایک بہت مشہور حدیث ہے جوکہ مختلف حدیث کی کتابوں میں مختلف وعید کے ساتھ بیان ہو ئی ہے کہ حضور (ص) ایک دن منبر پر تشریف فرما تھے کہ آپ (ص)نے تین آمین فرمایا ۔صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یہ کیا ماجرا تھا؟ فر ما یا جبرئیل (ع) میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا کہ“ جس کے سامنے آپ کانام آیا اور اس نے درود نہیں پڑھی وہ ہلاک ہوا “ میں(ص) نے کہا آمین، پھر انہوں کہا کہ “ جس نے ماں اور باپ یا دونوں میں سے ایک پایا اور ان کے ذریعہ اس نے اپنی مغفرت نہیں کرالی تو وہ ہلاک ہوا“ میں(ص) نے کہا آمین اور تیسرے یہ کہ “جس نے رمضان کا آخری عشرہ گزار دیا اور جہنم سے نجات حاصل نہیں کی وہ ہلاک ہوا“ میں (ص) نے آمین کہا۔(باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY