اقوام متحدہ کی عالمی فوجداری عدالت کے ججوں نے واضح کیا ہے کہ میانمار سے روہنگیا مہاجرین کی جبری ملک بدری عدالتی دائرہ اختیار میں ہے اور وہ اس دوران اٹھنے والے الزامات کی تفتیش کا حکم جاری کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے امکان پیدا ہوا ہے کہ عدالتی تفتیش کار روہنگیا مہاجرین کے خلاف ہونے والے جرائم کی تفتیش اور اُس کے نتیجے میں ذمے دار افراد کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کو یہ دیکھنا ہے کہ ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ایک جامع تفتیش کا حکم سنایا جائے اور اس تفتیشی عمل کو معینہ وقت میں مکمل کرنا بھی ضروری ہو گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY