جدید مرثیے کا بانی جوش ملیح آبادی
حضرت امام حسین (ع) نے جو تاریخی کردار ادا کیا، اس سے رُشد و ہدایت اور رہنمائی لیتے ہوئے کائنات کا ہر ذی شعور چاہے اس کا تعلق کسی بھی مکتب، مذہب، فرقہ، مملکت اور ثقافت سے ہو متاثر نظر آتا ہے۔لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ دانشور حضرات نے اس واقعہ کو اپنی تحریروں، مقالوں اور کتب کی صورت میں نہایت خوبصورت انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے، صاحبان علم و منبر نے اسے خطابت کے جوہر دکھانے اور لوگوں کی فکر و شعور کی گتھیاں سلجھانے کا کام لیا ہے۔ آزادی و حریت کی جدوجہد کرنے والے گروہوں نے اسے اپنے لیے ایک نمونہ اور مثال قرار دیتے ہوئے استبدادی و استعماری حکمرانوں کے خلاف اپنی انقلابی جدوجہد کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ 61 ہجری میدان کربلا کے گرم ریگزار پر پیش آنے والے اس عظیم واقعہ کو جہاں دیگر طبقات، گروہوں اور شخصیات نے اپنا موضوع سخن قرار دیا، وہاں ادب و آہنگ سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بھی اسے اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔شاعروں نے اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر نوحے، مرثیے، غزلیں، نظمیں اور سلام و سرور لکھے اور خوش گلو حضرات نے اسے عقیدت و محبت سے پیش کرکے داد تحسین وصول کی، یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے مختلف ممالک کے بہت سے لوگوں کو شہرت و عزت کی بلندیوں پر دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ ان لوگوں نے “کربلا” کے حوالے سے اپنی مہارت، عقیدت و محبت اور رغبت و لگاؤ کے اظہار سے نام کمایا اور زندہ کرداروں میں شامل ہوگئے۔
اور وہ لوگ جو مذہباً، عقیدتاً مسلمان نہ تھے انہوں نے بھی مرثیے لکھے اور بڑی شان سے لکھے۔ تقریباً پانچ سو مرثیہ نگاروں میں سو مرثیہ نگار غیرمسلم ہیں۔ ان میں سیوا، کشن پرشاد شاد، الفت رائے الفت، کنورسین مضطر، مہاراجہ کلیان سنگھ، مکھن لال مکھن، راجہ بلوان سنگھ والی بنارس، روپ کماری، یا منی لال جوان، چھنولال دلگیر اور ڈاکٹر بتھونی لال وحشی مظفر پوری کے نام نامی ہیں۔
اس کے بعد مرثیہ کو نکھارنے کے لئے عظیم آبادی،جمیلؔ مظہری،سید آلِ رضا ؔ ،شاہدؔ نقوی،امید فاضلیؔ ،نسیمؔ امروہوی،پیام ؔ اعظمی،مہدیؔ نظمی،نجم ؔ آفندی اور وحید اخترؔ کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اودھ کی تہذیب نے ہندوستان کی تہذیب سے اس کو ہم آہنگ کیا اور یہ ہندوستانی عوام میں مقبول ہوگیا
جدید اُردو مرثیہ کو جو ش ملیح آبادی نے ایک نئی صنف کی حیثیت عطا کی ۔مرثیے کو جب تک لوگ ایک صنف مانتے تھے اور مراد کربلائی مرثیہ لیتے تھے اور جس کا سارا دارو مدارواقعہ کربلا کے بیانیہ پہلو پر تھا ۔ایسے میں جوش کا علامتی اندازاورسیاسی ماحول بلکل نیا نیا سا لگنے لگا اور روایتی مرثیے میں اِس رنگ کو جگہ نہیں دی گئی ۔بعد میں نا قدوں کے محاسبے نے سمجھایا کہ اِس کا بھی تعلق واقعہ کربلا سے ہے اور اصل کربلا کا مرثیہ یہی ہے ۔اوریہی پیغامِ کربلا ہے ۔اسی موضوع کی جدید مرثیے نے رثائی اسلوب میں اپنی الگ صنفی پہچان بنائی بعد میں اک کارواں اِس مقصد میں چل پڑا۔
جوش ملیح آبادی کی جدت فکر نے
’جدید مرثیے‘ کو صنف کی حیثیت عطا کی۔ واقع
جوش ملیح آبادی کی جدت فکر نے
کے پیغامات کا احساس شاعروں اور فنکاروں کو تھا، لیکن منتشر خیال کی صورت میں تھا۔
کے پیغامات کا احساس شاعروں اور فنکاروں کو تھا، لیکن منتشر خیال کی صورت میں تھا۔
لکھنو میں مرثیہ نگاری کے پانچویں دور کو جدید مرثیہ گوئی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے اور جدید مرثیہ گوئی کا موجد مرزا اوج کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ پھر 1918 ء میں جوش ملیح آبادی نے ”آواز حق“ کے نام سے مرثیہ لکھ کر مرثیے کی دنیا میں ایک نئی اور انقلابی جہت متعارف کرائی۔ بعد ازاں 1944ء میں جوش نے ”حسین اور انقلاب“ نامی مرثیہ لکھ کر مرثیہ کے روایتی اسلوب کو نئی جدتوں اور جہتوں سے مزین کر دیا۔ جوش کے مرثیے ”حسین (ع) اور انقلاب“ کا ایک بند نمونہ کے طور پر ملاحظہ فرمائیے۔
پھر آفتاب ِحق ہے لبِ بام اے حسین
پھر بزم ِ آب وگل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین
پھر حریت ہے موردِ الزام اے حسین
ذوقِ فساد و ولولہ شر لئے ہوئے
پھر عصرِ نو کے شمر ہیں خنجر لئے ہوئے
جوش کو زبان پر زبردست قدرت حاصل تھی، اس لیے مراثی میں بھی ان کا فن عروج پر نظر آتا ہے۔ یو ں تو جوش نے کئی مراثی لکھے ہیں لیکن ان کا مرثیہ ”حسین اور انقلاب“ ایک الگ انداز کا مرثیہ ہے۔ مراثی کا مقصد غمِ حسین میں ماتم کرنا ہو تا ہے، لیکن شہادت حسین کو جوش نے نئے معانی ا ور نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ وہ آہ و بکا کی تلقین نہیں کرتے کیوں کہ ان کے خیال میں امام عالی مقام کی شہادت نے اسلام اور انسانیت کو جو سربلندی عطا کی ہے وہ سر بلندی ہی اس شہادت کا ماحصل ہے۔
کربلا اور اس کے دکھ و غم اور مصائب پر لکھے جانے والے کلام چاہے وہ سلام ہو، غزل ہو، نوحہ ہو، مرثیہ ہو یا سرود و ترانہ ہو، اسے رثائی ادب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اردو ادب کی یہ صنف اب صرف “کربلا” اور اس کے کرداروں و استعاروں تک مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔ میر انیس سے لے کر حضرت جوش ملیح آبادی تک اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال سے لے کر فیض احمد فیض تک سب کے سب کربلا سے متمسک و متاثر نظر آتے ہیں۔ موجودہ دور کے شاعر حضرات بھی اپنی اپنی بساط اور عقیدت کے مطابق کربلا کے مختلف پہلوؤں کو موضوع سخن بنا رہے ہیں۔ان ہی میں ایک نام جوش ملیح آباد ی کا ہے جن کے مرثیے آج بھی دھوم مچا رہے ہیں وقت کے یزید کو لککار رہے ہیں ۔
لفظ مرثیہ خود عربی کلمہ “رثا” سے ماخوذ ہے جس کا لغوی مطلب میت پر رونا ہے اور ادبی اصطلاح میں جو اردو زبان میں بالخصوص رائج ہے مرثیہ سے مراد وہ صنفِ شعر ہے جس میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خاندان اور اصحاب و انصار کے مصائب بیان کئے جاتے ہیں۔ یہاں پر یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ اردو کے نامی گرامی شعراء نے مختلف لوگوں کے لئے مرثیے لکھے ہیں لیکن اس کے باوجود اردو میں مرثیے کو پذیرائی صرف اور صرف امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہونے کے باعث ملی ہے۔
شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے صرف کوشش کی جاسکتی ہے کیونکہ کسی بھی زبان میں اتنے بلند پایاں الفاظ موجود نہیں جو اہلِ بیت کی مدح سرائی یا ان کے کرب کو بیان کرنے کا حق ادا کر سکیں تاہم عزادار مرثیہ خوانی کر کے اظہار غم کرتے ہیں ۔ مرثیہ گوئی اور مرثیہ خوانی کی بنیاد سب سے پہلے عرب میں ہی رکھی گئی جو اب دنیا بھر میں عام ہوگئی ہے۔
جدید مرثیے کا آغاز جوش ملیح آبادی سے کیا جاتا ہے۔ جوش نے یہ جدت اختیار کی کہ موضوعاتی یا عنواناتی مرثیے لکھے قیام پاکستان کے بعد آزاد نظم کی صورت میں بھی کچھ مرثیے کہے گئے،
یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ مرثیے کا اصل موضوع ”احتجاج‘’ ہے۔ ملوکیت کے خلاف ہی آواز بلند کرنے پر واقعہ کربلا معرض وجود میں آیا تھا ۔
لہٰذا دورجدید کے مرثیہ نگاروں نے اپنے وقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مرثیے میں جو تہذیبی و اخلاقی آواز بلند کی اسے کوئی اور صنف کہہ کر نکالا نہیں دیاجاسکتا۔
جوش ملیح آبادی کے مرثیوں پر نظر کی جائے تو مرثیے کی ایک نئی صنف سے آشنائی ہوتی ہے – جوش کو اردو زبان پر کمال حاصل ہے جس کا ثبوت ان کے مرثیوں میں اردو زبان کے وہ اعلیٰ پیچ و خم ہیں جو کسی شاعر کے ہاں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں – جوش کے مرثیوں میں کمال یہ ہے کہ جوش نے نے مرثیے کی زمین کو بالکل ہی تبدیل کر ڈالا ہے اور مرثیے کو انقلاب کا ہتھیار بنایا ہے – یہ جوش ہی کا کمال تھا کہ انہوں نے مرثیے کی انقلابی صنف کو متعارف کروایا-
مگر جوش نے آوازہ حق کے بعد ’’ذاکر سے خطاب’‘ میں بھی ایک نیا رنگ دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے مرثیے ’’حسین اور انقلاب’‘ سے جدید مرثیہ گوئی کا آغاز ہوتا ہے۔
اب مرثیے کے اجزائے ترکیبی اور رثائیت سے زیادہ پیغام حسینی کی معنویت پر زور دیا جانے لگا۔جوش کی شاعری کے پورے مزاج کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کا مندرجہ ذیل شعر پڑھیں تو ان کے مرثیوں کے شعری آہنگ اور شعری مزاج کو سمجھنا آسان ہو گا :
زندگی ہے سر بسر آتش فشانی ! یا حسین
آگ دنیا میں لگی ہے، آگ ! پانی ! یا حسین
اردو مرثیہ جس کا نقطہ آغاز سولہویں صدی میں حضرت شاہ اشرف تھے، ارتقائی منازل طئے کرتے ہوئے جب بیسویں صدی میں داخل ہوا تو اسے جوش ملیح آبادی جیسے قدر آور شاعر کی تعمیر کردہ روایات ملی تھیں۔ انہیں روایات کی بنیاد پر دور حاضر میں بھی مرثیے لکھے جا رہے ہیں۔ اس عہد میں بھی (یعنی جوش کے فوراً بعد کے زمانے میں ) سب سے اہم نام آل رضا کا ہے۔ جوش نے انہیں جدید مرثیے کا بانی قرار دیا ہے۔
انیس کے بعد صرف ایک ہی قابل ذکر مرثیہ نگار جوش کی شکل میں سامنے آیا جس نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی جوش نے مرثیہ کو نئی سمت سے ضرور متعارف کرایا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ جوش کے بعد کی نسل مسلسل تجربے کرتی رہی۔
جوشؔ کی مرثیہ نگاری کا دوسرا دور اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دور میں دیگر شاعرانہ قوتو ں سے قطعِ نظر ان کی مرثیہ نگاری اپنے ارتقا کی طرف گامزن رہی۔ انھون نے پہلا مرثیہ’’ آوزاۂ حق‘‘ ۱۹۲۰ء میں کہا اور دوسرا مرثیہ’’ حسین ؑ اور انقلاب ‘‘پہلے مرثیے کی تصنیف کے اکیس سال بعد ۱۹۴۱ء میں لکھنو میں کہا ۔ ۱۹۵۶ء میں وہ پاکستان کے شہری بھی ہوگئے اورُ اسی سال انھوں نے کراچی میں تیسرا مرثیہ’’ موجد و مفکر‘‘لکھا یہ تیسرا مرثیہ دوسرے مرثیے ’’حسین اور انقلاب ‘‘کے پندرہ سال بعد کی تخلیق ہے اور پھر ۱۹۵۶ء سے ۱۹۷۱ء تک یعنی پندرہ برسوں میں انھوں نے متعد د مرثیے کہے۔اس چوتھے دور کا اختتام ۱۹۷۶ ء کو اس لیے قرار دیاگیا کہ اس سال وہ وفاداری کے موضوع پر ایک مرثیہ شروع کر چکے تھے جو نامکمل رہ گیاتھا۔جوش کی مرثیہ نگاری کی ابتدا کلاسیکی انداز میں ہوئی تھی۔’’آوازہ حق‘‘ میں مرثیہ نگاری کے تمام کلاسیکی عناصر موجود ہیں۔ چہرا ،سراپا، رخصت آمد، رجز، واقعاتِ جنگ ، شہادت ،بین اورآخر میں قوم کی پست حالی کے خاتمے کے لیے حضرت امام حسینؑ سے امداد کی درخواست ہے لیکن حسین اور انقلاب میں جوشؔ نے مرثیے کے کلاسیکی اجزا سے رو گردانی بھی کی اور وہ اس مرثیے کے ساتھ جدید مرثیے کے بنیادگزاروں میں شامل ہوگئے۔
وہ کربلا کی رات وہ ظلمت ڈراؤنی
وہ مرگِ بے پناہ کے سائے میں زندگی
خیموں کے گرد و پیش و پُر ہول خامشی
خاموشیوں میں دُور سے وہ چاپ موت کی
تھی پشتِ وقت بارِ الم سے چُھکی ہوئی
ارض و سما کی سانس تھی گویا رُکی ہوئی
فہرست میں ایک نام تھا جو سب سے جلی تھا
مُژدہ ہو کہ وہ نام حسین ؑ اِبنِ علیؑ تھا
جو شؔ نے اس مرثیے میں جس موضوع پر طبع آزمائی کی ہے وہ انسانی کشمکش سے متعلق ہے۔ انسان اپنی زندگی میں سُودو زیاں، وہم ویقیں، ظلمتِ و نور کی کشمکش میں اُلجھا رہتا ہے اور اس داروگیر میں صرف کردار کیاستیقامت و ہمت ہی کے ذریعے سرخ روئی حاصل کرسکتا ہے۔امامِ حسین ؑ نے شمشیر کے سائے میں نعرۂ حق بلند کیا اور اپنی جان دے دی یہی ہمارے شاعر کا موضوع ِ سخن ہے۔جوشؔ اپنے اولین مرثیے میں مسدس کی اُسی ہیئت کے اسیر نظر آتے ہیں جسے میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ نے آسمان پر پہنچا دیا تھا ۔جوش سے پہلے غالبؔ جیسے بڑے شاعر نے بھی مرثیہ نگاری میں قدم رکھ کریہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ میدان میر انیس اور مرزا دبیر ہی کو سجتا ہے ۔غالبؔ نے ایک مرثیہ لکھا وہ خاصا مایوس کن تھاشاید اسی لیے اس نے مرثیے کا میدان چھوڑدیا۔جو شؔ نے اپنے انقلابی دورِ مرثیہ نگاری میں مرثیے کو جد ی نہج پر اس لییڈالا تھا کہ اس میں فکری شاعری کی گنجائش وسیع ہوسکے اس مقصد میں وہ کامیاب رہے ۔
اُن کی مراثی کا خاص جوہر تشبیہات و استعارات ہیں، ان کا کلام خیال آفرینی ، دقت پسندی ، جدت پسندی ، جدت ِبیان، شاعرانہ استدلال اور شدتِ مبالغہ میں لاجواب ہے۔ م
(جوش ملیح آبادی کے مرثیے لکھنو ۱۹۸۱ء) لیکن آزادی سے پہلے “آواز حق” کے علاوہ جو ش کا صرف ایک اور مرثیہ “حسین اور انقلاب” ملتا ہے جو ۱۹۴۱ء کی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے انقلابی خیالات کا اظہار اور بھی کھل کر کیاہے اور کئی بندوں میں حسین کو حریت و آزادی کے مظہر کے طور پر پیش کیا ہے۔ چالیسویں بند کی بیت ہے۔عباس نامور کے لہو سے دُھلا ہوااب بھی حسینیت کا علم ہے کھلا ہوا
***اس کے بعد کچھ بند ملاحظہ ہوں۔
یہ صبح انقلاب کی جو آج کل ہے ضویہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو
یہ جو چراغ ظلم کی تھرا رہی ہے لودر پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو
حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستویہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو
پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسینپھر بزم آب وگل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسینپھر حریت ہے مورد الزام اے حسین
ذوق فساد ولولہ شر لیے ہوئےپھر عصر نو کے شمر ہیں خنجر لیے ہوئے
مجروح پھر ہے عدل و مساوات کا شعاراس بیسویں صدی میں ہے پھر طرفہ انتشار
پھر نائب یزید ہیں دنیا کے شہر یارپھر کربلائے نو سے ہے نوع بشر دوچار
اے زندگی جلال شہ مشرقین دےاس تازہ کربلا کو بھی عزم حسین دے
آئین کشمکش سے ہے دنیا کی زیب و زینہرگام ایک بدر “ہر ہو سانس اک “حنین”
بڑھتے رہو یو نہیں پے تسخیر مشرقینسینوں میں بجلیاں ہوں زبانوں پہ “یاحسین”
تم حیدری ہو‘ سینہ اژدر کو پھاڑ دواس خیبر جدید کا در بھی اکھاڑ دو
***
اس مرثیہ کا خاتمہ اس بیت پر ہوا ہے۔
دنیا تری نظیرشہادت لیے ہوئےاب تک کھڑی ہے شمع ہدایت لیے ہوئے
***
جوش ملیح آبادی نے اسی زمانے میں کہاانسان کو بیدار تو ہو لینے دوہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین جوش کے ایک سلام کے یہ شعر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں‘ جس میں عہد نو کی صاف گونج موجود ہے۔محراب کی ہوس ہے نہ منبر کی آرزو ہم کو ہے طبل وپرچم ولشکر کی آرزو
اس آرزو سے میرے لہو میں ہے جزرومدشت بلا میں تھی جو بہتر کی آرزوان مثالوں سے ظاہر ہے کہ جوش رثائی ادب کی کلاسیکی روایت سے جو مذہبی مقصد کے لیے مخصوص تھی‘ سیاسی نوعیت کا کام لے رہے تھے‘ اس پر کچھ اعتراض بھی ہوئے۔ باایں ہمہ اس کا اعتراف بھی کیا گیا کہ “جوش نے مرثیے میں انقلاب اور قومی آزادی کے تصور کو رواج دیا” تاہم رثائی ادب کی اپنی حدود تھیں‘ جن کا احترام مرثیہ گو شعرا کے لیے واجب تھا۔ جوش کی البیلی شخصیت کی بات ہی اور تھی۔ وہ اپنی رومانیت اور بغاوت کی وجہ سے ہر چیز کو نبھالے جاسکتے تھے۔ دوسروں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ جمیل مظہری نے کچھ کوشش کی لیکن ان سے چلا نہیں‘ اور اس کا چلنا ممکن بھی نہیں تھا۔ ان کوششوں کے برعکس‘ اقبال اور محمد علی جوہر نے نظم اور غزل میں کردار حسین کی عظمت کے بلاواسطہ اور بالواسطہ تخلیقی اظہار کی جو راہ دکھائی تھی۔ اس نے آنے والوں کے لیے ایک شاہراہ کھول دی۔ اور بعد کی اردو شاعری میں اس رجحان کا فروغ دراصل انہیں اثرات کے تحت ہوا۔
جوش کا ایک بڑا کارنامہ انکا مرثیہ حسین اور انقلاب ہے جس میں جوش نے مرثیہ کو نے زاویے اور نئی سوچ عطا کی. حسین کو جوش نے ماتم کی علامت و استعارہ نہیں بنایا بلکہ انکے خیال میں شہادت امام عالی مقام نے اسلام اور انسانیت کو جو بلندی عطا کی ہے وہ سر بلندی ہی شہادت کا محاصل ہے.
حسین اور انقلاب 68 بندوں پر مشتمل ہے جس کے آغاز میں وہ دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچتے ہیں….
کربلا کی شب کا معرکہ بھی جوش اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں ان کی تراکیب اور استعارات میں انکی اپنی انفرادیت ہے
بکھرے ہوےء ہوا میں ہیں گیسو رسول کے
تاروں کی روشنی میں وہ آنسو بتول کے
وہ رات جب امام کی گونجی تھی ایک صدا
اے دوستان صادق و یاران با صفا
باقی نہیں رہا ہے کویء اور مرحلہ
اب سامنا ہے موت کا اور صرف موت کا
آنے ہی پر بلایئں ہیں اب تحت و فوق سے
جانا جو چاہتا ہے چلا جاےء شوق سے
شبیر نے حیات کا عنواں بنا دیا
اس رات کو بھی ماہ درخشاں بنا دیا
اک کار ساز ذہن ہے اک کار ساز ذات
سجدوں سے کھینچتا ہے جو مسجود کی طرف
تنہا جو ایک اشارہ ہے معبود کی طرف
جسکی جبیں پہ کج ہے خود اپنے لہو کا تاج
جو مرگ و زندگی کا ہے اک طرفہ امتزاج
سر دیدیا مگر نہ دیا ظلم کو خراج
جس کے لہو نے رکھ لی تمام انبیاء کی لاج…
حسین اور انقلاب ایک ایسا مرثیہ ہے جس میں نہ صرف عزم حسین اور روح انقلاب کار فرما ہے بلکہ جوش نے عزم حسینی کا ذکر کرکے روح عصر کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے
اگے بڑھ کر کہتے ہیں
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
“جوش ایک ایسا چھتنار برگد ہیں ہیں جنکے نیچے ہر صنف ادب کو پناہ ملی چاہے وہ نثر نگار ہوں یا شاعر انشایہء نگار ہوں کہ مضمون نویس… جوش نے ہر ایک لیےء نیےء پیمانے چھوڑ ے ہیں “
جوش ہر لحاظ سے محسن اردو ہیں جنہوں نے ہر حال میں اردو کی پرورش کی اور اسکے دامن کو وہ وسعت دی جس میں جو بھی چاہے لکھا بنا گایا اور پھیلایا جاسکتا ہے
جوش اقبال کے بعد نظم کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔ غزل، نظم اور مرثیہ نگاری میں انہیں کمال حاصل تھا۔ انہوں نے اپنے رسالے’’کلیم‘‘ میں برطانوی راج سے آزادی کے حق میں مضامین لکھے اور بعد ازاں وہ انگریز سے آزادی کے لئے سرگرم ہو گئے۔جوش ملیح آبادی کا نام تعارف کا محتاج نہیں انھوں نے ایک ایسا بند کہا کہ جو ہر دور کے آمر اور جابر پر فٹ بیٹھتا ہے
کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے
کربلا تخت کو تلوووں سے مسل سکتی ہے
کربلا خار تو کیا ، آگ پہ بھی چل سکتی ہے
کربلا وقت کے دھارےکو بدل سکتی ہے
کربلا قلعہ فولاد ہے جراروں کا
کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا
لکھنو میں مرثیہ نگاری کے پانچویں دور کو جدید مرثیہ گوئی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے اور جدید مرثیہ گوئی کا موجد مرزا اوج کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ پھر 1918 ء میں جوش ملیح آبادی نے “آواز حق” کے نام سے مرثیہ لکھ کر مرثیے کی دنیا میں ایک نئی اور انقلابی جہت متعارف کرائی۔ بعد ازاں 1944ء میں جوش نے “حسین اور انقلاب” نامی مرثیہ لکھ کر مرثیہ کے روایتی اسلوب کو نئی جدتوں اور جہتوں سے مزین کر دیا۔ جوش کے مرثیے “حسین (ع) اور انقلاب” کا ایک بند نمونہ کے طور پر ملاحظہ فرمائیے۔
پھر آفتاب ِحق ہے لبِ بام اے حسین
پھر بزم ِ آب وگل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین
پھر حریت ہے موردِ الزام اے حسین
ذوقِ فساد و ولولہ شر لئے ہوئے
پھر عصرِ نو کے شمر ہیں خنجر لئے ہوئے
جوش ملیح آبادی ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے اجتہاد کیا اور مرثیہ کو نئے افکار سے آشنا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایام عزا میں جہاں قدما کے مرثیے کا ذکر آتا ہے، وہیں جوش کا مرثیہ حسین اور انقلاب بھی ضرور پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ جوش جلال او ر جمال کے شاعر ہیں۔ ان کی لفظیات میں جو ولولہ اور آہنگ ہے اس نے جوش کے مرثیے کی فکر کو حدت دی ہے۔در اصل کربلا کے المیہ کا احساس ایسا شدید اور جان لیوا ہے اس کا اندازہ اس شعر سے ہو تا ہے
کہہ دوں تو دل سے خون کا چشمہ ابل پڑے
اور چپ رہوں تو منہ سے کلیجہ نکل پڑے
جو احساس اتنا شدید ہو اور جس کی فکر ایسی جان لیوا ہو اس کے تحت جب مرثیہ لکھا جائے گا تو وہاں جلال و جمال کے تجربات کا در آنا بالکل فطری بات ہے۔
“جوش ملیح آبادی نے کربلا کے واقعات میں اعلیٰ اور افضل اقدار کے حسن پر بھی نظر رکھی ہے اور شخصیتوں کے جلال و جمال کو بھی موضوع بنایا ہے۔ حسین ابن علی کی ذاتِ اعلیٰ اقدار کے حسن کا مرکز ہے۔ نیز ان کا ہر عمل زندگی کے جمال کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ ان کی خدمت میں سلام بھیجتے ہوئے کہتے ہیں
ضمیر اہل وحشت اورذات اہل وحشت کو
بہم پیچیدہ و دست و گریباں کر دیا تو نے
جو دھندلا ہو چلا پہلا ورق منشورِ فطرت کا
تو اپنے خون دل کو زیبِ عنواں کر دیا تو نے
بنا کر شمعِ طور اپنے لہو کے گرم قطروں کو
دیارِ ذہنِ عالم میں چراغاں کر دیا تو نے
بقائے آسماں پر ایک ضیائے نو دمک اٹھی
زمیں پہ چاک جب اپنا گریباں کر دیا تو نے
جوش کو زبان پر زبردست قدر ت حاصل تھی، اس لیے مراثی میں بھی ان کا فن عروج پر نظر آتا ہے۔ یو ں تو جوش نے کئی مراثی لکھے ہیں لیکن ان کا مرثیہ ”حسین اور انقلاب“ ایک الگ انداز کا مرثیہ ہے۔ مراثی کا مقصد غمِ حسین میں ماتم کرنا ہو تا ہے، لیکن شہادت حسین کو جوش نے نئے معانی ا ور نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ وہ آہ و بکا کی تلقین نہیں کرتے کیوں کہ ان کے خیال میں امام عالی مقام کی شہادت نے اسلام اور انسانیت کو جو سربلندی عطا کی ہے وہ سر بلندی ہی اس شہادت کا ماحصل ہے۔ بلکہ جوش تو ایسے شاعر ہیں جو ذاکر پر شدید طنز کرتے ہیں انہوں نے اپنی مشہور نظم ”ذاکر سے خطاب“ پر شدید طنز کرتے ہوئے اسے رونے رلانے کا کاروبار کرنے والا کہا ہے۔ بلکہ اس نظم میں جوش کا لہجہ اس قدر شدید اور تلخ ہو جاتا ہے کہ وہ ذاکر کو ماتم پسند اور افسردہ فطرت انسان جیسے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں جوش اپنا مرثیہ ”حسین اور انقلاب“ پیش کرتے ہیں جو 68بندوں پر مشتمل ہے۔ اس مرثیے کا آغاز حیات کی ناپیداری کے فسانے، آہ وفغاں اور تلخیِ حیات کی ہولناک داستان کے بیان سے ہو تا ہے۔ وہ دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچتے ہیں اور آٹھویں بند تک یہی صورتِ حال ہے۔ نویں بند سے وہ مرثیہ کی تشکیل کرتے ہوئے کہتے ہیں
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے
کچھ کھیل ہے کہ کہنہ حکایات چھوڑ دے
گھٹی میں تھے جو حل وہ خیالات چھوڑ دے
ماں کا مزاج باپ کے عادات چھوڑ دے
کس جی سے کوئی رشتہٴ اوہام چھوڑ دے
ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے
لیکن آخر وہ یارانِ با صفا حضرت امام حسین کے جاں نثار تھے وہ کن الفاظ میں عرض کرتے ہیں
قرباں نہ ہو جو آ پ کے والا صفات پر
لعنت اس امن و عیش پر، تُف اس حیات پر
پتلے ہیں ہم حدید کے، پیکر ہیں سنگ کے
انساں نہیں، پہاڑ ہیں میدانِ جنگ کے
اور اس سیاہ رات کو جوش ملیح آبادی کن الفاظ میں تراشتے ہیں
شبیر نے حیات کا عنواں بنا دیا
اس رات کو بھی ماہِ درخشاں بنا دیا
حسین کو صاحبِ مزاجِ نبوت،وارثِ ضمیرِ رسالت، خلوتی شاہد قدرت، فخر مشیت، آئین جدید کا بانی، کارواں عزم کا رہبر، مینار عظمت، دلیل شرافت اور روح انقلاب کا پروردگار جیسے خطابات سے یادکرتے ہیں۔ ان کے اشعار کی والہانہ ادائیگی اور وارفتگی جوش کے مخصوص لب و لہجہ پر دال ہے
ہاں وہ حسین، جس کا ابد آشنا ثبات
کہتا ہے گاہ گاہ حکیموں سے ہی یہ بات
یعنی درونِ پردہ صدرنگ کائنات
اک کار ساز ذہن ہے اک کار ساز ذات
سجدوں سے کھینچتا ہے جو مسجود کی طرف
تنہا جو اک اشارہ ہے معبود کی طرف
اور اس سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں:
جس کی جبیں پہ کج ہے خود اپنے لہو کا تاج
جو مرگ و زندگی کا ہے اک طرفہ امتزاج
سردے دیا مگر نہ دیا ظلم کو خراج
جس کے لہو نے رکھ لی تمام انبیا کی لاج
سنتا نہ کوئی دہر میں صدق و صفا کی بات
جس مرد سر فروش نے رکھ لی خدا کی بات
حسین اور انقلاب ایک ایسا مرثیہ ہے جس میں نہ صرف عزم حسین اور روح انقلاب کار فرما ہے بلکہ جوش نے عزم حسینی کا ذکر کرکے روح عصر کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔
پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین
پھر بزم آب و گل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین
پھر حریت ہے مورد الزام اے حسین
ذوق فساد و ولولہ شر لیے ہوئے
پھر عصر نو کے شمر ہیں خنجر لیے ہوئے
اور اس سے آگے بڑھ کر مزید ولولہ انگیز انداز میں گویا ہوتے ہیں
مجروح پھر ہے اجر و مساوات کا شعار
اس بیسویں صدی میں پھر طرفہ انتشار
پھر نائب یزید ہیں دنیا کے شہر یار
پھر کربلا ئے نو سے ہے نوع بشر دو چار
اے زندگی جلال شہ مشرقین دے
اس تازہ کربلا کو بھی عزم حسین دے
اور مرثیہ کا اختتام جوش اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہیں
عفریت ظلم کانپ رہا ہے اماں نہ پائے
دیو فساد ہانپ رہا ہے اماں نہ پائے
تلوار شمر عصر کے سینے میں بھونک دو
ہاں جھونک دو یزید کو دوزخ میں جھونک دو
الٹے رہو کچھ اور یوں ہی آستین کو
الٹی ہے آستین تو پلٹ دو زمین کو
اس مرثیہ میں جوش کا نظریہ بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے جو مثبت فکر کی نشاندہی کرتا ہے۔ در اصل جوش حسینت اور یزیدیت کو دو استعاروں کی شکل میں دیکھتے ہیں جن کی ستیزہ کاری ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ حسین علیہ السلام کی ذات ابدی ہے اور وہ کسی مخصوص علاقہ، فرقہ اور ذات تک محدود نہیں ہیں بلکہ عالم انسانیت کے لیے ہیں۔ اسی لیے جوش کہتے ہیں
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
دورِ حاضر میں جوش ملیح آبادی نے مرثیہ کو باطل کے سر پر چمکتی ہوئی شمشیر بنا دیا ۔
اب آج کا شاعر یہ لکھتا ہے کہ امام عالی مقام (ع)کے پیغام حق کو اس لئے کوئی نہیں روک سکتا کہ ایسی زنجیر ایجاد ہی نہیں ہوئی جو پھولوں کی خوشبو کو اسیر کرسکے اور ایسی کوئی شمشیر نہیں ہے جو بجلی کی تڑپ کو کاٹ سکے۔ جوش ملیح آبادی کے کچھ اور اشعار درج کئے جاتے ہیں
تھیں بہتر خونچکاں تیغیں حسینی فوج کی
اور صرف اک سید سجاد کی زنجیر تھی
اتنی تیغوں کی رہی دل میں نہ تیرے یاد بھی
حافظے میں صرف ایک زنجیر باقی رہ گئی
ہے دنیا تیری نظیر شہادت لیئے ہوئے
اب تک کھڑی ہے شمع ہدایت لئے ہوئے
نظیر اے زندگی! جلال شہ مشرقین دے
اس تازہ کربلا کو بھی عزز حسین دے
مختصر یہ کہ اردو کے مستند شاعروں نے دکن سے لیکر دو آبے کے میدان تک اس صنف پر طبع آزمائی کی اور بھرپور شباب کے ساتھ یہ مرثیہ عوام کا ہر دلعزیز بن گیا۔ شعراء میں خاص طور پر قلی قطب شاہؔ ،سوداؔ ،میر تقی میرؔ ،انیسؔ اور دبیرؔ جیسے شاعر وں نے اس صنف کو بامِ عروج تک پہنچایا۔اس کے بعد مرثیہ کو نکھارنے کے لئے جوشؔ ملیح آبادی،شاد ؔ عظیم آبادی،جمیلؔ مظہری،سید آلِ رضا ؔ ،شاہدؔ نقوی،امید فاضلیؔ ،نسیمؔ امروہوی،پیام ؔ اعظمی،مہدیؔ نظمی،نجم ؔ آفندی اور وحید اخترؔ کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اودھ کی تہذیب نے ہندوستان کی تہذیب سے اس کو ہم آہنگ کیا اور یہ عوام میں مقبول ہوگیا
آج کے مرثیے کے دامن میں آج کے زمانے کا غم بھی ہے آج کے لوگوں کے جذبات بھی ہیں آج کے لوگوں کی نفسیات بھی ہے ۔اس میں رثائی عنصر اتنا نہیں جتنا قدیم مرثیہ یا روایتی مرثیہ میں ہوتا تھا لیکن مرثیہ چونکہ امام حسینؑ اور واقعاتِ کربلا سے تعلق رکھتا ہے اس لئے مختلف رنگوں کو سمیٹنے کے باوجود آج کا مرثیہ بھی عظمتِ حسینؑ کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے اور اہلِ درد کی آنکھیں نم کر دیتا ہے‘‘۔وقت کے یزید کی بیعت سے انکار دراصل حسین کا سب سے بڑا مرثیہ ہے ۔
اے جانشین حیدر کرار المدد
اے منچلوں کے قافلہ سالار المدد
اے امر حق کی گرمئ بازار المدد
اے جنس زندگی کے خریدار المدد
دنیا تری نظیر شہادت لئے ہوئے
اب تک کھڑی ہے شمع ہدایت لئے ہوئے
اس میں انہوں نے اپنے انقلابی خیالات کا اظہار اور بھی کھل کر کیاہے اور کئی بندوں میں حسین کو حریت و آزادی کے مظہر کے طور پر پیش کیا ہے۔ چالیسویں بند کی بیت ہے۔
عباس نامور کے لہو سے دُھلا ہوا
اب بھی حسینیت کا علم ہے کھلا ہوا
اس کے بعد کچھ بند ملاحظہ ہوں۔
یہ صبح انقلاب کی جو آج کل ہے ضو
یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو
یہ جو چراغ ظلم کی تھرا رہی ہے لو
در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو
حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو
یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو
پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین
پھر بزم آب وگل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین
پھر حریت ہے مورد الزام اے حسین
ذوق فساد ولولہ شر لیے ہوئے
پھر عصر نو کے شمر ہیں خنجر لیے ہوئے
مجروح پھر ہے عدل و مساوات کا شعار
اس بیسویں صدی میں ہے پھر طرفہ انتشار
پھر نائب یزید ہیں دنیا کے شہر یار
پھر کربلائے نو سے ہے نوع بشر دوچار
اے زندگی جلال شہ مشرقین دے
اس تازہ کربلا کو بھی عزم حسین دے
آئین کشمکش سے ہے دنیا کی زیب و زین
ہرگام ایک بدر ”ہر ہو سانس اک ”حنین”
بڑھتے رہو یو نہیں پے تسخیر مشرقین
سینوں میں بجلیاں ہوں زبانوں پہ ”یاحسین”
تم حیدری ہو‘ سینہ اژدر کو پھاڑ دو
اس خیبر جدید کا در بھی اکھاڑ دو
اس مرثیہ کا خاتمہ اس بیت پر ہوا ہے۔
دنیا تری نظیرشہادت لیے ہوئے
اب تک کھڑی ہے شمع ہدایت لیے ہوئے
اردو مرثیہ خاص طور سے جو موجودہ دور میں لکھا جا رہا ہے بے شک وہ کلاسیکی مرثیے سے بہت مختلف سہی یعنی جیسے روایتی مرثیے میں اجزائے ترکیبی کا خیال رکھا جاتا تھا وہ آج کے مرثیہ میں نہ سہی لیکن آج کا مرثیہ جدید دور کی خوبصورتی کے ساتھ تصویر پیش کرتا ہے ۔آج کے مرثیے کے دامن میں آج کے زمانے کا غم بھی ہے آج کے لوگوں کے جذبات بھی ہیں آج کے لوگوں کی نفسیات بھی ہے ۔اس میں رثائی عنصر اتنا نہیں جتنا قدیم مرثیہ یا روایتی مرثیہ میں ہوتا تھا لیکن مرثیہ چونکہ امام حسینؑ اور واقعاتِ کربلا سے تعلق رکھتا ہے اس لئے مختلف رنگوں کو سمیٹنے کے باوجود آج کا مرثیہ بھی عظمتِ حسینؑ کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے اور اہلِ درد کی آنکھیں نم کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر ہلال نقوی جدید مرثیہ نگاری کے بہت معتبر شاعروں میں شمار ہوتے ہیں ۔ جوش ملیح آبادی کے مرثیے سن کر مرثیہ گوئی کی جانب آئے اور 1970 میں پہلا مرثیہ کہا۔ جب وہ بی اے کے طالبِ علم تھے۔ اور جوش ملیح آبادی سے اصلاح لی ۔ جوش صاحب نے اپنے ایک خط میں ان کو اپنا شاگردِ اولین لکھا ہے ۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر ہلال نقوی نے مرثیہ میں جناب نسیم امروہوی کی بھی شاگردی اختیار کی۔ مرثیئے کے علاوہ انہوں نے غزل ، نظم ، رباعیات اور آزاد نظموں پر بھی طبع آزمائی کی۔ ڈاکٹر ہلال نقوی جوش کی تمام قلمی نگارشات بشمول فنِ مرثیہ کے بہترین ناقدین میں سے ہیں اور وہ اس موضوع پر اب تک چھ کتب لکھ چکے ہیں۔
جوش کے جدید مرثیے کا مفہوم پیغام کربلا کی تشہیر ہے ۔جوش صرف مرثیہ نگاری کا ہی آفتاب نہیں بلکہ نظم اور غزل میں بھی جوش نے اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا۔
منظورہے خدا کو تو پہونچونگا روزِمحشر
چہرہ پہ خاکِ مَل کے درِبوتراب کی
(جوش)
تحریر ۔۔۔آفتاب احمد













