ریڈیو پاکستان کو وزارت اطلاعات کے شاہ دولوں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے،محمد صدیق پراچہ

0
1244

پاکستان اور ۔ریڈیو پاکستان دونوں پر کڑا وقت آن پڑا ہے ۔اخراجات کے تناسب سے مطلوبہ وسائل نہ ملنے کی وجہ سے 2020 میں 1063 کانٹریکٹ ملازمین کو بیک جنبش قلم موقوف کر دیا گیا تھا ۔

میڈیکل کے اخراجات کی ادائی بند کر دی گئی تھی خالی ہونے والی اسامیوں پر نئی تعیناتیوں کا سلسلہ عرصہ پہلے ترک کیا جا چکا تھا گذشتہ تین برس سے اضافی گرانٹ کے طور پر ایک دھیلہ نہیں دیا گیا ۔یوں رواں مالی سال کے آغاز سے ہی مالی بحران سر پہ آن کھڑا تھا ۔جون 2022 کی تنخواہ اور پینشن نہ ملنے کا واویلا وزیر اعظم تک پہنچا تو انہوں نے وزارت خزانہ سے فوری طور پر ادائی کے انتظام کا کہا ۔وزارت خزانہ کے بابووں نے وزیراعظم کو دھوکہ دیتے ہوئے اضافی گرانٹ کے بجائے نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی رقم ریڈیو پاکستان کے حوالے کی اور وزیر اعظم کو سب اچھا کی رپورٹ دے دی۔

اب عملی طور پر ریڈیو پاکستان ستمبر تک دو سہ ماہیوں کی رقم خرچ کر چکا تھا ۔اکتوبر کی تنخواہیں اور پنشن کے لئے کچھ نہیں تھا ۔جو تیسری سہ ماہی کی رقم موصول ہونے پر نصف پنشن اور بغیر ہائرنگ کے تنخواہ کی صورت میں بالترتیب 16 نومبر اور 8 نومبر کو دی گئی تھی ۔

اب نومبر کی تنخواہ اور پنشن ملنے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ریڈیو پاکستان جیسے ادارے کو اس نہج تک پہنچانے کی پوری ذمہ داری وزارت اطلاعات کے ان بزرجمہروں پر عائد ہوتی ہے جو سی ایس ایس میں تمام گروپس کے مقابلے میں کم نمبر لے کر بغل میں ایک نوٹ بک لئے وزراء کے پیچھے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں اور گریڈ 20 میں پہنچ کر ریڈیو پاکستان جیسے ادارے کے مدار المہام بنا دیے جاتے ہیں

انہیں مائیکروفون سٹوڈیو آوٹ سائیڈ براڈکاسٹنگ پروگرام مسودہ صداکاری خبر کی تیاری اور ٹرانسمیٹرز کے بارے میں ککھ معلوم نہیں ہوتا ۔ہر ادارے کی طرح ریڈیو پاکستان میں بھی خوشامدی چمچہ گیر بدرجہ اتم موجود ہیں وہ ہر دو چار دن یا ماہ بعد نئے آنے والے یا والی ڈائریکٹر جنرل کو عقل کل سمجھتے ہوئے اتنے بینڈ باجے بجاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ارسطو اور افلاطون کے ہم پلہ سمجھنے لگتے ہیں۔

حال ہی میں وفاقی محتسب کی طرف سے ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو کموٹیشن کی رقم ادا کرنے کے حکم پر رقم کا انتظام کرنے کے بجائے اس منصفانہ فیصلے کے خلاف شاہ دولہ کے ان چوہوں نے صدر مملکت کو اپیل کر دی ہے ۔

ریڈیو پاکستان کے بہترین ڈائریکٹر جنرلز وہی تھے جن کو ریڈیو پاکستان سے یا ڈی ایم جی گروپ سے جسے اب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کہا جاتا ہے چنا گیا تھا

اب بھی ریڈیو پاکستان کی مشکلات کا پائیدار حل یہی ہے کہ اس کو وزارت اطلاعات کے شاہ دولوں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے اور پی اے ایس کے کسی باذوق افسر کی سربراہی میں دیا جائے

SHARE

LEAVE A REPLY