یہ خوش آئیند ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کم عمری کی شا دی کے خلاف آگاہی مہم چلانے کی سفارش کی ہے
گو کہ حکومت کونسل کی سفارشات من و عن تسلیم کرنے کی پابند نہیں مگر پھر بھی ان کی سفارش ا ہمیت کی حامل ہے، اور حکومت جو فورا قانون سازی کر لینی چائیے، کیونکہ قانون کے بعد بھی دور دراز علاقوں میں آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔کم از کم ۲۰ سے زیادہ اسلامی ملکوں میں شادی کی کم از کم عمر ۱۸ برس ہے
سعودی عرب، ایران، بنگلہ دیش،ترکی ، برونائی ، ان ممالک میں شامل ہیں ، لیبیا میں یہ عمر ۲۰ برس ہے، وکی پیڈیا
پاکستان کے صوبے سندھ میں بھی یہ قانون بن چکا ہے
اس قانون سازی سے بچیوں کی شرع اموات کم کرنے اور اس سے بڑھ کر ملکی آبادی کو کنڑول کرنے میں مدد ملے گی
یاد رکھئے
کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی آبادی کی منصوبہ بندی کے بغیر ترقیاتی کام نہیں کرسکتی
برطانیہ کی مثال آپ سب کے سامنے ہے جہاں یورپی یونین سے نکلنے کی کوشش کے محر کات میں ایک بڑی وجہ آبادی میں
اضافہ ہے، کیونکہ حکومت یورپی یونین کے قوانین کے مطابق یونین کے ملکوں سے نقل مکانی کرنے والی آبادی
کو کنڑول نہیں کر سکتی تھی
ماہ پارہ صفدر













