پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما تیمور تالپور نے ہارس ٹریڈنگ سے متعلق بیان پر الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ ہونے کا بیان دینے پر رکن سندھ اسمبلی تیمور تالپور الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے سماعت کے دوران کہا کہ زمانے سے یہ بات چل رہی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی، چاہتے ہیں کہ کوئی ثبوت ملے تاکہ ایکشن لیا جاسکے۔ تیمور تالپور کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل کا بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر چلایا گیا، تیمور تالپور نے کسی پرذاتی الزام نہیں لگایا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا تیمور تالپور کے بیان سے لگتا ہے کہ انہیں ووٹ بیچنے والے کا نام معلوم ہے، آپ نے کہا کہ ووٹ بیچنے والا شخص اسمبلی میں بیٹھا ہوا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ پارٹی کے دباؤ پر بیان سے پھر رہے ہیں، تیمور تالپور نے الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگی۔

الیکشن کمیشن میں تیمور تالپور کے بیان پہر ایک اور درخواست دائر کی گئی جس پر الیکشن کمیشن نے تیمور تالپور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہا کہ کیا تیمور تالپور کے اسمبلی میں بیان کوآئینی تحفظ حاصل نہیں۔

درخواست گزار زید خالد کیانی نے کہا کہ تیمور تالپور کے بیان کو آئینی تحفظ نہیں ہے۔ وکیل تیمور تالپور نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں بیان کو بھی پارلیمنٹ کی طرح آئینی تحفظ حاصل ہے، یہ ٹارگٹڈ درخواست ہے، جو ہمیں اسمبلی سے نکلوانا چاہتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے، صرف نام بتا دیں جس نے ووٹ بیچا، کیس کی مزید سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY