بھارت پڑوسی ملک افغانستان کے ساتے ریلوے کے رابطے کے لیے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیووف سے تعاون طلب کرے گا جو اگلے ماہ کے اوائل میں نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مابق ازبک صدر کے قریبی ساتھی پاکستان اور بھارت کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تحت مفاہمت کے خواہاں ہیں۔

اخبار نے ازبک صدر کے قریبی ساتھی کے حوالے سے کہا ہے کہ افغان شہر مزار شریف اور ہیرات کو ملانے والا مجوزہ ریلوے منصوبہ 650 کلومیٹر پر مشتمل ہے جو بعد ازاں کابل شہر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

اس اہم منصوبے پر افغان صدر اشرف غنی اور ازبک صدر شوکت میرزیووف نے گزشتہ برس اتفاق کیا تھا اور اس حوالے سے کئی ابتدائی سروے بھی مکمل کی جاچکی ہیں۔

ازبک صدر کے دورے کے آغاز سے قبل دہلی میں موجود خارجہ امور کے خصوصی معاون الہوم نعمتوف نے دی ہندو کو بتایا کہ ‘ہم وسطی ایشیا میں بھارت کی بھرپور موجودگی کی حمایت کرتے ہیں اور افغانستان کے فائدے کے لیے امید کرتے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس: ممنون حسین اور نریندر مودی کا گرم جوشی سے مصافحہ

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے امید ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مذاکرات ہمارے دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا اضافہ کریں گے’۔

ازبک عہدیدار نے کہا کہ ‘اگر بھارت ریلوے کے اس منصوبے کی تعمیر میں شامل ہوا تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ یہ بھارت کا ریکارڈ، تجربہ اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے اس کی کوششوں کا باعث ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ازبکستان کو ‘بحیرہ ہند کے ذریعے’ کھلی تجارت اور رابطوں پر دلچسپی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ازبکستان اس منصوبے میں 500 ملین ڈالر سرمایہ کاری پر اتفاق کرچکا ہے جو افغانستان میں زرنج -دلارام ہائی وے اور ایران کے چاہ بہار میں شاہد بہشتی بندرگاہ کے بعد خطے کا اہم ترین منصوبہ ہوگا۔

مزید کہا گیا ہے کہ بھارت ایران-افغان سرحد پر چاہ بہار سے زاہدان تک ایک اور ریلوے منصوبے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے اور ازبکستان کےصدر بھارت، افغانستان اور ایران کے تجارتی معاہدے میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

ہیرات کے ریلوے منصوبے کی کابل تک توسیع کی صورت میں بھارت کے ‘ائر کوریڈور’ سے بھی منسلک ہوگا جس سے خاص کر ڈرائی فروٹ اور زرعی اجناس کی تجارت کی اجازت ہوگی اور اسکے علاوہ بھارت سے وسطی ایشیا تک سفر کا دورانیہ بھی بہت کم رہ جائے گا۔

ازبکستان نے ایران، ایشین انفراسٹرکچر بینک (اے آئی آئی بی) اور چین کے ساتھ بھی مذاکرات کیے تھے جہاں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت ازبکستان میں ریل منصوبہ چل رہا ہے۔

‘پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی فضا ہموار کرتے ہوئے’ نعمتوف نے کہا کہ ازبکستان جنوری 2019 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لے گا اور اس سے خطے کی سلامتی میں ازبکستان کا کردار متوقع طور پر زیادہ اہم ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY