ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے !قسط نمبر 49

1
1889

پھر جیسے آہستہ آہستہ اندھیرا چھٹنے لگا ۔۔ شدید دھند میں آوازیں بھی دور سے آتی لگ رہیں تھیں ۔۔
آپریشن ختم ہو چکا ہے ڈاکٹر نسیم ۔۔ آپ اب پوسٹ آپریشن روم میں ہیں ۔۔ جیسے ہی مکمل ہوش آجائے گا آپ کو روم میں شفٹ کر دیں گے
ہم نے آپ کے گھر والوں کو اطلاع دے دی ہے ۔۔وہ سب باہر انتظار کررہے ہیں ۔۔۔ شاید کوئی نرس بتا رہی تھی
کیسا محسوس ہو رہا ہے ۔۔ یہ جانے کس نے پوچھا تھا ۔۔ دھند میں چہرے کبھی پاس آتے لگتے اور کبھی بہت دور۔۔ اور آوازیں بھی جیسے ابھر ڈوب رہی تھیں ۔۔ احساس تھا تو بس درد کا ۔۔۔ لیکن یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ ہے کہاں ۔
درد تو نہیں ہو رہا ڈاکٹر نسیم ۔۔ کسی نے بڑی محبت سے پوچھا تھا
بہت زیادہ درد ۔۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے شاید ۔۔ جبھی تو پلکوں سے کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا تھا ۔۔
نرس مجھے درد دور کرنے کاانجیکشن لگانے کے لئے میرے بازو پر جھک گئی تھی
آمنہ کہاں ہے ؟
آمنہ کون ۔۔ آپ کی بیٹی جس کا نمبر آپ کے کاغذات میں ہے
مجھے میری بیٹی چاہیئے ۔۔ آمنہ کہاں ‌ہے ؟
ڈاکٹر نسیم جب آپ روم میں شفٹ ہونگی ۔۔ تب ہی آپ اس سے مل پائیں گی ۔۔ مجھے پھر کچھ یاد نہیں رہا ۔۔ایک دھند تھی جوبہت گہری ہو رہی تھی ۔۔ چہرے آوازیں سب گم ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔میں مکمل خاموشی اور اندھیرے میں اتر چکی تھی ۔۔
آمنہ ۔۔۔ میری آمنہ ۔۔ مجھے آمنہ چاہیئے ۔۔ میں ایکبار پھر آوازوں کی دنیا میں واپس آگئی تھی
میں یہاں ہوں ممو جان ۔۔۔ آمنہ کے نرم گرم ہاتھ زندگی جیسے تھے
تم یہیں رہنا ۔۔ میں جیسے زندگی کو اپنے پاس رکھ لینا چاہتی تھی
جی امی میں کہیں نہیں جاؤنگی ۔۔۔ آمنہ میرا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔ مجھے بتا رہی تھی کہ میں کمرے میں شفٹ ہو چکی ہوں اور میری طبعیت سنبھل چکی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر برلنگ بھی آنے والے ہیں ۔۔ مجھے ہلکا ہلکایاد ہے کہ اس نے یہ باتیں مجھے بار بار بتائیں تھیں اور میں یوں جیسے گہرے پانیوں میں اترتی جا رہی تھیں ۔

نجیب اور آفتاب بھی کمرے میں موجود تھے ۔۔۔ جس کا مجھے اس وقت پتہ چلا جب ڈاکٹر برلنگ کمرے میں آئے ۔۔۔ وہ بتا رہے تھے کہ کی ہول آپریشن

( Key Hole Operation )

کامیاب رہا ہے ۔۔ اور یوٹرس

(Uterus)

، اوریز

(Ovaries)

، فلوپین ٹیوبز

(Felopian Tubes)

، اوریز کے دونوں طرف کے لمف نوڈز

(Lymph Nodes)

اور آس پاس کے تمام ٹشوز

(Tissues)

نکال کر بائیوپسی

(Biopsy)

کے لئے بھیج دیئے ہیں ۔۔۔ رزلٹ کے لئے دو ہفتے انتظار کرنا ہو گا ۔۔ جیسے ہی ڈاکٹر نسیم بہتر ہونگی ہم انہیں گھر بھیج دیں گے ۔۔۔ وہ میرے ہاتھ کوتھپتھپا کر جا چکے تھے ۔

واہ امی واہ واہ آپ کی فلم میں کیا ٹوئسٹ‌ آیا کہ پیار مجھ سے کرتی تھیں ۔۔ ساری عمر میں آپ کا فیورٹ رہا اور بے ہوشی میں یاد آمنہ کوکررہی تھیں‌ ۔۔
یہ بے ایمانی ہے رایئٹر ۔۔ نجیب نے میرے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا
کہانی میں ٹوئسٹ‌ ہے یار ۔۔ آمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا
منیب کی وڈیو کال آگئی۔۔ حالانکہ وہ کچھ دیر پہلے ہی مجھے روم میں دیکھ کر گھر واپس گیا تھا کہ ایمیلیا کے سونے کا وقت ہو چلا تھا ۔۔ رات کے آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔ یہ بھی آمنہ ہی نے بتایا تھا۔
آپریشن پانچ گھنٹے کا تھا ۔۔ آفتاب اندازا کہہ رہے تھے ۔۔شکر اللہ کا سب ٹھیک ہوگیا ۔

آمنہ جس جس کا میں نے تمہیں بتایا تھا ۔۔ میرے فون سے ان سب کوبتا دو کہ میرا آپریشن ہو چکاہے اور میں اب ٹھیک ہوں ۔۔ میری آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں
آمنہ نے باری باری سب کو اطلاع دی ۔۔ بہن بھائی ۔۔جناب صفدر ہمدانی ۔۔ دوست احباب ۔۔ ہوسپٹل سٹاف سب کو مسیجز جا چکے تھے ۔۔ میں نے تشکر سے اسے دیکھا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔ نجیب کہہ رہا تھا امی کے فون کا پاس ورڈ ان کے مریضوں کے علاوہ سب کو پتہ ہے ۔۔۔ اس کا کیا فائدہ ہے ۔۔ میں اس کی بات پر مسکرا دی کہ پاس ورڈ اسی نے بنا کر دیا تھا ۔

نرس ہر ایک گھنٹے پر میرا بلڈ پریشر ، بخار، نبضیں اور خون میں اوکسیجن کالیول چیک کرنے آتی تھی اور مطمعن ہوکر چلی جاتی ۔۔میرے دونوں بازؤں میں ڈرپس لگی ہوئیں تھیں ۔۔ آکسیجن سانس کو بحال کئے ہوئے تھی ۔۔ پیشاب کی نالی نے میرے درد میں اضافہ کر دیا تھا ۔۔ نرس نے بتایا تھا کہ صبح چھ بجے وہ نکال دے گی ۔۔۔ اور چھ بجنے میں پوری رات پڑی تھی ۔۔اور میں کروٹ تک نہیں بدل سکتی تھی ۔۔ میں بے بس ہوں میرے مالک ۔۔میری مدد فرما ۔۔میرا رواں رواں صداؤں میں ڈھل رہا تھا۔

رات کی ڈیوٹی پر آنے والی نرس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے سب سے کہا کہ وہ اب گھر جائیں کہ نو بجنے والے ہیں اور میری دوا کا وقت بھی ہو چلا تھا ۔۔ مجھے آرام کی ضرورت تھی ۔۔ درد کی دوا ۔۔۔ دو اینٹی بائیوٹکس اور خون پتلا رکھنے کا انجیکشن ۔۔۔ کتنا کچھ ضروری ہو چلا تھا ۔۔آفتاب میری ٹیبل پر فون ، ائیر بڈز

(Ear Buds)

اور چارجر میز پر رکھنے لگے ۔۔ پھر پانی کی بوتل رکھ کر میز بلکل بیڈکے قریب کر دی ۔۔۔ میری آنکھیں پھر بند ہو رہیں تھیں ۔۔ سب نے مجھے باری باری ماتھے پر پیار کیا ۔۔ صبح جلد آنے کا وعدہ بھی دیا ۔۔ پر میں وہاں تھی ہی کب ۔۔ دور سے آتی آوازیں اب پھرگم ہو رہی تھیں ۔۔۔نرس نے شاید لائٹس بھی مدھم کر دی تھیں ۔۔جاتے ہوئے میرے پاس ریمورٹ رکھ گئی کہ ضرورت ہو تو فورا بٹن دبا دوں ۔

آپریشن کے بعد والی رات ۔۔آنکھ مچولی کھیلتی ہوئی گزر رہی تھی ۔۔ کبھی درد سے کراہ جاتی ۔۔ کبھی پیشاب کی نالی تکلیف دیتی ۔۔ کمر جیسے سیدھے لیٹے لیٹے تختہ ہو رہی تھی ۔۔ دونوں ہاتھوں میں لگی سوئیاں اب چبھ رہی تھیں ۔۔ ہاتھ میں ریموٹ تھا ۔۔ایک کلک پر نرس حاضر ہو جاتی ۔۔لیکن کہنا کیا تھایہ سمجھ نہ آرہا تھا ۔۔

ہائے ۔۔ درد ہے کہ تنہائی ۔۔ جیتی ہوں کہ نہیں ۔۔ اندھیرے سے پھوٹتی روشنی ہے کہ روشنیوں میں کالے دھبے ۔۔ بہت کچھ پوچھنا تھا ۔۔بس لفظ ساتھ نہیں تھے ۔
یوں جیسے صبح کے چھ اب کبھی نہیں بجیں گے۔۔۔ انتظار بھی تھکنے لگا تھا ۔۔آنکھیں موندھے بے بس میری ہی طرح پڑا تھا۔

سنو
میرے ہم نشینوں
شام کے سائے بڑھنے لگیں
تو
پرندے بھی
پرواز سے تھک کر
آشیانوں کو پلٹنے کی سوچتے ہیں
میں خود میں کفیل
زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں
اپنے پیاروں کی باتوں میں
خود سے ملنا چاہتی ہوں
کچھ وقت
کتابوں اور گیتوں کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں
شام ڈھلے
جھیل کنارے کچھ نظمیں لکھنا چاہتی ہوں
میں زندہ رہنا چاہتی ہوں

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. الحمداللہ خیریت سے آپریشن کے مرحلے گزر گئے۔ بس اب انشاءاللہ صحت کی طرف تیزی سے سفر رواں دواں۔ بہت سا پیار

LEAVE A REPLY