یہ انٹرویو مہدی حسن سے اسوقت لیا گیا جب وہ انتہائی علیل تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبان میں لکنت اور ویل چیئیر پر بیٹھے ، آنسوؤں سے لبریز، چپ چاپ خلاؤں میں گھورتے ہوئے شخص سے ملتے ہوئے میں ا ُس مہدی حسن کو تلاش کرتی رہی جو کبھی لفظوں اور سروں سے اٹھکھیلیاں کیا کرتا تھا۔ اور محفل میں موجود ا ُس کے پرستار اس کی آواز کی اٹھان ، لے اور سوز پر جھوم جھوم اٹھتے تھے۔

جی ہاں میں ذکر کررہی ہوں فلمی گیتوں نیم کلاسیکی موسیقی اور غزل کی گائیکی میں ایک بہت ہی معتبر اور منفرد نام مہدی حسن کا۔ جن کی آواز کوئی پانچ دھا ئیوں یعنی گزشتہ پچاس برس سے مقبولیت کے ایوانوں میں گونج رہی ہے۔

مہدی حسن سے میری ملاقات حال ہی میں لاہور میں ہوئی جہاں وہ اپنے صاحبزادے کے ساتھ مقیم ہیں۔

بر صغیر پاک وہند میں مہدی حسن کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ بھارتی راجھستان کے ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا ہیں مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952 میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اس وقت سے لیکرآج تک وہ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔ گویا سرُ کے سفر کی داستان کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

میں چاہتی تھی کہ میں دنیائے موسیقی کی اس قد آور شخصیت کے طویل فنی سفر کی کچھ یادیں سمیٹ لوں مگر میری یہ خواہش پوری نہ ہوسکی کیونکہ کوئی پانچ برس قبل مہدی حسن پر فالج کا حملہ ہوا۔ جس سے ان کی مجموعی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی آواز بھی متاثر ہوئی۔ ان کی چہرے کی صاف رنگت سیاہی مائل اور خاصی حد تک بیماری کا اثر ان کی یاداشت پر بھی نظر آتا ہے۔

البتہ بیماری ان کی روائتی منکسر المزاجی پر قطعی اثر انداز نہیں ہوسکی۔ مہدی حسن خان صاحب کے عزیزوں کے مطابق وہ دن میں بھی دواؤں کے زیر اثر قدرے غنودگی رہتے ہیں۔ لہذا ایک دن مجھےکافی انتظار کے بعد واپس آنا پڑا۔ لیکن جب انھیں اس کا علم ہوا تو اگلے دن انھوں نے مجھ سے معذرت کی۔ فنکاروں کی جس قبیل سے مہدی حسن کا تعلق ہے۔ ا ُس میں خصوصاً پاکستان میں تو ایسا مزاج ذرا کم کم ہی نظر آتا ہے۔

پاکستان کی فلمی دنیا میں مہدی حسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی اوریجنل آواز ہیں جو پردہ سیکرین پر چوٹی کے فلمی اداکاروں پرخوب خوب جچتی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ کم ازکم چار دہائیوں تک فلمی دنیا کے بے تاج بادشا بنے رہے۔ لیکن جب میں نے مہدی حسن سے پوچھا کہ کیا انھیں اس اعزاز کااحساس ہے۔ تو ایک مایوس مسکراہٹ کے ساتھ ان کا جواب تھا ” ہاں لوگ کہتے ہیں۔ مگر میں ایسا نہیں سجھتا۔ کیونکہ دنیا تو بہت اگے نکل گئ اور میں بہت پیچھے رہ گیا”

مہدی حسن خصوصاً غزل کی گائیکی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انھوں نے لگ بھگ ہر راگ میں غزلیں گائیں ۔ بلکہ یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ انھوں نےغزل کی گائیکی کو اس مقام تک پہنچا دیا۔ جہاں اس نے موسیقی کے ایک گھرانے کی حیثیت اختیار کرلی۔

غزلوں کےانتخاب پر بھی انھیں داد دی جاتی ہے۔ انھوں نے اردوکے کلاسیکی اساتذہ کا کلام بھی گایاہے۔ ان کی گائی ہوئی بیشتر غزلوں کو سننے والوں نے پسند کیا۔ اکثر تو یوں بھی کہا جاتا ہے کہ بہت سے شاعروں اور غزلوں کو مقبول عام بنانے میں مہدی حسن کی آواز کا بہت اہم کردار رہا ۔

مہدی حسن کو ہزاروں ایوارڈ ملے مگر ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ وہ دنیائے غزل کے شہنشاہ ٹھہرے۔ مگر مہدی حسن صاحب کو خود یہ یاد بھی نہیں کہ انھیں کب سے شہنشاہ غزل کہا جانے لگا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ میری گائی ہوئی زیادہ تر غزلوں کو پسند کیا گیا۔ ہم سے گفتگو کے دوران وہ بار بار اپنے کامیابیوں کو اپنی محنت اور ریاضت کا ثمر نہیں بلکہ اللہ کا کرم قرار دیتے رہے۔

مہدی حسن پاکستان میں ہونے والے اپنے علاج سے مطمئن تو نہیں ۔تاہم بی بی سی اردو سے اپنی اس گفتگو میں انھوں نے اس تاثر کی قطعی تردید کی کہ دوسال قبل وہ ناراض ہوکر بھارت چلے گئے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ نجی طور پر علاج کی غرض سے بھارت گئے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ان کا سرکاری طور سے علاج کرانے کی پیشکش تھی ۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ ان کی حمیت نے یہ گوارا نہیں کیا۔ لہذا انھوں نے معذر ت کرلی۔

پاکستان میں سرکاری سطح پر ایک مرحلے پر انھیں علاج کی غرض سے بیرون ملک بھجوانے کا پیمان بھی گیا تھا۔ مگر وہ ہی ہوا یعنی ” وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا” مہدی حسن خان صاحب کہتے ہیں کہ انھوں نے صبر کرلیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ خود تو خاموش ہوگئے مگر ان کی آنکھوں سے بہہ نکلنے والے آنسو بہت کچھ کہہ گئے۔

مہدی حسن کی گرتی ہوئی صحت یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ گائیکی کے میدان کی بازی جیتنےوالا گلوکار بیماری سے جنگ ہار رہا ہے۔

”ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” یہ مصرع یقینا مہدی حسن جیسی شخصیتوں کے لیے ہی کہا گیا ہے۔ مہدی حسن کے پاس داد و تحسین کی تو کوئی کمی نہیں۔

ان کے گائے ہوئے فلمی گانوں اور غزلوں اور غیر فلمی غزلوں کی ڈھائی سو کے لگ بھگ ویب سائٹس ہیں ۔ ان کی گائیکی اور شخصیت اور آواز پر ہزاروں مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان ویب سائٹس پر ان کی آواز میں غزلوں اور گانوں کے سی ڈیز اور ان کی محافل موسیقی کے وڈیوز بک رہے ہیں۔

مگر خود گوناں گوں مسائل میں گھری یہ آواز پاکستان کے ارباب اختیار کی بے اعتنائی اور سرد مہری کے صحراؤں میں گم ہورہی ہے۔

انٹرویو۔ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY