پاناما لیکس کیس : سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کا جواب داخل

0
451

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہوگئی جبکہ وزیر اعظم کی جانب سے جواب داخل کردیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید اور دیگر فریقین سماعت کے لیے عدالت عظمیٰ پہنچے۔

وزیر اعظم کا جواب سپریم کورٹ میں نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے پڑھ کر سنایا۔

وزیر اعظم کی جانب سے داخل کرائے جانے والے جواب میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وہ بیرون ملک فلیٹس اور دیگر بتائی گئی جائیدادوں کے مالک نہیں ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف آف شور کمپنیوں کے مالک نہیں ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس قانون کے مطابق ادا کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کے جواب میں یہ بھی کہا گی اکہ 2013 کے گوشواروں میں ان کے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں اور ان کا کوئی بچہ ان کے زیر کفالت نہیں ہے۔

ویر اعظم نے اپنے جواب میں موقف اپنایا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت انہیں نااہل نہیں قرار دیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما لیکس کے حوالے سے دائر ہونے والی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا۔

عدالت نے موقف اپنایا کہ یہ معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے جبکہ رجسٹرار کی جانب سے درخواستوں پر لگائے جانے والے اعتراضات کو بھی مسترد کردیا۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ فریقین نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

یکم نومبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تحقیقاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر تحریری جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ پاناما لیکس کے حوالے سے درائر درخواستوں کی سماعت کررہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

گذشتہ ماہ 20 اکتوبر کو ان درخواستوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کی تھی۔

بعدازاں عدالت عظمیٰ نے درخواستوں کی سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جبکہ درخواستوں کی سماعت کے لیے 5 رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دے دیا گیا تھا۔

یکم نومبر کو جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پاناما لیکس پر تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے آج ہی ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کمیشن کی سربراہی کون کرے گا اور اس میں کون ہوگا اس کا فیصلہ عدالت کرے گی اور دوسرے فریق کی رضامندی کے بعد عدالت کمیشن کے قیام کا فیصلہ کرے گی۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ مجوزہ کمیشن کو سپریم کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے اور کمیشن عدالت عظمٰی ہی کو رپورٹ پیش کرے گا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ پاناما لیکس سے پورا ملک متاثر ہوا، عدالت کا کام ملک کو انتشار اور بحران سے بچانا ہے۔

اس موقع پر جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے کہا تھا کہ تنازعات کے حل کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ ہے اور عدالت فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کرے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY