پی ٹی وی کے سینئر ہدایتکار یاورحیات لاہور میں انتقال کرگئے

0
757

پی ٹی وی کے شہرہ آفاق ڈراموں کے خالق سینئر ہدایتکار یاورحیات 4 روز ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد انتقال کرگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 4 روز قبل یاور حیات خان کو تشویش ناک حالت کے باعث سی ایم ایچ ہسپتال کے آئی ایم ٹی وارڈ میں داخل کرایاگیا۔ ان کاایک پھیپھڑاختم ہوچکاتھااوردوسراصرف 30 فیصد کام کررہاتھا جس کی وجہ سے انہیں آکسیجن لگا ئی گئی اور مصنوعی تنفس دیا جارہا تھا۔ 4 روز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد یاور حیات نے جمعرات کو اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔

واضح رہے کہ یاور حیات خان 18 اکتوبر 1943 کو لاہور میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے 1965 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور 2004 تک کام کرتے رہے۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے پی ٹی وی کیلئے متعدد ڈرامے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیے

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے معروف پروڈیوسر یاور حیات کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ملک کے معروف ٹی وی پروڈیوسر یاور حیات کی وفات پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاور حیاتنے ٹیلی ویژن کے لئے یاد گار ڈرامے تخلیق کئے ہیں اوران کے کے تخلیق کردہ ڈرامے آج بھی مقبول ہیں ،یاور حیات کی ٹی وی ڈراموں کو عروج دینے کے لئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

۔وزیر اعلی نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے

سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے کچھ عرصہ قبل یاور حیات کے بارے میں ایک تحریر میں لکھا تھا

یاور دراصل ایک متعدی مرض تھا، جو کوئی بھی کچھ عرصہ اُس کی رفاقت میں رہتا وہ خود قدرے یاور حیات ہو جاتا۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے اُس کا لہجہ اختیار کرلیتا، اُسی کے انداز میں مونچھیں نہ بھی ہوں تو بھی اُنہیں سنوارتا، مسکراتا، اُسی کی چال چلنے لگتا، اُن دنوں ٹیلی ویژن کے برآمدوں میں ہر جانب یاور حیات چلتے پھرتے نظر آتے۔۔۔اُسے داستان گوئی میں ملکہ حاصل تھا۔ وہ اپنی گفتگو سے آپ کو آسانی سے قائل کرسکتاتھا کہ تارڑ جی۔۔۔ میز پر بیٹھی یہ مکھی نہیں ہے، اقبال کا شاہین ہے، اس کی اڑان اور پر تو ذرا غور سے دیکھئے۔۔۔ اور اُس کا پسندیدہ طرز تکلم ’’چن جی‘‘ تھا۔۔۔ ایک عرصہ میں بھی دوستوں کو ’’چن جی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا۔۔۔وہ ایک متعدی بیماری تھا۔۔۔ ’’جھوک سیال ‘‘ نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اُس نے میرا تحریر کردہ ٹیلی ویژن کا پہلا مِنی سیریل ’’پرواز‘‘ پروڈیوس کیا۔۔۔ اور متعدد ڈراموں میں مجھے مرکزی کردار کے طور پر کاسٹ کیا، یاور کے بارے میں ایک کالم نہیں ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے، میں اُس کے بارے میں قدرے تفصیل سے تب لکھوں گا جب وہ مر جائے گا، اگر میں اُس سے پہلے رخصت نہ ہو گیا تو۔

SHARE

LEAVE A REPLY