سپریم کورٹ آف پاکستان کے تحت آبی وسائل پر منعقدہ سمپوزیم کی سفارشات اور اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ۔

آبی وسائل کے سمپوزیم کی سفارشات میںکہا گیا ہے کہ پانی کے حوالے سے نیشنل ٹاسک فورس بنانے ،سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات جاری رکھنے ،پانی کا ڈیٹا اور رابطوں کا نظام بہتر بنانے ، زیر زمین سطح آب کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے۔

یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ مارکیٹ بیسڈ بجلی کی تقسیم کا نظام عمل میں لایا جائے، پانی کی قیمتوں کا تعین کیا جائے، ڈیموں میں سلٹ کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں، پانی کی قیمتوں کے تعین کے لیے طویل اور قلیل المدتی اقدامات کیے جائیں۔

سفارش کی گئی کہ کسانوں پر زیر زمین پانی کے استعمال کی حد مقرر کی جائے اور سندھ طاس کیلئے بہترین انتظامی ڈھانچہ بنانے کی ضرورت ہے۔

سمپوزیم کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قلت آب کا مسئلہ شدید تر ہورہا ہے، پاکستان 2025ء تک خشک سالی کا شکار ہوسکتا ہے، سندھ طاس معاہدے کا انتظام پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

اعلامیہ کے مطابق زیر زمین پانی کے استعمال کی پالیسی ہونی چاہیے، پانی کے عالمی قانون کے مطابق پاکستان اپنا مقدمہ لڑے، سندھ طاس معاہدے پر دوبارہ غور کیا جائے، پانی کی تقسیم میں جدید طریقے استعمال کیے جائیں۔

سمپوزیم اعلامیہ کے مطابق چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں، میدانی اورصحرائی علاقوں میں زیرزمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانا چاہیے، ڈیموں کی تعمیر کیلئے مالیاتی اداروں سےرابطہ کیا جائے، پانی کے ضیاع کو روکا جائے، دریاؤں کے مقامات کو محفوظ کیا جائے۔

سمپوزیم میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پانی کی قیمتوں کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے، انڈس بیس اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، ڈیموں اور پانی کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کیلئے انتظامات کو بہتر کیا جائے، پانی سے متعلق اداروں کو اختیارات دیے جائیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ زراعت پر ٹیکس لگایا جائے، اسکولوں کے نصاب میں پانی کے ضیاع کو روکنے سے متعلق آگاہی پھیلائی جائے

SHARE

LEAVE A REPLY