احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف اور ان کے خاندن کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران واجد ضیاء کو اپنے بیان میں اضافے کی اجازت نہ دیتے ہوئے سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی،دوران جرح وکلائے صفائی اوراستغاثہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور سخت جملوں کے تبادلہ کے بعد واجد ضیاء نے خواجہ حارث کی ستائش کرکے معاملے کو سلجھانے میں مدد دی ،جمعہ کو نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن (ر )محمد صفدر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، جے آئی ٹی سربراہ کے بیان پر جرح کرتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے جیری فری مین سے متعلق سوال کیا جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ حسن نواز کے 2 ٹرسٹ ڈیڈ پر 2 جنوری 2006 کو دستخط کی جیری فری مین نےتصدیق کی اور وہ اس کے گواہ ہیں. واجد ضیاء نے بتایا کہ ٹرسٹ ڈیڈ نیلسن اور نیسکول سے متعلق تھی جن کی کاپیاں جیری فری مین کے آفس میں ہیں جس پر خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ نے جیری فری مین کو دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پاکستان آکر بیان دینے کا

لکھا؟جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ انہیں پاکستان آنے کا نہیں کہا، وکیل نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق گلف اسٹیل مل دبئی میں کب قائم ہوئی؟ جس پر واجد ضیاء نے بتایا کہ ہماری تفتیش، دستاویزات اور کاغذات کی روشنی میں گلف اسٹیل مل 1978 میں بنی، خواجہ حارث نے استفسار کیا کہ 1978 کے شیئرز سیل کنٹریکٹ دیکھ لیں، کیا آپ نے ان کی تصدیق کرائی جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کیا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اگر آپ نے تصدیق نہیں کرائی تو کیا آپ اس کنٹریکٹ کے مندرجات کو درست تسلیم کرتے ہیں جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ جے آئی ٹی نے گلف اسٹیل مل کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کیا۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ 14 اپریل 1980 کو آہلی اسٹیل مل بنی کیا آپ نے اس کے مالک سے رابطہ کیا؟ جس پر واجد ضیاء نے کہا گلف اسٹیل کے بعد آہلی اسٹیل مل بنی لیکن ہم نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی والیم 3 میں جو خط ہے، اس کے مطابق اسٹیل مل کا اسکریپ دبئی نہیں بلکہ شارجہ سے جدہ گیا؟ واجد ضیا نے جواب دیا یہ بات درست ہے، خواجہ حارث نے پوچھا خط کے مطابق وہ اسکریپ نہیں بلکہ استعمال شدہ مشینری تھی جس پر واجد ضیاء نے کہا یہ درست ہے کہ اسکریپ نہیں بلکہ وہ استعمال شدہ مشینری تھی، وکیل نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی نے دبئی اتھارٹی کو ایم ایل اے بھیجا کہ اسکریپ بھیجنے کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؟ جس پر واجد ضیا نے کہا ایسا کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا گیا۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کے والیم میں کتنی ایسی دستاویزات ہیں جن پرسپریم کورٹ کی مہر ہے؟ جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہو. اس موقع پر واجد ضیاء نے کہا کہ کیا میں جے آئی ٹی کے والیم دیکھ سکتا ہوں؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ زیادہ بول رہے ہیں، آپ کو اتنا کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ واجد ضیاء نے کہا کہ میں کچھ اور باتیں شامل کرنا چاہتا ہوں جس پر فاضل جج نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ اور نہ بولیں.۔ جرح کے دوران ایک موقع پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے کہاکہ ہم جو کررہے ہیں یہ کافی مینٹل کام ہے جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی غصے میں آگئے اور خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مینٹل ہوگئے ہیں آپ کی عمر کا تقاضا ہے جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو مینٹل نہیں کہا، اس دوران ہی مرکزی گواہ واجد ضیاء بھی بول پڑے کہ آپ مجھے ہدایات نہ دیں جس پر خواجہ حارث نے پرسکون انداز میں استفسار کیا کہ پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں نے آپ کو کیا ہدایات دیں تب ہی آگے چلیں گے۔ خواجہ حارث نے مزید کہا کہ آپ کی اور میری کوئی لڑائی ہے؟جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا نہیں، خواجہ حارث نہیں، ہم آپ کو جانتے ہیں آپ کافی پروفیشنل ہیں۔این این آئی کے مطابق واجد ضیا کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ جیری فری مین کو جے آئی ٹی نے متفقہ رائے سے سوالنامہ بھیجا۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے سوالنامہ بھیجنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا تھا؟واجد ضیا نے جواب دیا کہ جیری فری مین کو سوالنامہ بھیجنے پر جے آئی ٹی میں اتفاق رائے تھا ، جیری فری مین سے خط وکتابت جے آئی ٹی نے براہ راست نہیں کی، خط و کتابت کیلئے برطانیہ میں سولیسیٹر کی خدمات حاصل کی گئیں، جے آئی ٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ جیری فری مین سے براہِ راست خط و کتابت نہیں ہوگی۔صباح نیوزکے مطابق واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے تفتیش شروع کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں اور جوابات کا جائزہ لیا اور شریف خاندان کے جواب میں جیری فری مین کا خط موجود تھا،واجد ضیا نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے کسی بینک کو 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشن کے ریکارڈ کے لیے نہیں لکھا، منسٹری آ ف جسٹس کے خط کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ1980 کا خط جعلی ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY