انگلینڈ نے پاکستان کو آخری اور فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست دے کر سیریز جیت لی۔
مہمان ٹیم نے آخری میچ میں 67 رنز کے بھاری مارجن سے قومی ٹیم کو شکست دے کر سیریز میں 3-4 سے کامیابی حاصل کی۔
واضح رہے کہ پاکستان کو پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ہوم گراؤنڈز پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 210 رنز کا ہدف دیا تھا۔
ہدف کے تعاقب میں قومی بیٹنگ لائن ابتدا میں ہی مشکلات کا شکار ہوگئی، اوپنرز بابر اعظم اور محمد رضوان صرف 5 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔
بابر اعظم نے 4 اور محمد رضوان صرف ایک رن بناسکے، دونوں کو بالترتیب کرس ووکس اور ریس ٹوپلے نے آؤٹ کیا۔
افتخار احمد اور شان مسعود نے 28 رنز کی شراکت بنائی جو افتخار کے آؤٹ پر ختم ہوگئی، انہوں نے 16 گیندوں پر 19 رنز کی اننگز کھیلی، انہیں ڈیوڈ وِلی نے کیچ آؤٹ کروایا۔
انگلینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 209 رنز بنائے۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جارہے اس میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
انگلینڈ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ایلکس ہیلز اور فل سالٹ نے ٹیم کو پراعتماد آغاز فراہم کیا۔
دونوں کے درمیان 39 رنز کی پارٹنر شپ بنی جسے محمد حسنین نے ہیلز کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکے توڑا۔
ایک گیند بعد گزشتہ میچ کے ہیرو فل سالٹ رن آؤٹ ہوگئے اور انگلینڈ کی ٹٰم 39 پر ہی دونوں اوپنرز سے محروم ہوگئی تھی۔
ایسے میں ڈاؤڈ ملان کا ساتھ نوجوان بلے باز بین ڈکِٹ نے دیا، دونوں کے درمیان 62 رنز کی زبردست پارٹنر شپ بنی۔
تاہم دسویں اوور کی پانچویں گیند پر محمد رضوان نے ناقابلِ یقین رن آؤٹ کرکے بین ڈکٹ کو پویلین لوٹا دیا، انہوں نے 30 رنز بنائے تھے۔
اس کے بعد چوتھی وکٹ پر ڈاؤڈ ملان اور ہیری بروک سیہ پلائی دیوار بن گئے، دونوں نے ناقابلِ شکست 108 رنز کی پارٹنر شپ بنا کر ٹیم کا اسکور 209 رنز تک پہنچاڈالا۔
واضح رہے کہ خراب فیلڈنگ کی وجہ سے انگلینڈ کے بلے بازوں کو ایک نہیں بلکہ کیچ چھوٹنے کی وجہ سے تین مزید مواقع ملے جن کا انہوں نے بڑا اسکور بنانے کے لیے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
تین میں سے انگلینڈ کے دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے جبکہ محمد حسنین وکٹ لینے والے واحد بولرز تھے۔
ان کے علاوہ حارث رؤف وکٹ تو نہ لے سکے لیکن 4 اوورز میں صرف 24 رنز دے کر قابلِ ذکر بولر رہے












