اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی طرف سے دائر 30 ارب روپے ہرجانہ کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 12 نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین کی طرف سے دائر 30 ارب روپے ہرجانہ کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشارت مفتی نے کی۔

دوران سماعت مدعی کے وکیل سلمان بشیر نے دلائل دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جہانگیر ترین پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔

جہانگیر ترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جلسوں میں خطاب کے دوران ان کے وکیل پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انھوں نے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کرائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جلسوں میں وزیراعلیٰ شہباز شریف خالی پیپر اٹھا کر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ثبوت ہیں حالانکہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور تمام بینک بھی یہ ثبوت فراہم کر چکے ہیں کہ جہانگیر خان ترین نے کوئی قرضے معاف نہیں کرائے۔

وکیل نے مزید دلائل دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو سیکشن 8 کے تحت نوٹسز بھی بھیجے گئے مگر انھوں نے معافی نہیں مانگی۔

عدالت میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی تقاریر کی ویڈیوز بھی پیش کی گئیں۔

اس موقع پر جہانگیر ترین کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو جھوٹے الزامات سے روکنے کے لیے حکم امتناعی بھی جاری کیا جائے۔

سماعت کے بعد عدالت نے حکم امتناعی سمیت ہرجانہ کی درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 12 نومبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، بعدازاں کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین نے قرضے معاف کرانے کا الزام عائد کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف 30 ارب روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا۔

جہانگیر ترین کا موقف تھا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے رواں برس 25 اپریل کو ایک جلسے سے خطاب کے دوران ان پر قرض معاف کرانے کے بے بنیاد الزامات عائد کیے اور جھوٹے الزامات پر معافی مانگنے کے بجائے 26 اکتوبر کو پریس کانفرنس میں وہی الزامات دہرائے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY