امریکہ کی دو بڑی جماعتوں کے صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو شمالی کیرولائنا میں اپنی اپنی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔

صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی دوڑ میں کلنٹن کے سابق حریف سینیٹر برنی سینڈرز نے ریلی میں ہلری کلنٹن کو متعارف کروایا جب کہ اسی علاقے سے کچھ فاصلے پر واقع سلما میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔

دونوں امیدواروں نے حسب معمول ایک دوسرے پر طنز اور تنقید کرتے ہوئے حریف کو منصب صدارت کے لیے غیر موزوں ثابت کرنے کے لیے اپنے اپنے دلائل کو دہرایا۔

گرین ویل میں ایک ریلی سے خطاب میں کلنٹن نے متنبہ کیا کہ ٹرمپ “ہمیشہ صرف اپنی ہی پرواہ کرتے ہیں اور اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس سے کون متاثر ہو رہا ہے۔”

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ خواتین اور اقلیتوں کی تضحیک کرنے سے خود کو باز نہیں رکھ سکتے اور وہ انتہائی خطرناک ہیں۔

“پورے امریکہ میں اتحاد اور امید کے پیغام کے مقابلے میں لوگ ٹرمپ کے سیاہ تصور کو مسترد کر رہے ہیں۔”

صدر براک اوباما نے بھی فلوریڈا میں ہلری کلنٹن کے حق میں آواز بلند کی اور ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا انتخاب نزدیک ہیں اور اس کے نتائج کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جا سکتا۔

“آپ کے پاس امریکہ کی تاریخ متعین کرنے کا نادر موقع ہے، اسے ضائع مت ہونے دیں۔”

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی انتخابی مہم میں اپنی حریف پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کلنٹن انتخاب جیت جاتی ہیں تو انھیں ای میلز کے معاملے پر مواخذے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انھوں نے ہلری کے شوہر سابق صدر بل کلنٹن کے 1998ء میں ہونے والے مواخذے کا بھی ایک بار پھر تذکرہ کیا۔

“آپ لوگوں کو وہ مواخذہ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل یاد ہیں۔ یہ سب ایسا کچھ ہے جو ہم اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔ ہم ایک ایسا شخص چاہتے ہیں جو کام کرنے کے لیا تیار ہو۔”

دریں اثناء ڈیموکریٹ کے نائب صدارتی امیدوار ٹیم کین نے جمعرات کو ایریزونا میں اپنی مہم کے دوران کلی طور پر ہسپانوی زبان میں تقریر کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔

رائے عامہ کے جمعرات کو سامنے آنے والے تازہ جائزوں میں کلنٹن کو ٹرمپ کر معمولی برتری حاصل ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

SHARE

LEAVE A REPLY