آسیہ بی بی کی رہائی کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے تحریری فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا۔ فیصلہ 56 صفحات پر مشتمل ہے جسے چیف جسٹس نے تحریر کیا۔ فیصلے میں علامہ اقبال کا نعتیہ کلام ”کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں” بھی درج ہے۔
فیصلے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور مقدمے میں ملوث نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اپنےمذموم مقاصد کے حصول کے لیے توہین رسالت کے قانون کاغلط استعمال کیا جاتا ہے ۔اس قانون کے غلط استعمال کی تازہ مثال مشال خان قتل کیس ہے۔ برداشت اسلام کا اصول زریں ہے ۔ مخلوق خدا کے مابین برابری،فکرو وجدان اورعقیدہ کی بنیادی آزادی سے متعلق ہے۔
یہ نہ صرف ہماری مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ اس کا تعلق انسانی تکریم سے بھی ہے۔ یہ قانون کا طےشدہ اصول ہے کہ جوالزام لگاتا ہےاسےالزام ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔اسی لیے ملزمہ پر عائد کیے جانے والے الزام کو ثابت کرنا استغاثہ کی ذمے داری تھی۔ ملزم اس وقت تک معصوم ہوتا ہے جب تک اس کے خلاف الزام ثابت نہ ہو۔ کرمنل جسٹس میں شکوک و شبہات سے پاک ثبوت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو۔ اللہ کےنبیﷺ کےنام پرسچ میں جھوٹ کوملاناب ھی توہین رسالت سے کم نہیں ہے۔ شکایت کنندگان کی جانب سے آسیہ بی بی کے مذہب کی توہین کی گئی۔ مذہب اسلام کچھ بھی برداشت کرسکتا ہے لیکن ناانصافی، جبر اور انسانی حقوق کی پامالی نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ آسیہ بی بی کے خلاف اپنا مقدمہ بلا شک و شُبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
تمام گواہان ، شواہد ،حقائق اور بیانات تضاد ات سے بھرپور ہیں۔آسیہ بی بی پرتوہین رسالت کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر آسیہ بی بی پر کوئی اور مقدمہ نہیں ہے تو انہیں رہا کیا جائے۔ یاد رہے کہ توہین رسالت کے مقدمے میں آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر آسیہ بی بی نے سزائے موت کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 8 اکتوبر 2017ء کو توہین رسالت کے مقدمے میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آسیہ بی بی کا تعلق مسیحی برداری سے ہے اور انہیں 2010ء میں توہینِ مذہب کے الزام پر ایک مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کی سزا کو بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
آسیہ بی بی پر الزام تھا کہ وہ جون 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں واقع اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران پیغبرِ اسلامﷺ اور اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئیں۔تاہم آسیہ بی بی مسلسل اس الزام سے انکار کرتی آئی ہیں۔ آسیہ بی بی کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے وہ جیل ہی میں قید ہیں تاہم آج انہیں سپریم کورٹ رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔













