وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےگزشتہ دنوں مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیے گئے احتجاجی دھرنے کے حوالے سے کہا کہ اس طرح کے مظاہروں اور احتجاجی دھرنوں کا مستقل بنیاد پر حل نکالا جانا چاہیے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز وائز’ میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘انتہا پسندی اس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور دنیا کے تمام ممالک مختلف انداز میں اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔’

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر ان کا کہنا تھا کہ ‘اس معاہدے کی کوئی شق آئین کے دائرہ کار سے باہر نہیں، مثال کے طور پر آسیہ بی بی کیس میں نظرثانی کی اپیل دائر کرنا اس جماعت کا حق ہے جس سے انہیں ہم نہیں روک سکتے، اسی طرح آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا قانونی جواز موجود ہے جو کہ مہیا کرنا ہمارا کام نہیں، بلکہ متاثرہ فریقین کا کام ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں انتہا پسندی کی باقاعدہ تاریخ ہے، اس لیے ملک میں موجود انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں باقاعدہ تیاری کرنی ہوگی۔’

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘انتہا پسندی جیسے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمیں اداروں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، جبکہ مساجد اور مدرسوں کا استعمال بہتر ہونا چاہیے۔’

قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان میں فساد پھیلانے والوں کو خلا میں بھیج دیا جائے اور ان کی واپسی کا انتظام بھی نہ کیا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY