زندگی کے مشکل ترین تجربات اور جذبات کو آواز دینے کے لئے لکھنے والے یا شاعر حضرات اپنی تحریروں نظموں و اشعار میں جب اپنے غم و غصے کی بھی آمیزش کردیتے ہیں ۔تو ان کے لکھے لفظ بے ساختہ کہے جملے سچے جذبے بسا اوقات افسردگی کی ہی زبان میں گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔ درد اور انسان کی انوکھی جدوجہد جو ادب کی کئی صورتوں میں قاری یا سامع تک پہنچتی ہیں تو لکھنے والے کی بلند کی ہوئی آواز تنہا نہیں رہتی ۔۔
ادب کی تاریخ میں سب سے مقبول ادب وہی رہا ہے جو معاشرے کے حساس قاری کے دکھوں کو بیان کرتا رہا ہے ۔۔
اس عہد میں نو عمر شعرا و مصنفین نے اپنے اظہار کی برجستگی اور اپنے خیالات کے بلا تامل اظہار سے بہت توجہ حاصل کی ہے ۔۔ کہیں انہیں سراہا جاتا ہے تو کئی بار بے جا تنقید ان کے مزاحمتی انداز بیان نمایاں جگہ پاتی ہے ۔۔
آج کے نوعمر شاعر مہمان اپنی جدید شاعری کے حوالے سے اپنے قارئین اور نوجوان طبقے میں کافی مقبول ہیں ۔۔ وہ فارسی ادبیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں ۔۔اور مختلف زبانوں مثلا” فارسی عربی پر اچھی دسترس رکھتے ہیں اور عربی و فارسی شعرا کا کلام اردو میں ترجمہ کررہے ہیں ۔۔ جو اشاعت کے مرحلے میں ہیں۔۔
حال ہی میں ان کی جدید شاعری/ نظموں پر مشتمل کتاب شائع ہوئی ہے ۔۔۔۔
مدثر عباس صاحب آپکو عالمی اخبار کی نشست میں خوش آمدید ۔۔۔
آپ کو گذشتہ چند برسوں میں کافی لکھتے ہوئے اور آپ کے خیالات اور انکے اظہار کو روز بروز نکھرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔آپ نوجوان نسل کے ابھرتے ہوئے شاعر ہیں
سوال – آپ نے لکھنے کا آغاز کب سے کیا؟
اور کیا بات تھی جس نے آپ کو لکھنے کی طرف مائل کیا؟
جواب۔ میرے خیال میں کوئی بھی تخلیق کار اس وقت باقاعدہ تخلیق کرنے لگ جاتا ہے جب کسی تخلیق کا کوئی زریعہ یا میڈیم اس کی اندرونی کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے تخلیق کار ہمیشہ اپنی تخلیق کو سامنے لانا چاہتا ہے جس کے لئے کچھ کوششیں شعوری اور کچھ لا شعوری ہوتی ہیں سو تخلیق کار ہمیشہ تخلیق کرتا رہتا ہے ہاں یہ وقت وہ خود طے کرتا ہے کہ کب اس کی تخلیق کنکریٹ فارم یعنی مربوط شکل میں لوگوں کے سامنے آتی ہے؟
سوال۔ آپ جیسے نو عمر لکھنے والوں کو پڑھتے ہوئے ہمیشہ یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ زندگی کے اس دور میں جب کے مزاج میں رنگینی ہونی چاہیئے نوجوانوں میں بے انتہا حساسیت کیوں پیدا ہوگئی ہے۔۔ ؟
جواب _ نوجوانوں یا انسانوں میں حساسیت ہمیشہ سے رہی ہے انسان جب سے ہے ۔۔حساس ہے ۔۔موجودہ عہد میں انسان کے بہت سے داخلی پہلو کھل کر سامنے آئے ہیں جس کی بنیادی وجہ انسانی نفسیات تک علوم کی رسائی ہے اور ایک حد تک زندگی کی تیز روانی ہے۔ زندگی اس قدر تیز ہو گئی ہے کہ لوگ اپنی حساسیت کو نہ چاہتے ہوئے بھی دوسروں سے شیئر کرنے لگے ہیں۔ جدید عہد میں انسان بظاہر زیادہ آزاد ہے اور اسے ایک حد تک اپنی انفرادیت کا حق بھی حاصل ہے اس لئے انسانی کیفیات کا بیان اب ذرا مختلف ہے پرانے وقتوں میں انسان بطور فرد کے بجائے ایک سماج یا معاشرے پر زیادہ بات ہوتی تھی جس کی وجہ سے انسانوں کی انفرادیت کہیں چھپ جاتی تھی موجود عہد میں چونکہ لوگوں کے پاس اپنی انفرادیت کے اظہار کا میڈیم میسر ہے سو انسان کی بہت سی داخلی چیزیں واضح نظر آنا شروع ہو گئی ہیں ظاہر ہے حساسیت انسان کا بہت قیمتی سرمایہ ہے سو موجودہ عہد میں لوگوں کی حساسیت کا کھلے عام نظر آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔۔
سوال، اب ظاہر ہے جب تحریر لوگوں کے سامنے جارہی ہے تو لکھنے والے کا اپنی فطرت سے نزدیک ہوکر لکھنا بہتر ہے یا سامع و قاری جو پڑھنا چاہیں اسے لکھنا اچھا ہے؟
جواب_ میرے نزدیک ہر وہ کام جو کسی کی فرمائش یا کہے پر کیا جائے وہ تخلیق نہیں ہے۔ تخلیق ، تخلیق کار کے باطن کا تجربہ اور اس کا اظہار ہے تخلیق کار کوئی آرڈر ٹیکر یعنی حکم کا تابع نہیں ہے کہ سامع یا قاری کے کہے یا ذوق کے حساب سے لکھے میں تو قاری اور نقاد کی موت کا قائل ہوں لہذا ایسی صورت میں کسی بھی مخصوص فرد کے ذوق کو مد نظر رکھنا تخلیق کو قتل کرنے کے مساوی سمجھتا ہوں ۔
سوال _ اب اگر پڑھنے والے رائے زنی کریں تو کیا ایک لکھنے والے کو لوگوں کے رد عمل پر لکھنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے ؟
جواب _ تخلیق کار کو وہی لکھنا چاہیے جو وہ خود لکھنا چاہتا ہے جو اس کا ذاتی تجربہ اور واردات ہے نہ کہ لوگوں کے رد عمل کو سامنے رکھ کر اپنے انداز کر تبدیل کرنا شاید کسی ادیب نے کہا ہے کہ تخلیق کار کا سب سے بڑا ریوارڈ تخلیق کرنے کے بعد کا لطف ہے جو وہ محسوس کرتا ہے میرے خیال میں اظہار یا تخلیق تخلیق کار کا سماج سے فرار اور ایک طرح کا کیتھارسس ہے۔
سوال _ بحثیت قاری آپ خود مطالعہ کے لئے کن کتابوں کو زیادہ منتخب کرتے ہیں؟
جواب _ میں ذاتی مطالعہ کے لئے زیادہ تر شاعری اور کہانیوں کی کتابوں کا انتخاب کرتا ہوں سماجی علوم کے ساتھ بہت وابستگی رہی ہے سو میں بشریات، عمرانیات اور نفسیات کی کتابیں بھی شوق کے ساتھ پڑھتا ہوں۔
سوال ۔ عالمی ادب آپ کے زیر مطالعہ رہا تو کس شاعر یا ادیب نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ؟
جواب _مجھے شاعری میں چار لوگوں نے بہت متاثر کیا میر تقی میر، میر انیس، فرانسیس شاعر آرتھر رامبو اور ایرانی شاعر احمد رضا احمدی جبکہ فکشن میں فرانز کافکا نے مجھے بہت متاثر کیا۔
سوال_ اب آتے ہیں آپ کی شاعری پر۔۔ جو آپ لکھتے ہیں کیا اسے نثری شاعری کہا جاسکتا ہے؟
جواب -میرے خیال میں شاعری، شاعری ہوتی ہے اسے نثری شاعری کہنا میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی درست بات ہے. آپ اسے جدید شاعری کہہ سکتے ہیں اس کو آزاد نظم کہہ سکتے ہیں. جو پرانی شاعری ہوتی رہی ہے قدیم یا جو کلاسیکل شاعری کہیں بھی دنیا میں کسی بھی دور میں ہوتی رہی ہے ۔۔ اگر آپ اسکی تعریف بھی پڑھیں تو شاعری اور موسیقی ایک دوسرے سے کافی قریب قریب رہی ہیں. لوگ شاعری کو گاتے تھے یا شاعری میں ردھم اور بحر وزن وغیرہ جو آیا ہے. میرا نہیں خیال کہ یہ شاعری کا ایسنس ہے. ردھم کا ہونا یہ موسیقی کی بنیاد ہو سکتا ہے لیکن شاعری کی بنیاد یہ نہیں ہے. مطلب آپ کی جتنی فارمز آرٹس کی ہیں ان کا اپنا بنیادی ایسینس ہوتا ہے. جس پر وہ کھڑی ہوتی ہیں. جیسے پینٹنگز ہیں، رقص ہے. موسیقی ہے. تو اسی طرح شاعری کی جو بنیاد ہے وہ موسیقیت نہیں ہے اور یہ جو بحر و ردھم ہے یہ بڑا خارجی سا معاملہ ہے. جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ شاعری میں داخلی موسیقیت ہو اور جو ایک تخلیق کار کا ذاتی سا ایک تجربہ ہے ذاتی سی موسیقیت ہے. وہی اظہار ہے وہی اسکا ذاتی کرافٹ ہے۔ جو اسکا ذاتی اظہار ہے ۔وہی شاعری ہے اور لوگوں کو اب یی سمجھنا چاہیے کہ مغرب میں بھی چارلس بودلے سے لے کر اب تک عرب اور ایران کی بھی جو ماڈرن شاعری ہے اس میں بھی ردھم اور بحر وغیرہ نہیں ہے. اور شاید پوسٹ ماڈرن ایرا جو ہے اس میں جو ماہا بیانیوں کا انکار ہے وہ ایک طرح سے خارج کا انکار ہے. اور ایک طرح سے انسان کو داخل کی دنیا میں دھکیلنے کی بات ہے اور انسان نے اپنے ہی ذاتی تجربات سے جو چیز کہ وہ اظہار کر رہا ہے وہی اس کے لیے اہم ہے. تو یہی وہ شاعری ہے اسی کو نثری شاعری کہنا بھی درست نہیں ہے. آزاد اس کو کہہ سکتے ہیں یہ جدید انداز ہے جسے آپ جدید شاعری کہہ سکتے ہیں.
سوال _ آپکی شاعری میں مزاحمت کا رنگ نمایاں ہے۔۔ پڑھنے والوں کو ایسا تاثر کیوں ملتا ہے؟
جواب _
چونکہ میں معاشرے کے حوالے سے بہت بدبین ہوں۔۔ جسے آپ انگریزی میں پیسیمسٹ کہہ سکتے ہیں اور میرا خیال نہیں کہ معاشرہ کبھی سدھر سکتا ہے. اور یہ محض انسانی وہم اور خیال ہے فطرت کا جو جبر ہے انسان پر۔۔۔۔ اور جو انسان کا گو نگوں ہونا ہے. مطلب آپ یونیورسل سدھار کی کبھی بھی ایک تعریف نہیں کر سکتے. میرے خیال میں یہ انسان کی بہت بڑی غلطی ہے جو معاشرے کے سدھار کی طرف چل پڑتا ہے حالانکہ جو باقی مخلوقات ہیں جو باقی جانداروں کی اقسام ہیں ۔ ان میں یہ سماج سدھار قسم کی چیز نہیں پائی جاتی کہ وہ اس چیز کو دیکھتے ہوں۔ وہ محض زندگی کے ایک سرکل کو پورا کرتے ہیں ۔ اور اسی میں ختم ہو کے وہ خود بھی ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی حالت بدل جاتی ہے. تو میں کسی سدھار کا قائل نہیں ہوں نہ میں کچھ اس کے بارے میں چاہتے ہوئے بھی کہنا چاہتا ہوں ۔۔ ہم چاہتے ہوئے بھی محض اپنے خاص لوگوں میں ہی ان باتوں کو کہہ سن سکتے ہیں آپس میں بات کر سکتے ہیں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی ضروری ہے اور نہ میں اس پہ کوئی پریکٹیکلی اس طرح کے حقوق پر کام کر رہا ہوں. ہاں یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ جو ایک انسان ہے اسکی اپنی جو فطرت ہے۔۔ کہ وہ اپنی زندگی کس ڈھنگ سے جینا چاہ رہا ہے اور کوئی فرد اس کا وہ حق چھین رہا ہو تو اس کے خلاف بات کرنی چاہیے.۔
سوال _ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی یاسیت کی کیا وجہ محسوس ہوتی ہے؟
جواب _
موجودہ عہد میں میرے خیال میں انسان کو اظہار کے لیے بہت سے میڈیمز میسر آگئے ہیں جو شاید پہلے اس طرح نہیں تھے آپ سوشل میڈیا دیکھ لی۔ اب ہر وہ اپنی ذاتی رائے اور اپنی ذاتی کیفیات کا اظہار بھرپور طریقے سے کر رہا ہے اور اس لیے سب کو لگتا ہے کہ شاید یاسیت بہت زیادہ ہے اور بلاشبہ نوجوانوں میں اس کا احساس سب سے زیادہ نظر آتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان تو ہمیشہ سے ہی اداس اور یاسیت کا شکار رہا ہے. پہلے یہ تھا کہ اس کے پاس اظہار کا میڈیم نہیں تھا اور جو سماجی جبر تھا اور جو ایک سماج یا معاشرے لوگوں کو سماج کی کلیت میں دیکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے جو فرد واحد تھا اس کو اپنی ذات کے اظہار کا موقع نہیں ملتا تھا. اب ایسا نہیں ہے. آپ جو فرد ہے اس کو اپنے اظہار کی بھرپور آزادی ہے. وہ جیسا چاہے اظہار کرے اس لیے آپ کو لگتا ہے کہ ماحول میں یاسیت ہے ۔
جبکہ یاسیت ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی. جیسے وینسٹن وینگوف نے بھی کہا ہے کہ اداسی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی.۔
تو اب اظہار کے میڈیم کی بہتات بے یہ ہمیشہ سے موجود چیز ہمارے سامنے رکھ دیی ہے. ایک بات یہ ہوئی ہے. اور دوسری بات یہ ہے کہ ہر فرد کی اداسی حساسیت یا اس کی جو ذاتی کیفیت ہے اس کے بارے میں میں کیسے رائے رکھ سکتا ہوں یا کوئی بھی فرد اس کے بارے میں کیسے رائے دے سکتا ہے چونکہ ہر شخص کی کیفیت مختلف ہے. بہت سے لوگ ہیں جو ایک خاص ٹرینڈ کو فالو کر رہے ہوتے ہیں بہت سے لوگ ہیں جن کے ہاں بنیادی چیزیں ہی مسائل ہیں. تو یہ طرح طرح کی صورتحال ہے اس پر کسی ایک فرد کی رائے حتمی نہیں ہوگی..
سوال۔ کیا لکھنے سے معاشرے میں سدھار کی توقع رکھتے ہیں ؟
اور آپکے لکھنے میں بھی کیا کچھ ایسا ہی لاشعوری طور پر شامل ہے ؟
جواب __ میرا خیال ہے کہ تخلیق کار اور اصلاح کرنے والے میں بہت یعنی زمین و آسمان کا فرق ہے. اصلاح کرنے والا کسی خاص نظریے کے لیے کسی خاص درست اور غلط کی نشاندہی کے بعد وہ اپنے خاص نظرئیے کو معاشرے میں پھیلانا چاہتا ہے۔۔ یا چاہتا ہے کہ لوگ اس کی تقلید کریں. تخلیق کار کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی اصلاح کرتا پھرے اور اگر وہ خاص کسی مخصوص نظریے کے ساتھ جڑتا ہے اور کسی خاص حق اور باطل کی بات کرتا ہے جو ایک انسانی بنائے گئے معیارات ہیں. ظاہر ہے یہ بدلتے رہتے ہیں. ہر ایک کا سچ جو ہے وہ مختلف ہو سکتا ہے اور ایک بندے کی سچائی دوسرے کے لیے جھوٹ بھی ہو سکتی ہے.
میں سمجھتا ہوں کہ بہتر یہ ہے کہ تخلیق کار اور نقاد درمیان سے ہٹ جائیں اور پڑھنے والا یعنی جو قاری ہے وہ خود فیصلہ کرے کہ یہ کیا ہے اس کے لئے اس میں کیا کیفیت ہے ۔۔اسے پڑھ کر وہ کیا نتیجہ حاصل کر رہا ہے. تو اگر آپ کا تخلیق کار کسی خاص نظریے کی بات کرے گا یا اصلاح کرنے کی کوشش کرے گا تو تخلیق، تخلیق نہیں رہے گی. ممکن ہے پڑھنے والے کے لئے اس میں کچھ ایسا تھا کہ اس کو سمجھ میں آ بھی جائے لیکن ایسی تخلیق کی زندگی بہت کم ہوتی ہے وہ بہت جلد مر جاتی ہے.مگر جو جینون تخلیق کار ہے وہ ان تمام چیزوں سے ماورا ہو کر اپنے ذاتی تجربات ہیں جو معنی آفرینی ہے جو اس کے لوازمات ہیں انہیں آگے بڑھاتا ہے۔
وہ اپنے تجربات اور مشاہدات کو بیان کرتا ہے اور نقاد اس میں جو معنی آفرینی ہے اس کوذاتی سمجھ سے پرکھتا ہے۔۔ خود کو بیان کرتا ہے۔
تخلیق کار جتنا بھی لاشعوری طور پہ چیزوں کو دیکھتا ہے اس کے لاشعور کا اثر یا عکس اسکی تحریر یا تخلیق میں پایا جاتا ہے اس کی تخلیق پر. کچھ چیزیں شعوری بھی ہوتی ہیں. ظاہر ہے وہ بہتر زبان اسے بیان کرنا چاہتا ہے۔ زبان بذات خود ایک سوشل فنومینا ہے. زبان کے ساتھ ایک خاص معنی جڑا ہوا ہے تو جب الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک جملہ بناتے ہیں یا جب نظم میں ایک مصرہ بنتا ہے تو اس مصرے کی کلیت کے جو معنی ہیں وہ بہت مختلف ہو جاتے ہیں ۔ اگرچہ بہت سے الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے ہیں اور ہر لفظ اپنی اپنی کلیت دے رہا ہوتا لیکن جب مصرعہ بنتا ہے تو اس کے معنی ایک سے زائد بھی ہوسکتے ہیں . سو ایسی صورتحال میں تخلیق کار کا مصلح بننا یا اصلاح کرنا میرے خیال میں کوئی درست بات نہیں ہے. سو تخلیق کار کو اصلاح کرنے کے بجائے اپنے معنی آفرینی کا جو عمل ہے کریشن آف نیو میننگز، کیفیت، جذبہ یا اس کی تحریر میں جو جو باقی لوازمات ہیں اس کے اظہار یکجہتی اور اس کی تخلیق کے احساس پہ زیادہ توجہ دینی چاہتا ہے۔
سوال _موسیقی انسانی جذبوں میں سوز گداز پیدا کرتی ہے۔
آپ کو موسیقی سے خاص لگاؤ ہے اور خود بھی کبھی کبھار گاتے ہیں اس کا سبب کیا ہے ؟
کیا فنون لطیفہ کی تمام اصناف کسی بھی تخلیق کار کو متوجہ کرسکتی ہے؟
جواب _
جہاں تک موسیقی کا سوال ہے تو موسیقی شروع سے ہی میرے بہت نزدیک رہی ہے ۔۔ ظاہر ہے میں ایک شیعہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ لحن میں فضائل و مصائب کو بیان کیا جائے۔۔ گھروں میں مجالسِ حسینی ہوتی ہیی اور نوحہ و مرثیہ میں سّر ہے شاعری ہے. یوں شاعری اور سْر کے ساتھ موسیقی کے ساتھ میرا بھی بہت شدید لگاؤ ہے. اب جبکہ میں ان چیزوں کو تھوڑا بہتر طریقے سے دیکھ سکتا ہوں ان کو پرکھ سکتا ہوں تو میرا نہ صرف موسیقی کے ساتھ بلکہ آرٹ کی دوسری فارمز جیسے پینٹنگ ہوگئی رقص ہو گیا یا جو فکشن ہے اس کے ساتھ بھی دلی تعلق ہے. تو میرے خیال میں جو کسی نے کہا ہے کہ جو لوگ جتنا حساس ہوتے ہیں وہ اتنا زیادہ سریلے ہوتے ہیں یا سْر میں گاتے ہیں. تو میں بھی کبھی کبھی کوشش کرتا ہوں گانے کی لیکن میں کوئی باقاعدہ گلوکار وغیرہ نہیں ہوں۔۔ یہ ویسے ہی اپنی ذات کی کیتھارسس کے لیے میں گنگناتا ہوں یا کبھی کچھ دوستوں کے ساتھ شیئر کروں تو بس یہی میرا اور موسیقی کا تعلق ہے ۔
اور دوسرے یہ کہ برصغیر میں موسیقی تہذیب کا حصہ رہی ہے ۔۔
بطور خاص موسیقی کے کچھ سْر مراقبوں میں بھی ساتھ دیتے ہیں. مراقبے یا میڈیٹیشن میں خود کو پرسکون رکھنے کے لئے بھی موسیقی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ موسیقی میں ایک خاص کیفیت ہے ۔۔
اس وجہ سے بھی مجھے موسیقی کافی سکون بخشتی ہے. اور میرے خیال میں موسیقی جیسی لطیف چیز کو حرام یا اس پر قدغن نہیں لگائی جانی چاہیے اور لوگوں کو بھرپور موسیقی سننا چاہیے۔. یا جیسا سننے والے کا ذوق ہو جس حوالے سے جس قسم کی بھی موسیقی کے انداز کو وہ پسند کرتے ہوں ان کو سننا چاہیے .۔۔اپنی کتاب کے تعارف میں کیا کہنا چاہیں گے ؟
سوال۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ قارئین کو متوجہ کرسکے گی ۔
جواب _اپنی کتاب کے حوالے سے میں کوئی بات نہیں کہنا چاہتا اصل میں یہ ہے کہ میں ڈیتھ آف آتھر اور ڈیتھ آف کریٹک یعنی مصنف اور نقاد دونوں کی موت کا قائل ہوں. دونوں کی موت سے مراد یہ ہے کہ تخلیق جب سامنے آ جاتی ہے تو پھر اس تخلیق سے کیا سمجھا جا رہا ہے کیا معنی لیا جا رہا ہے اس میں تخلیق کار یا نقاد کو کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے. تو اب قاری جو پڑھتا ہے وہ خود ہی اس سے جو معنی اخذ کرنا چاہے کرے ۔کسی ناظر یا قاری کا کسی تخلیق سے جب براہ راست ربط یا انٹریکشن ہوتا ہے. تو پڑھ کر یا تخلیق کو دیکھ کر انکی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ ایک ہی آرٹ گیلری میں دو افراد ایک ہی پینٹنگ کو دیکھتے ہیں تو دونوں کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں. تو ایسی صورت میں پینٹر یا شاعر یا افسانہ نگار وغیرہ کا اپنی رائے رکھنا کہ اس کا مطلب یہ ہے یا اس کا مفہوم یہ ہے تو میرے خیال میں یہ بات کہنے سے آپ اپنی تخلیق کو محدود کر رہے ہوتے ہیں۔ تخلیق کو جوں ہی آپ محدود کرتے ہیں تو تخلیق کا بنیادی ایسنس یا جو روح ہے وہ برقرار نہیں رہتی ہے. اس لیے تخلیق کو محدود نہیں کرنا چاہیے اور جیسا قاری یا سامع یا دیکھنے والا بھی اس کو سمجھ رہا ہے اپنے انداز سے وہی دراصل اس کا حاصل ہے۔۔ تو میں اس کے بارے میں کوئی اپنی ذاتی رائے نہیں دینا چاہتا۔۔ کہ میری کتاب میں
کیا ہے کیا نہیں ہے۔۔ جو قاری بھی اسے پڑھے گا وہ خود ہی اندازہ کرسکے گا کہ اس میں کیا ہے اور وہ کیسے اپنے آپ کو اس کے موضوع اور مضمون سے کنیکٹ کرتا ہے یا جوڑتا ہے وہ اہم ہے۔۔
سوال _ آپکی کتاب خوابوں سے بھرا کوڑے دان ۔۔
بظاہر اسکا بڑا غیر شاعرانہ سا نام ہے۔۔ کیا اس میں غزلیں اور نظمیں بھی موجود ہیں ؟
جواب –
اس کتاب میں کل ملا کر ساٹھ پینسٹھ نظمیں ہیں ۔۔۔ غزلیں یقینا” نہیں ہیں ۔ نظموں کے ساتھ ہی ساتھ چار یا پانچ مراثی ہیں ۔۔ یہ جدید مرثئیے ہیں ۔شاید میں پہلا فرد ہوں۔۔ جس نے اس طرز کے مرثیوں کا تجربہ کیا ہے چونکہ میر انیس سے اب تک جو مرثیہ لکھا گیا ہے وہ خاص ایک انداز بحر و وزن اور اسکی خاص کرافٹنگ کے طریقہ کار میں تھا. لیکن میں نے اس کو بغیر وزن اور بحر کے ایک جدید طریقے سے اس کو ایک جدید بیانیے کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے. تو اس میں پانچ مرثیے بھی ہیں جو بالکل ایک طرح سے نیا کام ہے. اور کتاب ریڈنگز لاہور سے خریدی جا سکتی ہیں ان کی آن لائن ویب سائٹ سے بھی اسے آرڈر کیا جا سکتا ہے.جلد یہ کتاب کراچی اور اسلام آباد میں بھی حاصل کی جاسکے گی۔
سوال _نو آموز شعرا یا لکھنے والوں اور اپنے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ۔
جواب_ نئے لکھنے والوں کے حوالے سے میری یہی رائے رہی ہے کہ جو فرد بھی لکھ رہا ہے جو کچھ تخلیق کر رہا ہے اس کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس کو بھرپور آزادی دی جائے اس پر کسی قسم کی قدغن نہ لگائی جائے کسی مذہب کی کسی سماج کی کسی بھی نظریے کی وہ جیسے ایک تخلیقی کرب سے گزر رہا ہے تخلیق کی اس واردات سے گزرے اسے اپنی سی کرنے دینا چاہیے. چونکہ تخلیق کار بہت سے ٹیبوز واہمے بھی توڑ رہا ہوتا ہے بہت سی ٹریڈیشن ٹرانزیشنز (روایات) کو بھی توڑ رہا ہوتا ہے. تو اس کے لیے میری رائے میں سب سے اہم جو چیز ہے وہ ایک مکمل آزادی ہے اس کے لیے جس میں وہ کھل کر ٹریڈیشن کا انکار کر سکے اور کسی بھی جابر کے خلاف وہ بات کر سکے جو بھی اس کے اوپر جبر کیا جا رہا ہے.۔اور جابر محض سماجی یا مذہبی جابر نہیں ہے سماجی جبر بھی جابر ہے ۔۔ روایات کا جبر بھی ہے. تو وہ اس کو مکمل آزاد چھوڑ دینا چاہیے جس کی اس کو پوری آزادی دینا چاہیئے تاکہ وہ اپنے طریقے سے بھرپور انداز سے جو وہ خود تخلیق کرنا چاہ رہا ہے کرسکے ۔۔ یہی میرا پیغام بھی ہے کہ اپنی سوچ کو رائے کو آزاد بنا کسی دباؤ کے اظہار کریں۔۔
مدثر نوعمر ہیں ۔۔ بہت وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور معاشرے کو اپنے نظریات پر پرکھتے ہیں ۔
مستقبل سے ناامید نہیں ہیں ۔مگر معاشرے کی بے حسی سے شکایت رکھتے ہیں ۔۔
ایسے نوجوانوں کی توانائیاں صلاحیتیں جلد یا بادیر ضرور کوئی نیا رنگ دکھاتی ہیں ۔
انکے روشن مستقبل اور بہت ساری نیک خواہشات کے ساتھ رخصت چاہیں گی ۔
عالمی اخبار کی جانب سے ان کی اس بے ساختہ گفتگو اور معلومات کے اظہار کے لئے ممنون ہے ۔۔
روما رضوی













