سنو ۔۔!
احساس کے بحر بیکراں میں
اتر کر دیکھو
الہام کے دریدہ پروں پر
وقت نے خون سے لکھ رکھا ہے
“ میں نصاب زندگی کا پیغمبر ہوں
جب چاہوں عشق کو
مقام بندگی سے اتار دوں
ملال کے پتھراچھال کر
روح کو
جسم کی سولی پر چڑھا دوں “
سنو ۔۔۔ !
میرے ساتھ چلو نا
وقت کے ہاتھوں پر بیعت کر لیتے ہیں
اسے منا لیتے ہیں
اپنا بنا لیتے ہیں
سنا ہے
پیغمبر !
پرندوں کو تتلیوں سے محبت سکھاتے ہیں
ڈاکٹر نگہت نسیم













