یوٹرن کی ماہر جماعت کے وزیر اطلاعات کا ایک اور یو ٹرن۔ نوٹیفلکیشن واپس نہیں لیا

0
1640

اسلام آباد میں نیشنل براڈکاسٹنگ ہاوس کی سات منزلہ عمارت لیز پر دینے کے احکامات کے بعد ادارے میں جو شدید بے چینی پھیلی اور جسکے نتیجے میں ملک بھر کے ریڈیو پاکستان کے نشریاتی مراکز پر احتجاجی مظاہرے ہوئے

بدھ کی صبح اسلام آباد میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری وزیر مملکت علی محمد خان اور ڈی جی ریڈیو کے ملازمین کی نمائیندوں سے ملاقات ہوئی جس میں وزیر اطلاعات نے عمارت لیز پر دینے کے احکامات واپس لینے کا اعلان کیا اور احتجاج ختم کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو کے حکام اور نمائیندوں کو قابل عمل تجاویز تیار کرنے کو کہا۔

یو ٹرن کی ماہر جماعت کے وزیر اطلاعات چند ہی گھنٹے بعد ایک اور یوٹرن لیا ہے اور متعدد ٹی وی چینلوں کو واضع طور پر کہا ہے کہ نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا گیا تاہم ملازمین اور ادارے سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تجاویز ارسال کریں یکم اکتوبر تک

انہوں نے کہا کہ ریڈیو اربوں روپے کے خسارے میں ہے کہ ہر سال ساڑھے پانچ ارب روپے خرچ کر رہا ہے اور صرف پنتالیس کروڑ روپیہ کما رہا ہے گویا پانچ ارب روپے ہر سال ریڈیو کو دے رہی ہے اور اس سال سب دینے کے باوجود ایک ارب روپے سے زیادہ کا خسارہ ہے اور اگلے چند سالوں میں یہ خسارہ بڑھنے سے ریڈیو خود ہی بند ہو جائے گا

انہوں نے کہا کہ ہماری لیز کی تجویز ابھی وہیں ہے تا ہم جب ملازمین اور ادارے کی تجاویز آ جا ئیں گی تو دیکھا جائے گا

تازہ ترین صورت حال کے تناظر میں تحریکِ تحفظِ ریڈیو پاکستان کے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ

موجودہ حالات ۔۔۔ اور فواد چودھری صاحب کا دنیا چینل پر تازہ ترین انٹرویو دیکھنے کے بعد ۔۔۔۔ گزارش یہ ہے کہ تحریکِ تحفظِ ریڈیو پاکستان کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس تحریک کو۔۔۔۔ اُن سبھوں سے محفوظ رکھا جائے۔۔۔۔ جن کا اس ادارے کی تباہی میں ۔۔۔۔ بنیادی کردار رہا ہے ۔۔۔۔ یہ سب لوگ ۔۔۔۔ صرف اور صرف اپنی سیاست چمکانے کو ۔۔۔۔ اس تحریک میں کود پڑے ہیں ۔۔۔۔

یہ وہی لوگ ہیں۔۔۔۔ جنہوں نے اپنے اپنے ادوارِ حکومت میں ۔۔۔۔ ریڈیو کے مفاد کو پسِ پشت ڈال کر ۔۔۔۔ اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے ۔۔۔۔ ریڈیو کے ملازمین کو استعمال کرتے ہوئے۔۔۔۔ ریڈیو کے مستقبل کو تاراج کرکے رکھ دیا۔۔۔۔

یہ وہی لوگ ہیں ۔۔۔۔ جنہوں نے ریڈیو میں ۔۔۔۔ وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بغیر ۔۔۔۔ اہل و نا اہل کی بحث سے بالاتر ۔۔۔۔۔ سیاسی بھرتیاں کیں ۔۔۔ جن کا بوجھ براہِ راست پروگرام پر پڑا ۔۔۔۔ اور جن کا طعنہ فواد چودھری صاحب ۔۔۔۔ ہر جگہ دیتے نظر آتے ۔۔۔۔ اور سنائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔

یہ وہی لوگ ہیں ۔۔۔ کہ جنہوں نے ۔۔۔ اپنے بچے ۔۔۔۔ بھانجے ۔۔۔ بھتیجے ۔۔۔ اور دیگر رشتے داروں کو ۔۔۔۔ اہل و نا اہل کی بحث سے قطع نظر ۔۔۔۔کنٹریکٹ یا ڈیلی ویجز پر ۔۔۔۔ ریڈیو میں رکھوایا ۔۔۔۔

یہ سب ناجائز بھرتی کیے ہوئے ۔۔۔۔۔ آج ۔۔۔۔ سب جائز بھرتی کیے ہووں کو لے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔

یہ وہ بھرتی کیے ہوئے لوگ ہیں کہ جن کی اکثریت کو اردو ۔۔۔ یا انگریزی میں ایک فقرہ لکھنا اور بولنانہیں آتا ۔۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ اُس ادارے میں ۔۔۔۔ بڑے ٹھسّے سے گھُسے بیٹھے ہیں جہاں کبھی ۔۔۔ نون میم راشد ۔۔۔ اے حمید ۔۔۔ اشفاق احمد ۔۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔ سلیم گیلانی ۔۔۔ ریاض محمود ۔۔۔۔ خالد اصغر ۔۔۔۔ قمر حسین ۔۔۔ صفدر ہمدانی ۔۔۔ اظہار کاظمی ۔۔۔۔ اور ضمیر صدیقی سے عالی قد ۔۔۔ وضع دار ۔۔۔۔ اور اپنے اپنے ہنر و فن میں یگانہ کام کیا کرتے تھے ۔۔۔۔

یہ وہی لوگ ہیں ۔۔۔۔ جنہوں نے اپنے اپنے چہیتوں کو نوازا ۔۔۔
اپنی سیاسی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ۔۔۔ نہ صرف یہ کہ ۔۔۔۔ خود بھی ریڈیو کا کرتا دھرتا بن بیٹھے ۔۔۔ بلکہ ۔۔۔ خود کو بادشاہ سمجھتے ہوئے ۔۔۔۔ جدھر دل کیا ۔۔۔ ادھر ہی۔۔۔ ریڈیو کے خرچے پر ۔۔۔۔ تاج محل کھڑا کر دیا ۔۔۔۔ ملازمین کو بھرتی کر لیا ۔۔۔۔

جہازوں میں ان کے لئے سفر کا اہتمام کیا ۔۔۔

انہیں نوازنے کے لئے ۔۔۔۔ محافلِ رقص و سرود بپا کی گئیں ۔۔۔۔

اور انہیں میں سے ۔۔۔۔
کسی کو نصف ۔۔۔
کسی کو پونے ۔۔۔۔
اور کسی کو ۔۔۔ پورے لاکھ کے معاوضے پر ۔۔۔۔ مستقل ملازمین کے سینوں پر۔۔۔۔ مونگ دلنے کو پال لیا گیا ۔۔۔۔ اور ان سب کو ۔۔۔ پروگرام کے رزق سے روٹی دی گئی ۔۔۔۔

پروگرام ۔۔۔ جو کہ کسی بھی دوسرے نشریاتی ادارے کی طرح ۔۔۔۔ ریڈیو پاکستان کی بھی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔۔۔ پر ضربِ کاری لگائی گئی ۔۔۔۔ اور ایسے افراد کو ۔۔۔ پورے ریڈیو کے ۔۔۔۔ گلے کی ہڈی بنا دیا گیا ۔۔۔

دور پیپلزپارٹی کا ہو ۔۔۔ یا نون لیگ کا ۔۔۔۔ ہر عہد میں ۔۔۔۔ دیگر اداروں کی طرح ۔۔۔ ریڈیو پاکستان کو بھی قربانی کا بکرا بنایا گیا ،لہٰذا ۔۔۔۔ گذارش یہ ہے ۔۔۔ کہ تاریخ کے اس نازک دور ۔۔۔ اور بقا کی اس خوفناک جنگ میں ۔۔۔

1- ریڈیو کا خیال کریں ۔۔۔ لے پالکوں کا نہیں ۔۔۔۔

 یہ جنگ خود لڑیں ۔۔۔ اور کسی اور کو ۔۔۔ اس جنگ میں ۔۔۔۔خواہ وہ مسٹر کائرہ و سولنگی ہوں ۔۔۔ یا مِس اورنگزیب ۔۔۔۔ خواہ مخواہ شامل کریں نہ ہی ہونے دیں ۔۔۔

 مستقل ملازمین ۔۔۔۔ محنت کا عہد کریں ۔۔۔ اور افرادی قوت کی ضرورت کے نام پر ۔۔۔ ریڈیو پروگرام کے بجٹ پر ۔۔۔۔ سیاسی و رشتہ داری بوجھ سے ۔۔۔۔ چھٹکارا حاصل کرنے کا چارا کریں ۔۔۔۔ اس کے لئے تجویز یہ ہے کہ ایسے سبھی ملازمین کو ٹیسٹ اور انٹرویو کے مراحل سے گزار کر ۔۔۔۔ کامیاب کو رکھیں اور ناکام ہونے والوں سے معذرت کر لی جائے ۔۔۔۔
پی سی ون کی منظوری کے بغیر کھلنے والے ریڈیو سٹیشنز کو بند کرنے میں پس و پیش سے کام نہ لیا جائے ۔۔۔۔
خدا ۔۔۔۔ ریڈیو پاکستان کا حامی و ناصر تبھی ہوگا ۔۔۔ جب ہم خود ۔۔۔ اس کے حقوق کے حامی ہوں گے ۔۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY