عراقی فورسز موصل ہوائی اڈے سے صرف چار کلومیٹر دور

0
406

عراق کی سکیورٹی فورسز نے شمالی شہر موصل کے جنوب میں واقع قصبے حمام العليل سے داعش کے جنگجوؤں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا ہے اور وہ ہوائی اڈے سے صرف چار کلومیٹر دور رہ گئی ہیں۔
عراقی فوج کے لیفٹینٹ جنرل رعد شاکر جودت نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا موصل سے پندرہ کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے حمام العليل کے مرکز پر کنٹرول ہوگیا ہے۔البتہ انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو مکمل طور پر پسپا کردیا گیا ہے۔
موصل کے جنوبی محاذ پر عراقی فورسز نے یہ پیش قدمی موصل کے مشرق کی جانب علاقوں میں حالیہ فتوحات کے بعد کی ہے۔عراقی حکام کے مطابق سرکاری فورسز نے شہر کے اس حصے میں چھے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں دو سال کے بعد پہلی مرتبہ قدم جمانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
جنرل جودت نے الحرا ٹیلی ویژن چینل کو بتایا ہے کہ ایک فوجی یونٹ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ شمال کی جانب سے پیش قدمی کررہا ہے اور ہماری ایلیٹ فورسز موصل ائیرپورٹ سے چار کلومیٹر دور رہ گئی ہیں۔
شہر کے مشرقی محاذ پر ہفتے کے روز عراقی فوج کی کسی مزید پیش قدمی کی اطلاع نہیں ملی ہے اور وہاں فوج کے خصوصی یونٹ قبضے میں لیے گئے علاقوں میں عمارتوں کی تلاشی لے رہے ہیں اور انھیں کلئیر کر رہے ہیں۔
جنرل جودت نے مزید بتایا ہے کہ عراقی فورسز کو شمال کی جانب پیش قدمی کے دوران بارود سے بھری سترہ کاروں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن انھوں نے ان کاروں کو تباہ کردیا ہے۔
عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے مشرقی محاذ کے دورے کے موقع پر ہفتے کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ موصل میں پھنسے ہوئے مکینوں کے لیے ایک پیغام لے کر آئے ہیں اور وہ یہ کہ ہم آپ کو بہت جلد آزاد کرالیں گے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ تین ہفتے سے جاری داعش مخالف مہم کے دوران پیش قدمی کی رفتار توقع سے کہیں بڑھ کر تیز رہی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ خود کش کار بم دھماکوں ،گھات لگا کر فائر کرنے والوں کے حملوں اور سڑک کے کنارے نصب بموں کی وجہ سے میدان جنگ میں پیش قدمی کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ”ہماری بہادر افواج پیچھے نہیں ہٹیں گی اور وہ حوصلہ بھی نہیں ہاریں گی۔یہ ممکن ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں اور مجرمانہ حملوں کی وجہ سے مکمل فتح سے کچھ تاخیر ہو جائے”۔

SHARE

LEAVE A REPLY