چشمہ آب شفا۔امین کنجاہی

0
1286

تری یادوں کے گوہر دل میں لئے بیٹھا ہوں
جو مری آنکھ سے اشکوں کی طرح بہتے ہیں
لوگ یہ پوچھتے ہیں مجھ سے جاناں
کیا تری ذات میں چشمہ ہے کوئی
جس کی برکات سے لوگوں کا بھلا ہوتا ہے
کیا بتاؤں میں اُنہیں یہ ترے ہجر کی آبلہ پائی کا ثمر ہے جاناں
پھر بھی میں خوش ہوں کہ مرے رونے سے

کتنے پیاروں کو شفا ملتی ہے
اب دعا دل کی یہی ہے کہ نہ وصل کی چادر اوڑھوں
میرے ان اشکوں سے لوگوں کا بھلا ہو جائے
میں بھلے خود میں فنا ہو جاؤں
امین کنجاہی

SHARE

LEAVE A REPLY