تری یادوں کے گوہر دل میں لئے بیٹھا ہوں
جو مری آنکھ سے اشکوں کی طرح بہتے ہیں
لوگ یہ پوچھتے ہیں مجھ سے جاناں
کیا تری ذات میں چشمہ ہے کوئی
جس کی برکات سے لوگوں کا بھلا ہوتا ہے
کیا بتاؤں میں اُنہیں یہ ترے ہجر کی آبلہ پائی کا ثمر ہے جاناں
پھر بھی میں خوش ہوں کہ مرے رونے سے
کتنے پیاروں کو شفا ملتی ہے
اب دعا دل کی یہی ہے کہ نہ وصل کی چادر اوڑھوں
میرے ان اشکوں سے لوگوں کا بھلا ہو جائے
میں بھلے خود میں فنا ہو جاؤں
امین کنجاہی













